اسرائیل نے کار بم دھماکے میں ممتاز ترین فلسطینی مصنف کا قتل کیسے کیا؟

تاریخ کے جھروکوں سے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطین میں ہر سال 14 مئی کو ”نکبہ“ کی یاد منائی جاتی ہے، یہ دن فلسطینیوں کے لیے نکبہ (تباہی) کا دن ہے کیونکہ 14 مئی 1948 کو اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کے بعد صہیونی فوج کی طرف سے فلسطینی شہری آبادی کے خلاف ایک طویل دہشت گردی کا آغاز کیا گیا، جس میں ہزاروں عرب فوجی، سیاستدان، مصنفین اور علما کو قتل کیا گیا جبکہ 7 لاکھ 50 ہزار افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو ئے تھے۔

صدام حسین کے دور میں جب عراق نے ایٹمی پروگرام شروع کیا، تو اسے روکنے کے لیے اسرائیلی انٹیلی جنس موساد نے مصری ایٹمی سائنسدان یحییٰ المشد کو قتل کیا۔ اس کے علاوہ 1989ء میں مصری انجینئر سعید السید بدیر پراسرار طور پر انتقال کر گئے۔ یہ شعبہ مواصلات اور سیٹلائٹ کے بڑے ماہر تھے، اگر چہ کئی تفتیش کار اور ماہرین انٹیلی جنس سعید السید بدیر کی موت کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کر سکے کہ اس کی موت کیسے ہوئی تھی مگر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ہی فنا کے گھاٹ اتارا تھا۔

کمال عدوان آپریشن نشانہ بنانے والی بس کی تصویر
کمال عدوان آپریشن نشانہ بنانے والی بس کی تصویر

اس کے علاوہ اسرئیلی خفیہ ایجنسی موساد نے کئی بڑے بڑے نامور مصنفین کو قتل کیا ،جن میں ایک بڑا نام ناول نگار اور مصنف غسان کنفانی کا بھی ہے ۔

غسان کنفانی 9 اپریل 1936ء کو بعکا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد فیاض عبدالرزاق ایک معروف وکیل تھے جنہوں نے فلسطینی قومی تحریکوں میں حصہ لیا اور برطانیہ کی فلسطین میں موجودگی اور یہودیوں کی امیگریشن پالیسی کے خلاف جدوجہد کی۔ جس میں وہ متعدد مرتبہ گرفتار بھی ہوئے۔ کنفانی نے ابتدائی تعلیم جافا میں فرانسیسی کیتھولک سکول میں حاصل کی، جہاں انھوں نے فرانسیسی زبان پر بھی عبور حاصل کیا۔

دلال المغربی کی تصویر
دلال المغربی کی تصویر

1948 میں عرب اسرائیل

جنگ شروع ہونے کے بعد غسان کنفانی کے خاندان نے بھی دیگر لوگوں کی طرح فلسطین کو خیرباد کہا۔ جس کے بعد وہ کچھ عرصہ لبنان میں رہنے کے بعد شام میں منتقل ہو گئے۔ جہاں دمشق میں غسان کنفانی کے والد نے وکیل کے طور پر اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری رکھیں مگر کم معاوضے کی وجہ سے انھوں نے اپنے بچوں کو بھی کام پر لگا دیا۔ لیکن غسان کنفانی نے اپنی ثانوی تعلیم فلسطینی بچوں کے لیے قائم کردہ اقوام متحدہ کے سکول میں جاری رکھی، جہاں انھوں نے 1952ء میں ڈگری حاصل کی۔

ابو ندال کی نصویر
ابو ندال کی نصویر

جس کے بعد کنفانی نے مسئلہ فلسطین ،ثقافت اور سیاست پر 18 کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھے۔ بعد ازاںان کی کتابوں اور ناولوں کا 20 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔

اسی دوران غسان کنفانی (PFLP) کے رکن اور سرکاری ترجمان بھی رہے اور 1953ء میں جارج حبش سے ملاقات کے بعد عرب نیشنلسٹ موومنٹ میں شامل ہو گئے۔

جس کے بعد غسان کنفانی لبنانی”اخبار المحرر“ کے ساتھ بطور چیف ایڈیٹر منسلک ہو گئے، بعد ازاں وہ (PFLP) کے”الانوار اخبار“ میں بھی کام کرتے رہے، جس کے بعد کے ”اخبار الحدف“ کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ بعد ازاں انھوں نے کویت میں تدریس کے شعبے کو اپنایا، جہاں انھوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کے تعلیم کے شعبے میں ایک مقام پیدا کیا۔

مئی 1972ء کے آخر میں ”لد ہوائی اڈے“ کے آپریشن میں 26 اسرائیلی مارے گئے۔ اسرائیل اس آپریشن کے بعد غضبناک ہو گیا، اس نے اس کارروائی کا پی ایف ایل پی سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے اسرائیل نے جاپانی ریڈ آرمی کے جنگجووں سے بھی مدد لی۔

1981 میں لبنان میں اسرائیلی فوج
1981 میں لبنان میں اسرائیلی فوج

اسرائیلی حکام نے پی ایف ایل پی کی کسی نمایاں شخصیت کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے اسرائیلی حکام نے غسان کنفانی کا انتخاب کیا۔ تاریخ میں 1972ء میں روم میں قتل ہونے والے وائل زوئٹر کے بعد تاریخ میں سب سے نمایاں شخصیت کے طور پر فلسطینی نژاد ناول نگار اور مصنف غسان کنفانی کا ذکر ہے۔

اس کی دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ اسرائیلی ایجنسی موساد کنفانی کی تحریروں اور سرگرمیوں سے خوفزدہ رہتی تھی کیونکہ کنفانی کی تحریروں نے نسل نو میں بیداری کی لہرپیدا کی رکھی تھی ۔

آٹھ جولائی 1972ء کو موساد نے کنفانی کی گاڑی کے نیچے 3کلو گرام وزنی بم رکھا اور اسے گاڑی کی چابی کے ساتھ منسلک کر دیا۔ غسان کنفانی جیسے ہی اپنی کار آسٹن 1100 جو برطانوی کمپنی لی لینڈ کی تیارکردہ تھی، اس میں سوار ہوا۔ اور گاڑی سٹارٹ کی، تو اس میں دھماکہ ہو گیا، جس سے وہ اپنی17 سالہ بھانجی لامیس نجم کے ساتھ ہی جاں بحق ہو گیا۔

غسان کنفانی فلسطینیوں میں اس قدر مقبول تھے کہ آج بھی ہر سال 8 جولائی کو ان کی برسی پر”لالٹین“جلا کر یروشلم کو روشن کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں