اختلافات ناگزیر، فرقہ واریت سے بالا تر ہوں: مکہ کانفرنس دستاویز

مکاتب فکر کا تعلق مقامی، وقتی اور رواجی حالات سے بھی ہے: ’’پُلوں کی تعمیر‘‘ کانفرنس کی دستاویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

رابطہ عالم اسلامی کے تحت ’’ اسلامی مکاتب فکر کے درمیان پُلوں کی تعمیر‘‘ کے عنوان سے کانفرنس کی دستاویز جاری کردی گئی۔ مکہ کانفرنس کی دستاویز میں اسلام کے رہنما اصولوں کی تقلید کرتے ہوئے فرقہ وارانہ لڑائیوں کے سانحات پر قابو پانے پر زور دیا گیا ہے۔

دستاویز میں زور دیا گیا کہ اختلاف کے بیان میں اچھی بات چیت کے آداب سے آگاہی ہونا شرط ہے۔ اس دوران محتاط رہتے ہوئے دوسروں کی درجہ بندی، دین سے اخراج ، ہتک عزت اور منفی پہلو کو بڑھا کر پیش کرنے اور گمراہ کن تکفیر کے خطرات کو رد کرنا ہوگا۔

فرقہ واریت سے سب سے زیادہ مشترکہ عظمت کے احساس کو متاثر کرتی ہے۔ یہ احساس اسلام ہے۔ دستاویز میں کہا گیا کہ کانفرنس کا مشترکہ مقصد اسلام کی ساکھ کی حفاظت اور اس کے ہر پہلو کی حفاظت پر توجہ دینا ہے۔ دستاویز کا متن اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مسلمان ایک قوم ہیں اور ایک رب کی عبادت کرتے ہیں۔ تمام مسلمان ایک ہی کتاب کی تلاوت کرتے اور ایک نبی کی پیروی کرتے ہیں۔ خواہ ان کے گھر کتنے ہی دور ہوں لیکن سب مسلمان متحد ہیں۔ اللہ تعالی نے سب کے لیے ایک ہی نام ’’ مسلمان‘‘ رکھا ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی ایسے خارجی ناموں اور وضاحتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے جو الگ یا یکجا ہوں۔

دستاویز میں زور دیا گیا کہ اسلام کا پیغام اپنے منبع میں ربانیت، اپنے عقیدے میں توحید، اپنے مقاصد میں آسمانی اور اپنی اقدار میں انسانیت ہے۔ اسلام اپنی قانون سازی میں دانشمندانہ ہے اور سب کے لیے بھلائی لاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے " اور مسلمانوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مہذب کردار کو مزید بحال کریں تاکہ مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

دستاویز میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ اسلام کی سچائیاں وہ ہیں جو وحی کے ذریعہ سے ثابت ہیں اور ان کی نمائندگی قرآن پاک میں کی گئی ہے اور جن کا نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے منتقل ہونا ثابت ہے یا ان پر اجماع ہیں۔ یا جن پر اہل علم اور اہل ایمان نے اجتھاد کیا ہے۔ اسلام کے تنوع اور اختلافات سے نمٹنے کے لیے معروف آداب اور قواعد موجود ہیں۔

’’ پُلوں کی تعمیر‘‘ دستاویز میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسلام خدا کا وہ آخری پیغام ہے جو نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔ کوئی بھی، چاہے وہ کتنا ہی باشعور اور صالح کیوں نہ ہو، اسلام میں کچھ بھی شامل یا کم نہیں سکتا۔ دستاویز میں یہ آیت بھی پیش کی گئی جس کا مفہوم ہے کہ "کہیے: یہ میرے اختیار میں نہیں ہے کہ اس کو اپنی مرضی سے بدل دوں، میں صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں‘‘

دستاویز میں پانچ ضروریات کے تحفظ میں شریعت کی قانون سازی کی تکمیل پر زور دیا گیا ۔ ان پانچ مقاصد شریعت میں پہلا مقصد اسلام کی شناخت ہے۔ دوسرے مقصد میں زندگی اور اس کے وقار کی سلامتی شامل ہے۔ تیسرے میں معاشرے کا توازن بگڑنے سے روکنے کے لیے عقل کی سلامتی پر زور دیا گیا ہے۔ حوتھے مقصد میں عزت، معاشرے کی اقدار، فرد اور گروہ کی حفاظت شامل ہے اور پانچواں مقصد مال کا تحفظ کرنا، اس کے غلط استعمال اور بدعنوانی کو روکنا ہے۔

عصر حاضر میں قومی ریاستوں کی کثرت کو دیکھتے ہوئے ایک چھٹی ضرورت بھی ہے۔ اب وطن اور اس کی شناخت کا تحفظ، اس کی سلامتی اور اس کے عمومی مفادات کے تحفظ کو بھی شریعت کی قانون سازی کا ایک مقصد کہا جاسکتا ہے۔

"اسلامی مکاتب فکر کے درمیان پل کی تعمیر" نامی دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ اعتدال پسندی کا کردار پیدا کرنا ان الہی علماء اور فقہاء کی ذمہ داری ہے جو اپنی قوم اور اس کے اداروں کے نظام میں گہری جڑیں رکھتے ہیں۔ خاص طور پر یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کے حقائق کو واضح کرنے، اس کے موروثی فضائل اور رواداری کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔

مسلمانوں میں فرقوں اور نظریات کی کثرت کو پہلے سے طے شدہ آفاقی قوانین میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ قوانین خالق قادر مطلق کی حکمت کی وجہ سے اختلاف اور تنوع کی ناگزیریت کو متعین کرتے ہیں۔ اسلام میں یہ اختلافات بھی دنیا میں کارفرما منظم عوامل کی وجہ سے ہی ہیں۔

جہاں تک اسلامی مکاتب فکر کی بنیادوں کا تعلق ہے تو ان مکاتب فکر کا تعلق مقامی، وقتی اور رواجی حالات سے بھی ہے۔ ان بنیادوں کو سمجھنا، ان سے آگاہی حاصل کرنا اور ان کے ساتھ حکمت کے ساتھ پیش آنا ضروری ہے۔ تقسیم اور اختلاف کے اسباب کے خلاف سب سے مقدم رویہ احتیاط کا ہے۔

اسلامی فرقوں کے پیروکاروں کو جو چیز متحد کرتی ہے وہ اس سے بڑی ہے جو انہیں تقسیم کرتی ہے۔ خاص طور پر کلمہ شہادت ادا کرنے کے بعد اس کے مطابق زندگی گزارنے کا مقصد ایسی چیز ہے جو مسلمانوں کو اسلامی اخوت کے تقاضوں کے لحاظ سے متحد کرتی ہے۔ اتحاد کا تقاضہ اس چیز سے بڑا ہے جس کے باعث وہ اختلاف کرتے ہیں۔ مسلمان کو لازم ہے کہ ہر حال میں صحیح راستہ تلاش کریں اور اس پر عمل کریں۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلامی میڈیا ڈسکورس کا مقصد اسلامی تنوع کے درمیان بھائی چارے اور تعاون کو مضبوط کرنا، اس کے بارے میں آگاہی پھیلانا اور اسلام کے اندر غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔

دستاویز میں متنبہ کیا گیا کہ روایتی اور نئے میڈیا کا منفی استعمال تنازعات کو بڑھا رہا ہے اور اسلام کے اندر دشمنی کو ہوا دے رہا ہے۔ دستاویز نے متنبہ کیا کہ میڈیا پیغام کو اچھے الفاظ اور ایسے بامعنی مکالمے پر بھروسہ کرنا چاہیے جو لوگوں کو قریب لائے۔ اسلامی اخوت کی اقدار کے مطابق تکبر، تشدد اور بدنام کرنے سے دور ہو اور مسلمانوں میں یکجہتی پیدا کرے۔

دستاویز میں تنازعات کے خلاف تنبیہ کرنے، اس کے اسباب سے بچنے، اس کے بھڑکانے والوں اور فروغ دینے والوں کا مقابلہ کرنے اور ایک قوم کے لوگوں اور اسلامی معاشرے میں عام طور پر ایسے فقروں، نعروں اور فرقہ وارانہ طریقوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا گیا جن کا مقصد اسلامی بھائی چارے کو نقصان پہنچانا ہے۔ دستاویز میں مزید کہا گیا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بے شک مومن بھائی بھائی ہیں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں