رمضان المبارک کے دستر خوانوں پر گرم سوپ، ایک صحت مند آپشن

غذائی ماہرین کا گھریلو شوربے پر مبنی سوپ کھانے کا مشورہ، سوڈیم اور سیچوریٹڈ چکنائی کی زیادہ مقدار والے ریڈی میڈ کھانوں سے متعلق انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

رمضان کا کوئی دستر خوان گرم سوپ کی پلیٹ کے بغیر نہیں ہوتا۔ روزہ دار افراد افطاری میں اسی سے کھانا شروع کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ گرم سوپ پورے ماہ صیام میں سب سے اہم انتخاب ہے۔ سوپ کا ایک گرم پیالہ ضروری غذائی اجزا کی کثرت کی وجہ سے آپ کو پیٹ بھرا ہوا اور گرمی کا احساس دلا سکتا ہے، یہ سوپ گاڑھا، کریمی ہو یا ہلکا شوربا ہوسکتا ہے۔

ویب سائٹ ’’ ایٹ دِس ناٹ دیٹ‘‘ کے مطابق گرم سوپ کھانے کے بہت سے فوائد ہیں، لیکن اس کے متعلق کچھ تحفظات بھی ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

شکم سیری کا احساس

ماہر غذائیت لورا براک بتاتی ہیں کہ وہ غذائیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے وہ تیزی سے شکم سیری کا احساس دلاتی ہے۔ کھانا سوپ یا سلاد کے ساتھ شروع کرنا، چاہے وہ زیادہ مقدار میں پانی ہو یا کم کیلوریز والی غذاؤں پر مشتمل ہو، پیٹ بھرنے کا ایک احساس فراہم کرتا ہے۔ اس کو زیادہ مقدار میں پینے سے گریز کرنا چاہیے۔ سوپ کے ذریعہ آپ کم کیلوریز کے ذریعہ زیادہ مطمئن محسوس کر سکتے ہیں۔

لورا برک نے مشورہ دیا کہ کہ بھوک اور زیادہ کھانے سے بچنے کے لیے سوپ کی پلیٹ بھرپور غذائی اجزاء سے بھری ہوتی ہے۔ آپ کو کم سوڈیم والے سوپ پر قائم رہنا چاہیے۔ اس میں سبزیاں، جڑی بوٹیاں، مصالحے، فائبر سے بھرپور اناج، پھلیاں، مٹر، اور دال جیسے غذائی اجزا ہوتے ہیں۔

کم کیلوریز

سوپ کے ذریعہ آپ کم کیلوریز کے لیے زیادہ غذائی اجزاء حاصل کر سکتے ہیں۔ سوپ دراصل وزن میں کمی اور موٹاپے کے خطرے کو کم کرنے کا ایک اہم عنصر ہے۔ ڈاکٹر براک نے بتایا کہ شوربے پر مبنی سوپ بھرپور غذائیت کی نمائندگی کرتا ہے، خاص طور پر جب اس میں سبزیاں، پھلیاں یا دال موجود ہوں۔

وال سٹریٹ جرنل کی فہرستوں کے مطابق سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب "کک بک" کے مصنف نیوٹریشن ماہر ڈاکٹر ٹوبی امیڈور کا خیال ہے کہ سوپ غذائیت کا ایک بہترین ذریعہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا "اگر سوپ کی ڈش شوربے پر مبنی ہو۔ اور اس میں بہت ساری سبزیاں، پھلیاں شامل کی جاسکتی ہیں اور فائبر، اینٹی آکسیڈنٹ، وٹامن اے اور سی اور پوٹاشیم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

کریم اور سوڈیم

ماہرین ایسے سوپ کھانے کے خلاف خبردار کرتے ہیں جن میں کریم شامل ہواور جو شوربے کی بجائے مکھن اور دیگر چکنائی سے بھرپور اجزا پر مشتمل ہوں۔ ایسے سوپ کیلوریز اور سیچوریٹڈ فیٹس سے بھرے ہوتے ہیں ۔بہت سے غذائی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سوپ کا انتخاب کرتے وقت یہ جاننا ضروری ہے کہ کسی بھی سوپ میں کریم اور چکنائی زیادہ نہ ہو۔ شوربے کی بجائے بھاری کریم کے ساتھ بنائے گئے سوپ کیلوری کے بم ہو سکتے ہیں، اور ان میں سیر شدہ چکنائی زیادہ ہوتی ہے جو دل کی صحت کے لیے برا ہے۔ ڈاکٹر امیڈور بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے سوپ غیر صحت بخش ہو سکتے ہیں کیونکہ ان میں سیر شدہ چکنائی ہوتی ہے جو دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔

سیچوریٹڈ چربی میں زیادہ ہونے کے علاوہ ایسے سوپ میں سوڈیم کی ضرورت سے زیادہ مقدار بھی ہو سکتی ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اوسطاً ایک فرد روزانہ 2,300 ملی گرام سوڈیم سے زیادہ استعمال نہ کرے، لیکن چکن سوپ کے ایک باقاعدہ کین میں فی سرونگ 890 ملی گرام سوڈیم ہو سکتا ہے۔

صحت مند آپشن، لیکن

ڈاکٹر براک کے مطابق اگرچہ سوپ ایک صحت بخش آپشن ہو سکتا ہے، لیکن اس میں سوڈیم کی زیادہ مقدار ہو سکتی ہے۔ خاص طورپر جب اسے گھر میں بنانے کے بجائے ریڈی میڈ خریدا جائے۔ اسی لیے سوڈیم کی زیادہ مقدار سے بچنے کے لیے گھر میں بنے سوپ پر ہی انحصار کرنا بہتر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں