اسرائیلی اور فلسطینی بینکوں کے درمیان تعلقات منقطع کرنے کا مطلب کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ اگر یورپی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہیں تو انتقامی اقدام کے طور پر وہ صہیونی اور فلسطینی بینکوں کے درمیان تعلقات منقطع کردے گا۔ یہ اقدام فلسطینیوں کے لیے بڑے انسانی خطرات کا باعث بن جائے گا۔

ناروے، آئرلینڈ اور سپین کی جانب سے 28 مئی سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹریچ نے کہا ہے کہ وہ ناروے کو رقوم کی منتقلی روک دیں گے۔ فلسطینی اتھارٹی کے لیے جمع کی جانے والی ٹیکس فیس روک دیں گے۔ فلسطینی بینکوں کے ساتھ بینکاری تعلقات منقطع کر دیں گے۔

اوسلو معاہدہ اور ناروے کا کردار

ناروے نے 1990 کی دہائی میں اوسلو معاہدے سمیت جن معاہدوں کی جزوی طور پر ثالثی کی تھی ان معاہدوں کے تحت اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے لیے رقم جمع کرتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے کے کچھ حصوں میں محدود خود مختاری کا استعمال کرتی ہے۔ لیکن 7 اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو مالیات کی منتقلی روک دی ہے۔ ناروے، آئرلینڈ اور سپین کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلان کے اقدام نے اسرائیل کو سخت برہم کردیا ہے۔

بینکنگ تعلقات کے انقطاع کا مطلب

اسرائیلی اور فلسطینی بینکوں کے درمیان بینکنگ تعلقات منقطع کرنے کا مطلب ہے کہ فلسطینی بینک مالیاتی منتقلی اور تجارتی لین دین کے لیے اسرائیلی بینکنگ سسٹم کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ تعلقات منقطع ہونے سے

1۔ نامہ نگار بینکنگ خدمات روک دی جائیں گی: فلسطینی بینک اسرائیلی بینکوں کے ذریعے رقم بھیجنے اور وصول کرنے سے قاصر ہوجائیں گے۔

2۔ بین الاقوامی ادائیگیوں میں خلل: اسرائیلی بینکنگ سسٹم سے گزرنے والی بین الاقوامی مالیاتی منتقلی کو انجام دینے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

3۔ مالیاتی منتقلی کا انقطاع: اسرائیل کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی کے لیے جمع کیے گئے ٹیکسوں اور کلیئرنس ریونیو سے متعلق رقوم کی منتقلی رک جائے گی۔

4۔ تجارت متاثر: درآمدات اور برآمدات جو مالیاتی لین دین کو مکمل کرنے کے لیے بینکنگ سسٹم پر انحصار کرتی ہیں متاثر ہوجائیں گی۔

معاشی اور انسانی اثرات

بجلی، پانی، ایندھن، اور خوراک۔ جیسی اہم درآمدات رک جائیں گی۔ برآمدات بند ہوجائیں گی تو فلسطینی معیشت شدید متاثر ہوجائے گی۔ فنڈنگ اور ضروری خدمات کی کمی کی وجہ سے بڑھتا ہوا انسانی بحران مزید شدید ہوجائے گا۔

بین الاقوامی انتباہات

امریکی نائب وزیر خارجہ کرٹ کیمبل نے تصدیق کی کہ اسرائیلی اور فلسطینی بینکوں کے درمیان رابطے منقطع کرنے کی اسرائیلی دھمکی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی ٹیکس فنڈز جاری کرے۔

امریکی وزیر خزانہ ییلن نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطینی بینکوں کو الگ تھلگ کر دیا گیا اور اسرائیلی بینکنگ سسٹم تک رسائی سے انکار کیا گیا تو انسانی بحران پیدا ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اقدام لین دین کو روک دے گا جس سے اسرائیل سے سالانہ تقریباً 8 بلین ڈالر کی درآمدات اور 2 بلین ڈالر کی فلسطینی برآمدات متاثر ہوجائیں گی۔

اٹلی میں جی سیون وزرائے خزانہ کے اجلاس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی بینکوں کے لیے بینکنگ خدمات کی "ضمانت" دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں