سب سے افضل قربانی بھیڑ کی پھر اونٹ کی ہے: مصری دارالافتاء

مصری دارالافتاء کی جانب سے قربانی سے متعلق اہم مسائل اور ان کے قرآن وسنت کی روشنی میں جوابات جن کے بارے میں ہر مسلمان جاننا چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عیدالاضحیٰ کی آمد آمد ہے اور دنیا بھر میں مسلمان عید بقر کےساتھ ساتھ اس سے جڑی کی رسم کے بارے میں علماء سے استفسارات کر کے قربانی کے مسائل پر رہ نمائی حاصل کرتے ہیں۔

اسی ضمن میں مصری دارالافتاء سے بھی شہریوں کی طرف سے قربانی کے مسائل کی بابت استفسارات کیے گئے جس پر دارالافتاء نے قرآن وسنت کی تعلمات کی روشنی میں ان کے جوابات دیے ہیں۔

دارالافتاء کی جانب سے قربانی کے جانوروں کی فضیلت، گوشت کی تقسیم اور جانوروں کو ذبح کرنے سے متعلق امور میں رہ نمائی کی گئی ہے۔

کیا قربانی کے جانوروں کو ایک دوسرے پر فضیلت حاصل ہے؟

اس سوال کے جواب میں دارالافتاء نے وضاحت کی کہ فقہاء کے درمیان قربانی کے جانوروں کو ایک دوسرے پر فضیلت دینے میں اختلاف ہے۔ تاہم عموما فتویٰ یہ ہے کہ قربانی میں بھیڑ کو فضلیت حاصل ہے۔ اس کے بعد اونٹ اور پھر گائے کو فضیلت حاصل ہے۔

نبی اکرم ﷺ سے مختلف جانوروں کی قربانی ثابت ہے۔ آپﷺ بھی بھیڑوں میں سے مینڈھے کی قربانی بھی دیتے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’آپ ﷺ دو دنبوں کی قربانی دیتے تھے اور میں بھی دو دنبوں کی قربانی کرتا ہوں‘‘۔

کیا ہر مسلمان پر ہر سال قربانی واجب ہے یا زندگی میں ایک بار کافی ہے؟

اس سوال کے جواب میں دارالافتاء کی رائے یہ ہے کہ قربانی سنت موکدہ ہے اور صاحب استطاعت پر ہر سال واجب ہے۔ یہ نماز کی طرح وقت کے تکرار کے ساتھ واجب ہوتی ہے۔

اس حوالے سے رسو اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے کہ«يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ في كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَةً». اے لوگوں ہر کنبے پر ہر سال قربانی لازم ہے‘۔

کیا قربانی کے جانور کے گوشت کو ذخیرہ کیا جا سکتا ہے؟

مصری دارالافتاء کا کہنا ہے کہ جمہور فقہاء کے نزدیک قربانی کے جانور کا گوشت گھر میں ذخیرہ کرنا جائز ہے۔

آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ ’میں تمہیں قربانی کے تین حصوں سے زیادہ کرنے سے منع کرتا ہون۔ تم اپنے لیے اتنا رکھو جتنا مناسب ہو‘۔

گوشت کی تقسیم اور اس کی فروخت کا مسئلہ

دارالافتاء سے استفسار کیا گیا کہ قربانی کے گوشت کو فروخت کیا جا سکتا ہے تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ عطیات جمع کرنے کی غرض سے گوشت فروخت کیا جا سکتا ہے، تاہم جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کی خریدو فروخت ممنوع ہے۔ اگر کوئی پیسوں کے لیے ایسا کرتا ہے تو اس کی قطعا کوئی گنجائش نہیں۔

قربانی کے گوشت کی تقسیم کے بارے میں اصول یہ بتایا گیا ہے کہ گوشت کے تین حصے کیے جائیں۔ ایک حصہ قربانی دینے والا خود رکھے۔ دوسرا حصہ صدقہ کرے اور تیسرا عزیزو اقارب میں تقسیم کرے۔ البتہ وہ ایک تہائی سے زیادہ خود بھی رکھ سکتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے ہیں۔ایک آپ کا ایک آپ کے گھروالوں کا اور تیسرا مساکین کا۔

جانور کا سر تقسیم کرنا یا فروخت کرنا جائز نہیں

مصری الافتاء کا کہنا ہے کہ قربانی کا اصل مقصود مستحق لوگوں تک گوشت پہنچانا ہے۔ اس لیے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد اسے لوگوں میں بانٹا جائے گا۔ قربانی کے جانور کی اوجھ اور دیگر اندرونی حصے کے گوشت کو تقسیم کرنے میں کوئی ممانعت نہیں۔ اگر کوئی گوشت تقسیم نہیں کرتا تو بھی کوئی حرج نہیں۔ البتہ جانور کے سر کو تقسیم کرنا یا اسے بیچنا جائز نہیں۔

جانوروں کو سڑکوں پر ذبح کرنے کی ممانعت

مصری دارالافتاء کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر قربانی کے جانور ذبح کرنا اور اس کی الائشوں کو راستوں میں پھینکنا سخت منع ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور بیماریاں پھیلتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں