صحت : بینائی کی بہتری کے لیے طرز زندگی میں پانچ سادہ تبدیلیاں
آج کے ڈیجیٹل دور میں انسان کا اپنی بینائی کے حوالے سے فکر مند ہونا ایک قدرتی بات ہے۔ اس کی وجہ آنکھوں پر دباؤ، عمر کے ساتھ ہونے والی تبدیلیاں، خراب غذائی نظام، پانی کی کمی، نیند کمی اور دیگر عوامل شامل ہیں۔
بھارتی اخبار Times of India کے مطابق اگرچہ پیشہ ورانہ مشاورت کے بغیر بینائی کی درستی ممکن نہیں تاہم متوازن غذائی نظام، آنکھوں کی مستقل ورزش اور طرز زندگی میں بعض تبدیلیاں بینائی کی بہتری میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں، جیسا کہ :
1 - آنکھوں کی ورزشیں
آنکھوں کی ورزشیں دورانِ خون بڑھا کر آنکھوں کے کمزور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں مدد کر سکتی ہیں۔ جسم کے دیگر پٹھوں کی طرح آنکھ کے پٹھوں کو بھی تیز نظر کو یقینی بنانے کے لیے مضبوطی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں بعض ورزشیں اہم ہوتی ہیں جیسا کہ : آنکھوں کو گھڑی کی سوئیوں کی سمت میں حرک دینا، دور کی چیزوں پر نظر مرکوز کرنا اور آنکھوں کو 8 کی شکل میں خیالی طور پر گھمانا شامل ہے۔ کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزارنے والے افراد کے لیے یہ بہت اہم ورزشیں ہیں۔
2 - جسمانی ورزشیں
باقاعدگی کے ساتھ جسمانی ورزش طرز زندگی میں بنیادی تبدیلی شمار ہوتی ہے۔ یہ بینائی کی بہتری میں مدد کر سکتی ہے۔ باقاعدگی کے ساتھ ورزش آنکھوں کے لیے آکسیجن اور غذا کی فراہمی بہتر بناتی ہے۔ ورزش کے ذریعے خون کا دباؤ منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو آنکھ کی اچھی صحت میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
3 - غذائی تبدیلیاں
وٹامنA اورE ، پتوں والی سبزیوں، گاجر، پھلوں کی ترشی اور مچھلی پر مشتمل غذائیں اچھی بینائی برقرار رکھنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔
4 - اسکرین ٹائم محدود کرنا
بینائی کمزور ہونے کی ایک اہم وجہ اسکرین کے استعمال میں زیادتی ہے۔ خواہ کوئی شخص ٹیلی وژن دیکھے یا کمپیوٹر پر کام کرے اور یا پھر اپنے اسمارٹ فون پر براؤسنگ کرے۔ بینائی کی بہتری کے لیے اسکرین کے استعمال میں وقفے لینا بے حد ضروری ہے۔
5 - روشنی بہتر بنانا
آنکھوں پر دباؤ کے پیچھے روشنی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ لہذا اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ گھر کے کمروں میں روشنی کا مناسب انتظام ہے تا کہ بینائی متاثر نہ ہو۔ اگر بیٹھے کی جگہ پر بہت تیز روشنی ہو تو یہ آنکھ پر دباؤ یا بینائی میں دھندلاہٹ کا باعث بن سکتی ہے۔