اطمینان اور خوشی حاصل کرنے کے لیے آٹھ حیرت انگیز عادات فورا اپنائیں
تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں کامیابی کے لیے جہد مسلسل اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے، کیونکہ تبدیلی راتوں رات نہیں آتی۔
ایسے میں اگر کوئی شخص خود کو پھنسا ہوا، غیر مطمئن یا ناخوش محسوس کرتا ہے، تو یہ اچنبھے کی بات نہیں۔
مگر ، رہن سہن میں کچھ آسان تبدیلیاں لا کر آپ خوشی سے بھرپور مطمئن زندگی پا سکتے ہیں۔ جیسے کہ:
1. ارتکاز توجہ
توجہ کو مرتکز کرنا آسان لگتا ہے، لیکن پلک جھپکتے ہی پریشان کن خیالات سے دور ہونا حیرت انگیز طور پر مشکل ہے۔
اپنے ذہن میں ماضی کی گفتگو کو دہراتے ہوئے مسلسل مشغول رہنا، یا مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے اس کی فکر کرنا خوشی سے محرومی کا باعث بنتا ہے۔
مائنڈفلننس موجودہ وقت میں پوری طرح چوکس رہنے کا نام ہے۔ دھیان سازی کی مشق کے لیے آپ ہر روز صرف 5 منٹ کا وقت رکھ کر آہستہ آہستہ اسے بڑھا سکتے ہیں۔
2. باقاعدگی سے ورزش کریں۔
باقاعدگی سے ورزش کرنے سے آپ اپنی توانائی کی سطح اور مزاج میں بڑی تبدیلی محسوس کریں گے۔
ورزش اینڈورفنز کے اخراج میں مدد کرتی ہے، دماغی کیمیکل جو قدرتی موڈ بڑھانے کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ تناؤ کم کرنے، نیند بہتر بنانے اور خود اعتمادی کو بڑھانے میں بھی مدد کرتا ہے۔
آپ صرف تیراکی، سائیکلنگ، یا دن میں کم از کم 30 منٹ سے 10 منٹ پیدل چلنے سے آغاز کر سکتے ہیں۔
3. تشکر جرنلنگ
شکر گزار بنیے اور اچھی باتوں کو ڈائری میں لکھیے۔ اسے لکھنے کا عمل منفی واقعات سے توجہ ہٹا کر زندگی کے مثبت پہلوؤں کی طرف منتقل کرتا ہے، جس سے زیادہ اطمینان محسوس کرنے میں مدد ملتی ہے۔ آپ ہر روز چند منٹ لے کر محض تین ایسی چیزیں لکھ سکتے ہیں جن کے لیے آپ شکر گزار ہیں۔
4. ناکامی کو قبول کریں۔
ناکامی، غلطی کرنے، یا کسی چیز میں کامیاب نہ ہونے کا خوف انسان کو نئی چیزوں کی کوشش کرنے سے روکتا ہے، اور بالآخر اس کی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔
زندگی میں آنے والی ناکامی کو کامیابی کی راہ میں صرف ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھیے۔ یہ رویہ ، آپ کے لیے سیکھنے، بہتر بننے اور مزید علم حاصل کرنے کے دروازے کھول دیتا ہے۔
5. خود سے دوبارہ جڑنے کے لیے منقطع کریں۔
مسلسل ڈیجیٹل رابطے ایک شخص کو حقیقی دنیا سے منقطع کر دیتے ہیں۔
لہذا، ضروری ہے کہ دن کے کچھ گھنٹے مختص کیے جائیں جن میں آپ فون، کمپیوٹر، ٹی وی اور دیگر آلات سے بالکل دور رہیں۔ ڈیجیٹل ڈیٹوکس ایک شخص کو خود سے دوبارہ جڑنے میں مدد کرتا ہے۔ آن لائن رابطہ انقطاع سے ہمیں تنہائی کے لمحات سے لطف اندوز ہونے، غور و فکر کرنے، اور واقعی پر لطف مشاغل اور سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت حاصل ہوتا ہے۔
6. زہریلے تعلقات سے نجات حاصل کریں۔
کچھ لوگوں کو زندگی میں ایسے تعلقات سے واسطہ پڑتا ہے جو بھلائی سے زیادہ نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
یہ رشتے انسان کو حقیر اور دکھی محسوس کرواتے ہیں اور اعتماد میں کمی لاتے ہیں۔
زہریلے تعلقات کو منقطع کرنا مشکل ترین لیکن سب سے زیادہ مطمئن کرنے والا اقدام ہوتا ہے۔
شناسائیوں کے آرام پر نجی خوشی کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔
7. زندگی بھر سیکھنا
زندگی بھر سیکھنے کی عادت زندگی بدل سکتی ہے۔ جیسا کہ البرٹ آئن سٹائن نے ایک بار کہا تھا، "جب آپ سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں، تو آپ مرنا شروع کر دیتے ہیں۔"
غیرفعالیت ناخوش ہونے کے احساسات پیدا کرتی ہے کیونکہ غیر فعال شخص میں ترقی کے لیے خود کو چیلنج کرنے کے رویے کی کمی ہوتی ہے۔
کتاب پڑھنا، آن لائن کورسز ، ورکشاپس میں شرکت یا محض نئی دلچسپیوں کو تلاش کرنا، نئے علم، ہنر اور تجربات کی مسلسل تلاش کرنا، ایک پوری نئی دنیا کو کھولنے میں مدد کرتا ہے۔ مقصد سیکھنے کے عمل سے لطف اندوز ہونا اور افق کو وسیع کرنا ہے، راتوں رات ماہر بننا نہیں۔
8. خود کی دیکھ بھال کو ترجیح دیں۔
سب سے پہلے اپنے آپ کا خیال رکھنے کا مطلب خودغرضی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا قدم ہے جو دوسروں کا بھی آپ کا خیال رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
پوری نیند ، صحت بخش کھانا، اور باقاعدگی سے ورزش کرکے، جسمانی اور جذباتی دونوں طرح سے خود کی دیکھ بھال کو ترجیح دینی چاہئے۔
آپ ان سرگرمیوں سے ابتدا کر سکتے ہیں جو انسان کو خوش کرتی ہیں، جیسے کہ کتاب پڑھنا یا چائے کے کپ کے ساتھ خاموشی سے بیٹھنا۔
اپنی دیکھ بھال توانائی کی سطح کو دوبارہ چارج کرنے اور تناؤ کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔
اس کے علاوہ ، ماہرین ان سرگرمیوں کی فہرست بنانے کا مشورہ دیتے ہیں جن سے آپ پر سکون اور خوش محسوس کرتے ہیں۔ پھر ان سرگرمیوں کو اپنے ہفتے میں اسی طرح ترتیب دیں جس طرح آپ کسی اور اہم ملاقات کو کرتے ہیں۔ اپنا خیال رکھنا کوئی عیش و آرام نہیں ہے۔ بلکہ ایک ضرورت ہے۔