’’ دو ثقافتوں کے درمیان‘‘ کے عنوان سے سعودی عرب اور عراق کا مشترکہ آرٹ فیسٹول
سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں وزارت ثقافت نے بلیوارڈ سٹی پر واقع میگا سٹوڈیو میں "دو ثقافتوں کے درمیان" فیسٹیول کی سرگرمیوں اور پروگراموں کا آغاز کردیا۔
یہ فیسٹول سعودی عرب اور عراق کا مشترکہ آرٹ فیسٹول ہے۔ اس میں عراقی ثقافت اور سعودی ثقافت کے درمیان مماثلت اور ہم آہنگی کو پیش کیا گیا ہے۔ فیسٹول میں 100 سے زیادہ سعودی اور عراقی فنکار حصہ لے رہے اور دونوں ملکوں کے مابین مواصلات اور ثقافتی اقدار کو پیش کر رہے۔
فیسٹول "بین ثقافتین" کی سرگرمیوں پینٹنگز، میوزیکل پرفارمنس اور مجسمہ سازی کی اشیا کی گئی ہیں۔ یہ وہ اشیا ہیں جو سعودی عرب اور عراق دونوں کے قدیم ورثے اور مستند روایات کی عکاسی کر رہی ہیں۔
پروگرام میں فنکارانہ شام اور عراقی شاعر کریم العراقی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ فنی، ادبی اور ثقافتی منظر نامے کو تقویت دینے میں ان کی خدمات کو سراہا گیا۔
فیسٹول ’’ بین ثقافتین‘‘ نے اپنے پہلے دن کا آغاز ایک متنوع پروگرام کے ساتھ کیا جس میں عراقی ثقافت کا جشن منایا گیا۔ اس میں متعدد سمپوزیم شامل تھے جن میں دونوں ملکوں کی تاریخ سے متعلق ثقافتی اور فکری موضوعات پر گفتگو کی گئی ۔ اس گفتگو کا عنوان "مقام حجاز اور مقام عراق" تھا۔
اس میں موسیقی کی عمومی فنکارانہ خصوصیات کو ظاہر کرنے کے لیے آلے ’’ العود‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے ایک موسیقی کا مکالمہ شامل تھا۔ دوسرا سمپوزیم "عراقی موویل اور سعودی دھنیں" کے نام سے تھا۔ اس میں عراقی اور سعودی موسیقی کے انداز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روایتی اور مقبول دونوں طرح کی موسیقی پر بات چیت کی گئی۔
کاظم الساھر کے گانے
سیزر کاظم الساھر نے فیسٹیول کی سرگرمیوں کے حصے کے طور پر ایک غیر معمولی رات میں خوبصورت گانوں کا مجموعہ پیش کیا اور سامعین کے جذبات کو بھڑکا دیا۔ انہوں نے جو نغمے پیش کیے ان میں بغداد کی محبت میں گانا ’’بغدادیۃ‘‘، زندگی کے معانی پر فلسفیانہ نغمہ ’’ الحیاۃ‘‘ ، رومانس پر مبنی ’’ اللیل‘‘ اور ’’ یا ساکنۃ حینا‘‘ شامل تھا۔ انہوں نے گانے ’’ صفیر و ملعب‘‘ اور ’’سلام علیکم‘‘ ، اپنے مشہور نغمے ’’ مستبدۃ‘‘ ، ’’ لاتحرمرونی‘‘ اور ’’ تاریخ میلادی‘‘ بھی پیش کیے۔ یاد رہے "بین الثقافتین " فیسٹیول 31 دسمبر تک جاری رہے گا۔ کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن کے تعاون سے متعدد ڈائیلاگ سیشنز بھی رکھے گئے ہیں۔