سعودی عرب: 'دی لائن'نیوم شہر کے منصوبے کی مرکزی شناخت بھی اور صحرا میں جدت کا استعارہ بھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 12 منٹ

'نیوم 'شہر کے منصوبے میں اہم بنیادی نکتے کے طور پر موجود ' دی لائن ' مملکت کے ' پبلک انویسٹمنٹ فنڈ' کے منصوبے کے طور پر اپنی طے شدہ تکمیلی مدت کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ ' العربیہ' اس منصوبے کی اندرونی کہانی کو پہلی بار سامنے لے کر آیا ہے۔ منصوبے کے سینیئر عہدے داروں نے ' العربیہ ' سے گفتگو کے دوران ان ساری افواہوں کی تردید بھی کی ہے کہ منصوبے سے کوئی پسپائی اختیار کی جارہی ہے۔

' العربیہ' نے منصوبے کا موقع پر جا کر جائزہ لیا تو تعمیراتی سرگرمیوں کو اس ٹھیک رفتار اور شد و مد میں دیکھا جو ' دی لائن ' کے 2034 تک کے لیے طے کیے گئے تعمیراتی ہدف کے لیے ضروری ہے۔

ںیوم سٹی
ںیوم سٹی

منصوبے کے لیے جاری تعمیراتی سرگرمیاں جا بجا اور دور تک پھیلی ہوئی ایسے لگتی ہیں کہ جیسے ایک تعمیری ہنگام ہو۔ سینکڑوں کی تعداد میں کرینیں لگ بھگ دس ہزار سے زیادہ کام کرنے والے مزدوروں کے علاوہ ان ساری افواہوں کے خلاف منصوبے کے زور و شور سے آگے بڑھنے کی عملی گواہی کے طور پر موجود نظر آئیں۔ صاف لگ رہا تھا کہ یہ تگ و دو 2034 تک مکمل کیے جانے والے پہلے مرحلے کا حصہ ہیں۔ تاکہ خواب خواب نہ رہے حقیقت بن جائے۔ گویا 170 کلو میٹر پر پھیلی ایک لمبی لکیر صحرا کی قسمت بدلنے کا اظہار بننے جارہی ہے۔

لائن کے کئی مراحل ہوں گے، مگر پہلا مرحلہ 2034 تک مکمل کیا جائے گا۔ سنیئر حکام جو اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے ذمہ دار ہیں۔ ' العربیہ ' کو بتا رہے تھے'' نیوم ' شہر کے منصوبے کے آگے نہ بڑھائے جانے کی سب افواہیں اور قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔ اگر سچائی ہوتی تو یہ سب کام کس لیے جاری ہوتا۔ یہ ایک غیر معمولی منصوبہ ہے ۔ عام لوگ اس منصوبے کے گمان اور اندازے پر قادر نہیں ہو سکتے ہیں۔ '

وہ مزید کہہ رہے تھے' اب تک 130 ملین مکعب میٹر سے بھی زیادہ مٹی اس تعمیراتی مقصد کے لیے منتقل کی جا چکی ہے۔ اتنی مٹی جس سے نیو یارک کے سنٹرل پارک کی تیس فٹ کی گہرائی بھی آسانی سے بھری جا سکتی ہو۔ سائٹ پر کام کے لیے ایک ہی وقت میں 4000 ٹرک 500 سے زائد کھدائی والی مشینیں بروئے کار رہی ہیں۔'

ںیوم سٹی میں جاری ترقیاتی کام
ںیوم سٹی میں جاری ترقیاتی کام

دی لائن چیف پروجیکٹ آفیسر ' رابرٹو پینو' نے اپنی گفتگو میں کہا ' دی لائن کے لیے اٹھائے گئے اقدامات منصوبے کی تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود بے مثال رفتار سے کام جاری ہے، یہ ایک منفرد کام ہے۔ جو اس سے پہلے کہیں نہیں کیا جا سکا۔' یہ دنیا کی اب تک سب سے بڑی تعمیر ہے۔ اس ناطے اس کی بنیادیں اور ابتدائی کام زبردست بھی ہے اور اہم تر بھی۔ '

چیف آپریٹنگ آفیسر' دی لائن 'جائلز پنڈلٹن نے جائے تعمیر کے خصوصی دورے کے موقع پر کھدائی شروع کیے جانے کے دن کو سعودی عرب کے لیے ' بڑا دن ' قرار دیتے ہوئے کہا' میں اس صنعت میں طویل عرصے سے ہوں لیکن یہ کام جو اب کیا جارہا ہے۔ یہ پہلے کبھی نہیں کیا گیا ہے۔ کہیں نہیں ہوا ہے۔ یہ غیر معمولی بھی ہے اور متاثر کن بھی۔'

پنڈلٹن نے بھی ان تمام تر قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے جو اس عظیم سعودی منصوبے کے بارے میں گاہے گاہے پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ان کے بقول ' دی لائن' کے سارے مراحل منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ ' دی لائن' کو کبھی پیچھے چھوڑا گیا ہے۔'

یہ مملکت اور مملکت کی قیادت کی توقعات ، خواہشات اور احکامات کے مطابق بنایا جانے والا شہر ہے اور اپنے فطری انداز سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ 90 لاکھ باسیوں کا شہر قرار پائے گا۔ اس لیے اتنا بڑا منصوبہ محض چند غلط پراپیگنڈوں کی وجہ سے ختم نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا ایسی سب خبریں قیاس آرائی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا 'نصف کلو میٹر تک اٹھایا جانے والا یہ ڈھانچہ ایک چھوٹا یا بے معنی کام نہیں ہے۔ ہم نے یہ کبھی نہیں کہا تھا کہ 170 کلو میٹر کے سارے علاقے کی تعمیر فوراً کر دیں گے۔ اگر ایسا کہتے تو یہ لندن یا نیویارک شہر کو پانچ برسوں میں تعمیر کرنے کا منصوبے کے برابر ہو گا۔ یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔'

A handout picture provided by Saudi's NEOM on July 26, 2022 shows the design plan for the 500-metre tall parallel structures, known collectively as The Line, in the heart of the Red Sea megacity NEOM. (Photo courtesy: NEOM via AFP)
A handout picture provided by Saudi's NEOM on July 26, 2022 shows the design plan for the 500-metre tall parallel structures, known collectively as The Line, in the heart of the Red Sea megacity NEOM. (Photo courtesy: NEOM via AFP)

افواہوں کی صورت پیدا کیے گئے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ' جائے تعمیر کو کھولنے اور تعمیراتی کام شروع کرنے سے پہلے یہ منصوبہ کافی دیر تک فزیبلٹی کی تیاری کے مرحلے میں تھا یا پھر ابھی محض ایک تصور کی حد تک محدود تھا ۔ اب عملی مرحلہ ہے۔ اس کے بارے میں پہلے ہی یہ سوچ رکھا گیا تھا کہ اسے بہت وقت لگے گا۔ کوئی ایک سو کلو میٹر کی تعمیر ایک ہی وقت میں نہیں کر سکتا ہے۔ یہ کیپ ٹاؤن سے ہیلنسکی کے درمیان کے ہائی وے کی طرح ہے، اس سارے کو ایک ساتھ نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ دنیا کی بلند ترین عمارتوں جیسا منصوبہ ہے۔ ایک ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ '

چیف آپریٹنگ آفیسر نے ' العربیہ ' کو بتایا ' یہ ایسا تعمیر کیا جا رہا ہے جس میں 90 لاکھ افراد رہائش رکھ سکیں گے۔ اس شہر میں سو فیصد قابل تجدید توانائی کا استعمال کیا جانا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ سعودی عرب میں 2034 میں ہونے والے فٹبال کے ورلڈ کپ سے مکمل کیا جانا ہے۔

رابرٹو پینو نے دی لائن کو چند لفظوں میں اس طرح بیان کیا ' دنیا کے سب سے خوبصورت مرینا میں پانی پر ایک یا دو لفٹ کی مدد سے ، اسٹیڈیم کے اندر اونچائی کی طرف 350 میٹر تک جانے کی سہولت فراہم ہو گی۔ اس سے اوپر مزید 150 میٹر کی اونچائی ہو گی۔ جہاں سے آپ بحیرہ احمر کا بڑا حصہ دیکھ سکیں گے۔ یہ بہت شاندار ہو گا۔۔۔۔ اور یہ شاندار ہونے والا ہے۔'

پہلے مرحلے کی وسعت2.4 کلو میٹر تک 500 میٹر اونچائی تک ہو گی۔ اس میں 2 لاکھ سے زیادہ لوگ رہ سکیں گے۔ ان دو لاکھ کے لیے تین یونٹ ہوں گے۔ ان کا مجموعی طور پر تعمیر شدہ رقبہ 21 ملین مربع میٹر ہو گا۔
امکان ظاہر کیا گیا ہے 80 ہزار رہائشی یونٹس کے ساتھ ، جس میں ہوٹل کے 9 ہزار کمرے بھی شامل ہوں گے۔ نیز ان میں سکول، پولیس تھانے اور فائر فائٹنگ کے لیے بنائے فائر سٹیشن بھی شامل ہوں ۔ علاوہ ازیں سٹیڈیم ہو جو فیفا کپ 2034 کی میزبانی کرے گا۔

تعمیرات کے اس مرحلے میں بروئے کار ہر ٹرک خواہ وہ مٹی ہی لے کر آرہا ہے خود کار نظام کی نگرانی کے نیچے ہے تاکہ تعمیرات کی ڈیڈ لائن کو حاصل کیا جانا یقینی بنایا جا سکے۔ یوں ایک ٹرک اور اس کے ساتھ عملے کے کام کی سطح پر بھی نگرانی کی جارہی ہے کہ کوئی کوتاہی یا سستی کا شکار نہ ہو۔ ٹرکوں کی رفتار تک کو ٹریکرز کی مدد سے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

پینو نے اس جدید ترین سعودی شہر کے ٹریفک ماڈل کو بھی اجاگر کیا اور کہا اس میں حفاظت کے سخت معیار کو برقرار ہوئے عام کھدائیوں کو تین گنا بڑھا دیا گیا ہے۔ اس سے بھی دلچسپ اور مثالی انجینیئرنگ کا یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ سطح سمندر سے تیس میٹر نیچے تک تعمیرات کے لیے ' ڈی واٹرنگ سسٹم ' سے مدد لی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے 500 کی تعداد میں ڈی واٹرنگ سسٹم لگائے گئے ہیں۔ یہ فی گھنٹہ 90 ہزار مکعب میٹر پانی پروسیس کرسکتے ہیں اور بعد ازاں محفوظ طریقے سے سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے۔

بنیادوں کا کام جاری

دی لائن میں بنیادوں کا کام جدید ترین انجینیئرنگ کے کمال کو چھو رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈیڑھ اور اڑھائی میٹر قطر کے بڑے اور 70 میٹر تک لمبے چبوتروں کی ضرورت ہے۔ یہ اب تک 6000 تیار کیے جا چکے ہیں ۔ جبکہ 9000 ابھی مزید تیار کرنا باقی ہیں۔

ان کے اوپر عمودی تعمیرات کا سلسلہ اسی سال کے اواخر میں یا اگلے سال کے شروع میں آغاز پکڑلے گا۔ اس میں تعمیرات میں پہلے سے بنائے یونٹس کو بڑا دخل ہو گا۔

پینو ' العربیہ ' کو بتا رہے تھے لگ بھگ 10000کارکن کام پر موجود ہیں۔ جن کی حفاظت ، رہائش کا اہتمام اعلی ترین معیار کا ہے۔ تاہم اس وسیع شہر کی تعمیر اور چیلنج بھی منفرد نوعیت کے ہیں۔

ایک انتہائی بنیادی چیلنج یہ درپیش ہے کہ یہ منصوبہ پانی کی قربت میں ہے۔ اس کے لیے ایک سٹریٹجک نوعیت کی ہی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ ہر چیز کے ساتھ ایک ڈیڈ لائن اور ٹائم لائن منسلک ہے۔ بظاہر اس عمودی نوعیت کے بلند شہر کے لیے آٹھ سے نو سال کا وقت آج بہت لمبا عرصہ محسوس ہوتا ہے ۔ مگر عملی طور پر یہ بہت مشکل نظام الاوقات اور سخت ٹائم ٹیبل ہے۔

کیونکہ پینو کے مطابق ایک اہم اور مشکل مرحلہ تو منصوبے کے لیے لاجسٹکس کی تیاری اور فراہمی ہے۔ اس کے باوجود اب تک 50 کلو میٹر اراضی تیار کر لی گئی ہے۔ اسی سے لاجسٹکس کے لیے انفراسٹرکچر کی تیاری ہو گی۔

پائیدار طرز حیات

لائن کے ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ یہ شہر معیار زندگی کی اعلیٰ روایت کے ساتھ پائیداری کی اعلیٰ شناخت کا بھی حامل ہو گا۔ شہر سڑکوں اور کاروں کے بغیر 100 فیصد طور پر قابل تجدید توانائی سے چلے گا۔ اس میں 95 فیصد فطرت اپنے اصل انداز میں نظر آئے گی۔

پینڈلٹن نے اپنی بات شامل کرتے ہوئے کہا ہم دنیا میں ایک ایسا شہر آباد کر رہے ہیں جس طرح کوئی پہلے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ہر رہائشی کو صرف پانچ منٹ کے پیدل چلنے پر اسے زندگی کی تمام سہولیات فراہم ہو سکیں گی۔ ہر شخص کا ارد گرد کے ساتھ گہرا تعلق ہو گا۔

پینو نے اس نئے شہر کو امریکی ' مین ہٹن سے موازنہ کرتے ہوئے کہا ' مین ہٹن اس منصوبے سے کافی لمبا اور تنگ ہے، ایک شہر جس کے درمیان پارک ہے۔ لیکن لائن میں ہمارا ویژن یہ ہے کہ چاروں طرف پارک اور درمیان میں شہر آباد ہو۔ زمین کو کم استعمال کرتے ہوئے سبزے کو زیادہ سے زیادہ رکھنا مقصود بنایا گیا ہے۔ گیا یہ عمودی شہر میں قدرتی خوبصورتی اور ماحول کو برقرار رکھنے کی کاوش کا دوسرا نام ہے۔

یہ سعودی شہر ' نیوم ' شہری زندگی کو ایک نئی تعریف ، بہتر شناخت اور شان دے گا۔ یہ بھیڑ بھاڑ سے پاک ، آلودگی سے محفوظ اعلیٰ اور شاندار جائے رہائش ہو گا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سعودی ویژن 2030 کے تصور پیش کرنے کے ساتھ ساتھ نیوم شہر کی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بھی خود ہیں۔ اس لیے اس شہر کے معیارات کی سطح کیا ہو گی اس کا اندازہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ع

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size