چینی ماہرین نے کانوں میں بجنے والی آواز کم کرنے والا غذا متعارف کروا دی
پھل، ڈیری مصنوعات، کیفین اور فائبر کانوں میں بجنے کی آواز کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں: محققین
ایک نئی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ بعض غذائی اشیاء اور کانوں میں بجنے کی آواز کے خطرے میں کمی کے درمیان ایک تعلق موجود ہے۔
ویب سائٹ "نیو اٹلس" نے "بی ایم جے اوپن" جریدے کے حوالے سے بتایا ہے کہ تحقیق ان لوگوں کے لیے کچھ سکون اور خاموشی حاصل کرنے کا ایک آسان طریقہ پیش کرتی ہے جو کانوں میں آوازیں بجنے کے مسئلے سے دوچار ہیں۔
کانوں میں آوازیں بجنے والی بیماری (Tinnitus)
کانوں میں آواز کے بجنے کی نمایاں علامت ایک یا دونوں کانوں میں آواز کا سنائی دینا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو شخص کے ارد گرد کی دنیا میں موجود نہیں ہوتی۔ یہ آواز کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ تیز سر سے لے کر دھیمی گرج تک یا مسلسل گنگناہٹ سے لے کر پریشان کن کلک تک اور حتی کہ جسم میں خون کے بہاؤ کی سیٹی کی آواز بھی ہوسکتی ہے۔
آوازوں کے متنوع اسباب
کانوں میں آواز کے بجنے کے نظریاتی اسباب اتنے ہی متنوع ہیں جتنی کہ وہ آوازیں جو لوگ سنتے ہیں۔ سماعت کے نقصان یا کان کے انفیکشن سے لے کر ادویات کے ضمنی اثرات، ہائی بلڈ پریشر یا خود بخود قوت مدافعت کے امراض تک اس کے اسباب میں شامل ہیں۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ایسی آوازیں دماغ کے سمعی نظام میں پیدا ہوسکتی ہیں۔ دوسرے سائنسدان یہ فرض کرتے ہیں کہ پریشان کن سر کان کے اندر باریک بالوں کے خلیوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
متعدد علاج
کانوں میں بجنے والی آواز کے اسباب میں بڑے فرق کی وجہ سے مجوزہ علاجوں کی بھی ایک ایک وسیع رینج پیش کی جاتی ہے۔ محققین نے ایک ایپ کا استعمال کرتے ہوئے کثیر الجہتی نقطہ نظر کے ذریعے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان علاجوں میں آواز اور لمس کا استعمال کرتے ہوئے دوہری حسی علاج، علمی سلوک تھراپی اور ایک ایسے آلے کا استعمال شامل ہے جو دماغ کو برقی نبضیں پہنچاتا ہے۔
علاج کا غذائی نظام
چین میں روایتی چینی طب کی چینگدو یونیورسٹی کے محققین نے 8 سائنسی مطالعات کے نتائج کا تجزیہ کیا اور کانوں میں بجنے والی آواز کے ٹول کٹ میں ایک اور ممکنہ علاج شامل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ غذائی نظام والا علاج ہے۔
پھل، کیفین اور ڈیری
محققین نے دریافت کیا کہ پھلوں، فائبر، ڈیری مصنوعات اور کیفین کا استعمال اس مرض کے علاج میں معاون ہے۔ یہ سب غذائی اشیا کانوں میں بجنے والی آواز کے خطرے کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ خاص طور پر زیادہ مقدار میں پھل کھانے سے کانوں میں بجنے والی آواز کے خطرے میں 35 فیصد کمی واقع ہوئی، ڈیری مصنوعات کھانے سے خطرے میں 17 فیصد کمی ہوئی۔ کیفین کے استعمال سے 10 فیصد اور غذائی فائبر سے 9 فیصد کمی دیکھی گئی۔
اینٹی آکسیڈینٹ اثرات
محققین نے نشاندہی کی کہ یہ واضح ہے کہ غذائیت بہت سی بیماریوں کے پیدا ہونے یا کم ہونے میں کردار ادا کرتی ہے۔ اس معاملے میں اگرچہ وہ اس بات کا یقین نہیں کر سکے کہ خاص طور پر ان غذاؤں کا کیا اثر ہوتا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ اس کا تعلق ممکنہ طور پر خون کی نالیوں اور اعصاب پر ان کے اثرات کے ساتھ ساتھ ان کے عمومی اینٹی آکسیڈینٹ اثرات سے ہو سکتا ہے۔
محققین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کانوں میں بجنے والی آواز سے بچاؤ کے لیے غذائی حکمت عملیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دائمی کانوں میں بجنے والی آواز کے انتظام میں اہم کردار ادا کریں گی۔