سعودی عرب کے شاہ سلمان ریلیف سینٹر نے رواں سال کے لیے اپنی رضاکارانہ سرگرمیوں کا منصوبہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت 67 ممالک میں 642 انسانی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
مرکز نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان پروگراموں میں مختلف طبی شعبہ جات شامل ہیں، جن کا مقصد فوری انسانی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ ان شعبوں میں کان کے مصنوعی آلات (قوقعہ)، گویائی اور گفتار کی تھراپی، بچوں کی جراحی، چہرہ سازی، زچگی و خواتین، ایمرجنسی طب، نفسیاتی معاونت، ہڈیوں کی جراحی، اوپن ہارٹ سرجری، کٹھیٹر، گردے، مصنوعی اعضا اور فزیکل تھراپی جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔
مرکز کے مطابق ان پروگراموں کا ہدف سب سے زیادہ متاثرہ اور ضرورت مند طبقات ہیں تاکہ انسانی خدمات کا اثر مزید گہرا ہو اور ان ممالک کی ترجیحات سے ہم آہنگ بھی ہو۔ یہ منصوبے سعودی عرب کی انسانی خدمات کے عالمی کردار کو مزید مستحکم بناتے ہیں۔
مرکز کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں سعودی رضاکاروں کی بیرونِ ملک شرکت نہ صرف مثبت عالمی تاثر کو اجاگر کرتی ہے بلکہ مقامی صلاحیتوں کی تربیت اور طبی مہارتوں کے تبادلے کے ذریعے سعودی انسانی اثرات کو وسعت دیتی ہے۔
انتخابِ ممالک کے لیے سخت معیار
جہاں تک ان 67 ممالک کے انتخاب کا تعلق ہے، مرکز نے واضح کیا ہے کہ انسانی ضرورت کی شدت اور انتہائی متاثرہ طبقات کی شناخت اس عمل میں بنیادی معیار ہیں۔
مرکز اس امر کو یقینی بنانے پر بھی زور دیتا ہے کہ اس کے پروگرام دیرپا اثرات کے حامل ہوں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کو قدرتی آفات اور تنازعات جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان چیلنجز کے تناظر میں مرکز کا مقصد مقامی معاشروں کو علم کی منتقلی، پیشہ ورانہ تربیت اور قابلیت سازی کے ذریعے طویل مدتی فائدے پہنچانا ہے۔