" انسانیت کی تلاش" سعودی فوٹوگرافر کا لوگوں اور ان کی روایات کو محفوظ کرنے کا مشن

فالح کے مطابق تصویر کھینچنا صرف کلک کا عمل نہیں، بلکہ احساس، علم اور اخلاص کا امتزاج ہے۔ وہ تصویر جو محض دیکھی نہیں، محسوس کی جاتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایک خصوصی انٹرویو میں سعودی عرب کے فوٹوگرافر محمد الفالح نے بتایا کہ کس طرح چہروں، لمحوں اور انسانی جزئیات نے اُن کے دل کو پکارا اور شوق کو ایک باقاعدہ مشن میں بدل دیا۔ اُن کے بہ قول "میں نے جانا کہ تصویریں صرف عکس نہیں ہوتیں، بلکہ وہ کہانی، احساس اور پیغام ہوتی ہیں"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے محمد الفالح نے اپنے کیمرے کو محض آرٹ کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ ایک بصری مکالمے کے آلے کے طور پر برتا، جس کے ذریعے وہ دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کی زندگی، رسوم و رواج اور احساسات کو تصویروں میں قید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "میں روشنی کا احترام کرتا ہوں اور سچی گھڑی کا انتظار کرتا ہوں تاکہ تصویر خود بولے"۔

انسان کی تلاش میں سفر

محمد الفالح نے شہروں کے شور اور سیاحتی گلیمر سے ہٹ کر ان علاقوں کا رخ کیا جہاں زندگی سادہ، مگر گہری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے سفر کا مقصد صرف تصویر کھینچنا نہیں، بلکہ انسان کو محسوس کرنا اور اس کی کہانی کو محفوظ کرنا ہے۔ وہ ہمالیہ کی چوٹیوں سے لے کر دور دراز دیہات تک پہنچے تاکہ انسانی تجربات کو بے زبان مگر اثر انگیز انداز میں بیان کر سکیں۔

فالح کا کہنا ہے کہ مختلف اقوام کی زندگی نے اُن کے اندر ایک انسانی پختگی پیدا کی۔ وہ ہر قوم میں ایک نیا حسن اور ایک منفرد چیلنج دیکھتے ہیں۔ اُن کے مطابق مسلسل سفر نے اُنہیں صبر کی نئی تعریف سمجھائی۔ اُن کے بہ قول "ہر پڑاؤ نے میری زندگی اور سوچ کو ایک نئی شکل دی"۔

مختلف ثقافتوں سے مکالمہ

فالح بتاتے ہیں کہ کئی قبائل اور دیہات ابتدا میں اجنبیوں کو پسند نہیں کرتے، لیکن وہ چاول، چینی یا تیل جیسی چھوٹی چھوٹی چیزیں بہ طور تحفہ دے کر ان کا دل جیتتے ہیں۔ ان کے بقول یہ ایک "منصفانہ تبادلہ" ہے، جس کے بدلے میں انہیں مقامی لوگوں کی زندگی کو قریب سے دیکھنے اور عکس بند کرنے کا موقع ملتا ہے۔

وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ بیشتر اقوام وقت کو ایک ہندسے کی بجائے ایک محسوس کیے جانے والے احساس کے طور پر جیتی ہیں، اور قدرت کے ساتھ ہم آہنگی میں رہتی ہیں، نہ کہ اس پر قابض ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔

ہمالیہ کا آزمائشی لمحہ

فالح نے ہمالیہ کے سفر کے دوران پیش آنے والے ایک سخت لمحے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک چھ روزہ طویل ہائیکنگ کے بعد وہ شدید بیمار ہو گئے اور تین دن ایک نیپالی خاندان کے دیہی کمرے میں، گرم جڑی بوٹیوں اور دال کے سوپ کے سہارے بستر پر پڑے رہے۔ وہ کہتے ہیں، "یہ جسمانی طور پر تکلیف دہ لمحہ تھا مگر روحانی طور پر ایک عظیم سبق انسانیت کسی زبان کی محتاج نہیں"۔

تیاری، تحقیق اور احترام

محمد الفالح تصویری سفر سے پہلے اس علاقے میں وقت گذارتے ہیں تاکہ انسانوں سے تعلق محسوس کر سکیں۔ وہ کہتے ہیں "میں کسی کو اس لیے تصویر میں نہیں قید کرتا کہ وہ مجھ سے مختلف ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ میرے جیسا ہے۔" اُن کے مطابق تحقیق، مقام کی جغرافیائی سمجھ، موسم اور جسمانی تیاری ہر کامیاب تصویری مہم کی بنیاد ہے۔

فالح کے مطابق تصویر کھینچنا صرف کلک کا عمل نہیں، بلکہ احساس، علم اور اخلاص کا امتزاج ہے ۔ وہ تصویر جو محض دیکھی نہیں، محسوس کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں