اسرائیلی سفیر کی پریانکا گاندھی کے بارے میں روائتی توہین آمیز زبان پر سخت بھارتی رد عمل
بھارتی سیاسی قائدین نے نئی دہلی میں موجود اسرائیلی سفیر کے کانگریسی رہنما پریانکا گاندھی کے بارے میں "گھٹیا زبان" استعمال کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مودی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ "اسرائیلی ریاست کے سفیر کے خلاف اس بد زبانی پر کارروائی کی جائے۔" بھارتی رہنماؤں نے اس بد زبانی پر مبنی انداز کو اسرائیلی سفیر کا پریانکا گاندھی پر زبانی حملہ قرار دیا ہے۔
پریانکا گاندھی بھارتی پارلیمنٹ کی رکن ہونے کے علاوہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی ہمشیرہ اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بیٹی ہیں۔
انہوں نے منگل کے روز غزہ میں اسرائیلی ریاست کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' پر لکھا تھا اور صاف کہا تھا اسرائیلی ریاست نسل کشی کا ارتکاب کر رہی ہے۔
پریانکا نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ' اسرائیلی ریاست نے اب تک ساٹھ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر لیا ہے جن میں 18340 سے زائد فلسطینی بچے شامل ہیں۔ جبکہ بہت سوں کو بھوک سے موت کا خطرہ ہے۔ لیکن بھارتی حکومت کا اس بارے میں خاموش رہنا بجائے خود جرم ہے۔ '
پریانکا گاندھی نے کہا مودی سرکار کی اس نسل کشی پر سادھی ہوئی چپ شرمناک ہے۔ حالانہ اسرائیل غزہ میں تباہی مچا رہا ہے۔
پریانکا گاندھی کے اس تبصرے پر نئی دہلی میں اسرائیلی ریاست کے سفیر ریوین آذر نے پوسٹ کا فوری جواب دیتے ہوئے اپنی ریاست کے روایتی انداز میں کہا ' شرمناک پریانکا گاندھی کا فریب ہے۔ '
اس پر کانگریس کے رہنماؤں میں سخت غم و غصہ سامنے آیا ہے۔ کانگریسی ترجمان سپریا شرینتے نے حکومت سے مطالبہ کیا مس گاندھی کے بارے میں سفیر کے الزمات کا نوٹس لیا جائے اور کارروائی کی جائے۔ کہ اس نے بھارت کی معزز نیتا کے بارے میں یہ لہجہ کیوں استعمال کیا۔ انہیں کیسے یہ جرات ہوئی کہ کانگریس کی رکن کے بارے میں اس طرح بات کریں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی سفیر کے بیان پر اسرائیل باضابطہ معافی مانگے۔ نیز بھارتی سرکار اس بارے میں اسرائیلی ریاست سے باقاعدہ بات کرے۔
کانگریس کے ترجمان نے کہا اسرائیلی سفیر سرکاری طور پر اور غیر مشروط معافی مانگیں۔ کہ انہوں نے ہماری قائد کے بارے میں یہ لہجہ اور الفاظ استعمال کیے۔ رہی بات غزہ کے حالات کی تو پوری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیلی ریاست وہاں کیا کر رہی ہے ۔
شیو سینا پارٹی کی ترجمان اور رکن پارلیمنٹ پریانکا چتروردی نے اسرائیلی ریاست کی طرف سے سفیر کی بد زبانی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا اس بارے میں بھارتی وزارت خارجہ نے خاموشی رکھی تو اس کا صاف مطلب ہوگا کہ غیر ملکی سفراء اسی سفیر کے لہجے میں ارکان کانگریس کی توہین کرتے رہیں، یہ قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے۔ امید ہے حکومت اسرائیلی سفیر کی سرزنش کرے گی۔
آسام سے کانگرسی لیڈر گورو گوگوئی نے کہا ایک غیر ملکی سفیر کی طرف سے ایک معزز رکن پارلیمنٹ کے بارے میں اس قدر توہین آمیز الفاظ کا استعمال رکن پارلیمنٹ کے استحقاق کی سخت خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بھارتی پارلیمنٹ پر زور دیا کہ اگر بھارتی سرکار نے خاموشی رکھی تو پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ اس کا نوٹس لے اور کارروائی کرے۔
یاد رہے بھارت کی مودی سرکار اسرائیلی جنگی جرائم کے بارے میں بھی خاموشی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور سفیر کی بد کلامی پر بھی ابھی خاموش ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اسرائیل کے بارے میں مذمت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔