سیب کے سرکے اور وزن میں کمی سے متعلق سائنسی تحقیق غلط ثابت ہو گئی
ماہر غذا پروفیسر کے مطابق یہ معدے کی جھلی کا خراب اور معدے کی گرہنی (Duodenum) (ہاضمہ کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔جو چھوٹی آنت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے)میں السر کا سبب بن سکتا ہے۔
کئی برسوں تک سیب کے سرکے کو وزن کم کرنے کے لیے ایک جادوئی قدرتی نسخہ قرار دے کر پیش کیا جاتا رہا، جو انفرادی تجربات اور محدود تحقیقات پر مبنی تھا۔ مگر ان نمایاں تحقیقات میں سے ایک تحقیق، جس نے اس دعوے کو سائنسی بنیاد فراہم کی تھی، بالآخر سائنسی جریدے BMJ Nutrition Preention And Health نے واپس لے لی ہے ۔
یہ تحقیق 2024 میں شائع ہوئی تھی، جس نے اس دعوے کے باعث بہت زیادہ توجہ حاصل کی کہ روزانہ سیب کے سرکے کی خوراک لینا زائد وزن رکھنے والے افراد کو نمایاں طور پر وزن گھٹانے میں مدد دیتا ہے، بعد میں یہ سامنے آیا کہ اس تحقیق میں طریقۂ کار کی خامیاں اور اعداد وشمار کی غلطیاں موجود تھیں۔ ان خامیوں کی وجہ سے تحقیق کے نتائج کو دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اسی لیے ناشر نے 23 ستمبر 2025 کو اسے باضابطہ طور پر واپس لینے کا اعلان کر دیا۔
معدے کی دیوار کا کُھوکھلا ہونا
ڈاکٹر عفاف عزت قومی مرکز برائے تحقیق میں حیاتی کیمیا اور غذائیت کی پروفیسر ہیں، انھوں نے وزن کم کرنے کے لیے سیب کے سرکے کے استعمال کے متعلق العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خالی معدے میںکسی بھی قسم کے تیزابی مشروبات یا سرکہ پینا ہاضمے کی صحت کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ اس سے معدے کی جھلی خراب ہو سکتی ہے، معدے اور گرہنی (Duodenum) میں السر پیدا ہو سکتا ہے، اور ساتھ ہی دانتوں کی اوپر کی حفاظتی تہہ (Enamel) پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسی طریقے ڈاکٹر ہر گز تجویز نہیں کرتے، کیونکہ یہ معدے کی تیزابیت میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مختلف قسم کے صحت کے مسائل اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ سیب کا سرکہ وزن کم کرنے کا محفوظ اور مؤثر طریقہ نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود ایسے کئی مریض دیکھے ہیں جنہوں نے لمبے عرصے تک وزن گھٹانے کے لیے سرکے کا استعمال کیا، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں معدے کی تکالیف اور دائمی ہاضمے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ وزن میں کسی حقیقی کمی کا فائدہ نہیں ہوا۔
متوقع فائدے سے زیادہ صحت کے نقصانات
ڈاکٹر عفاف نے مزید کہا: "چاہے وہ تحقیق واپس نہ بھی لی جاتی، جس میں سیب کے سرکے کے وزن کم کرنے میں کردار کا ذکر تھا، اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس پر انحصار کرنا درست یا قابلِ سفارش ہے۔ سیب کا سرکہ معدے کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے، کیونکہ یہ معدے کی تیزابیت کو بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے، خاص طور پر اُس وقت جب اس کے ساتھ دیگر تیزابی نوعیت کے کھانے یا مشروبات بھی استعمال کیے جائیں۔"
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزن کم کرنے کا درست طریقہ ایک متوازن غذا اپنانا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی کرنا اور طبی ہدایات پر عمل کرنا ہے، نہ کہ عوامی نسخوں یا فوری حلوں کے ذریعے، جو متوقع فائدے کے مقابلے میں زیادہ صحت کے نقصانات کا باعث بن سکتے ہیں۔
اپنی جانب سے غذائی آگاہی کے ماہر ڈاکٹر مجدی نزیہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ وزن میں کمی کسی خاص کھانے یا مشروب کے ذریعے ممکن نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا: "جو شخص وزن کم کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے غذائی نظام کو قابو میں رکھے اور اپنی جسمانی سرگرمی اور حرکت کو بڑھائے۔ کوئی ایسا مخصوص کھانا یا مشروب موجود نہیں جو اکیلا بڑا فرق ڈال سکے۔"
سائنسی طور پر غلط
نزیہ نے وضاحت کی کہ وزن کم کرنے کے لیے جو غذائی نسخے یا تیز اثر والی دوائیں مشہور کی جاتی ہیں، وہ "سائنسی طور پر درست نہیں"۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسی سوچ پر انحصار عوام کو گمراہ کر سکتا ہے اور انہیں صحت کے خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شائع ہونے والی سائنسی تحقیق کو پہلے اس کی مالی مدد فراہم کرنے والے ادارے پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "سائنسی تحقیق بہت مہنگی ہوتی ہے، اور اکثر بعض تحقیقات کے نتائج اس طرح ترتیب دیے جاتے ہیں کہ وہ مالی مدد فراہم کرنے والے ادارے کے مفادات کے مطابق ہوں۔"
نزیہ کے مطابق وہ ہمیشہ نئی سائنسی تحقیقات پڑھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں، لیکن نتائج کو اپنانے یا سفارش کرنے سے پہلے ہمیشہ ان کے پسِ منظر اور مالی معاونت کے ذرائع کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں سیب کے سرکے سے متعلق تحقیق کی مثال دی، بعد میں یہ ثابت ہوا کہ وہ غلط اور دوبارہ دہرانے کے قابل نہیں تھی۔
نزیہ نے مزید واضح کیا کہ وہ شروع سے ہی سیب کے سرکے کے استعمال کی سفارش نہیں کرتے تھے، چاہے تحقیق واپس لی جانے سے پہلے ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس کے ممکنہ صحت کے نقصانات ہیں اور وزن کم کرنے میں اس کی مؤثریت کا کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔