وال سٹریٹ جرنل نے ایران کے خلاف امریکی جارحیت سے قبل کے گھنٹوں کی نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ ان تفصیلات میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں ایک اہم اجلاس کے بعد اور انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے روانگی سے قبل آبنائے ہرمز کے گردونواح میں حملے کرنے کا فیصلہ کیا۔
اخبار کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پیر کی شام اوول آفس میں داخل ہوئے اور انہوں نے ٹرمپ کو مطلع کیا کہ ایران نے اینٹی شپ کروز میزائل اور سٹرائیک ڈرونز فائر کیے ہیں جن سے جنوبی راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں چند گھنٹوں کے دوران تین جہازوں کو نقصان پہنچا جن میں ایل این جی کا ایک ٹینکر بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے براہِ راست پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ایران اب بھی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں سنجیدہ ہے۔ بات چیت کے بعد وہ قائل ہو گئے کہ اب ایسا نہیں ہے۔ یہ صورت حال ان کے موقف میں تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی۔
مراعات کی منسوخی اور فوجی حملے
اخبار کے مطابق ٹرمپ نے اجلاس کے بعد ایرانی تیل کی فروخت کا لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا جس سے عارضی جنگ بندی کے معاہدے میں شامل زیادہ تر ترغیبات عملاً ختم ہو گئیں اور انہوں نے منگل اور بدھ کے روز آبنائے ہرمز کے گردونواح میں امریکی حملوں کی پے در پے لہروں پر عمل درآمد کا حکم بھی دیا اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس سمیت ایرانی سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
اخبار نے بتایا کہ بدھ کی شام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے اس اشارے کے بعد کہ امریکہ ایران پر زیادہ بڑا اور گہرا حملہ کرے گا، امریکی فوج نے دوسرے دن بھی حملے کرنے کا اعلان کیا اور تصدیق کی کہ ان کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو لاحق ایرانی خطرے کی صلاحیت کو کم کرنا ہے۔ اخبار نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ایران نے تشدد کا راستہ چُنا ہے تو وہ نتائج بھگتے گا۔
خفیہ امریکی بحری آپریشن
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی بحریہ ہفتوں سے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی سکارٹنگ کے لیے ایک خفیہ آپریشن چلا رہی تھی جو عمان کے ساحلوں کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا ہے جس کا مقصد ایران کے ساتھ مفاہمت کی سب سے اہم شقوں میں سے ایک کو برقرار رکھنا اور جہاز رانی کی آمد و رفت کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق 17 جون کو مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد سے اب تک 125 سے زیادہ جہاز اس راستے سے گزر چکے ہیں اور یہ گزر گاہیں زیادہ تر رات کے اوقات میں فعال کی جاتی ہیںجس کے دوران جہاز اپنے آٹومیٹک آئیڈنٹی فیکیشن سسٹم (AIS) کو بند کر دیتے تھے۔ ایک امریکی تباہ کن جہاز سفر مکمل ہونے تک جہاز کے عملے اور شپنگ کمپنی کے آپریشن سینٹر کے ساتھ براہِ راست وائرلیس رابطے میں رہتا تھا۔
اخبار نے مزید کہا کہ تجارتی بحری جہازوں کے لیے امریکی مدد نے تہران کو مشتعل کر دیا جو جہازوں کو ایرانی ساحل کے قریب شمالی راستہ استعمال کرنے کی ترغیب دے رہا تھا اور خبردار کر رہا تھا کہ جنوبی راستہ بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی کمپنیوں کی ملکیت والے چار بڑے آئل ٹینکرز نے منگل کے روز آبنائے کے وسط سے گزرنے کی کوشش کی لیکن ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے انہیں براہِ راست وارننگ دی کہ اگر انہوں نے سفر جاری رکھا تو ان پر حملہ کر دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ واپس لوٹ گئے اور انہوں نے اپنا سفر مکمل نہیں کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران ہفتوں سے اپنے ساحلوں سے ان تجارتی جہازوں کی طرف ڈرونز داغ رہا تھا جو جنوبی راستہ استعمال کر رہے تھے۔
بحری ناکہ بندی میز پر موجود
اخبار نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے ابھی تک ایران پر مکمل بحری ناکہ بندی نافذ نہیں کی ہے لیکن اس نے امریکی بحری بیڑوں کو ان کی جگہوں پر برقرار رکھا ہے تاکہ اگر ٹرمپ اس کا حکم دیں تو اسے دوبارہ نافذ کیا جا سکے اور بدھ کو ان کا یہ بیان نقل کیا گیا کہ "ہم اسے دوبارہ نافذ کر سکتے ہیں"۔
دوسری جانب اخبار نے ایک ایرانی سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے جب اس نے ایک نیا بحری راہداری کا راستہ قائم کیا جس پر تہران کے ساتھ کوئی ہم آہنگی نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے اسے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایرانی جواز کے طور پر پیش کیا۔ اخبار نے اصرار کیا کہ ایرانی حملوں کا وقت ٹرمپ کے غصے کی بڑی وجہ تھا کیونکہ انہوں نے پہلے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ایران کو ایک ہفتے کا سکون دیا ہے لیکن بعد میں انہوں نے انقرہ میں کہا کہ ایرانیوں نے مذاکرات کے بجائے جہازوں پر میزائل داغنے کے لیے اس مہلت کا فائدہ اٹھایا۔
اخبار کا خیال ہے کہ ان واقعات نے ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی میں اس وقت ایک اہم موڑ پیدا کردیا جب وہ جون کے وسط میں دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کو امریکی دباؤ کی مہم کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز میں نئی فوجی چھڑپوں کے ساتھ ہی یہ معاہدہ ٹوٹ گیا۔