وہ عام غذائیں جو خالی پیٹ کھانے سے احتزاز برتنا چاہے
ترش پھل، بلیک کافی اور تیز مرچ مسالے والے کھانے آنتوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں
نیند سے بیدار ہونے کے فوراً بعد کھائی یا پی جانے والی خوراک پورے دن کے دوران نظامِ ہضم کے ردِ عمل پر اثر ڈال سکتی ہے۔ عام طور پر صبح کے وقت معدہ بہت حساس ہوتا ہے کیونکہ اس کی جھلی نازک ہوتی ہے اور اس وقت تیزاب معمول کے مطابق متحرک ہوتے ہیں۔ اگر بیدار ہونے کے بعد نامناسب غذائیں کھائی جائیں تو یہ معدے میں تیزابیت، پیٹ پھولنے، اور بعض اوقات طویل المدتی ہاضمے کے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔
اگرچہ کچھ عام ناشتے کی غذائیں غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں، لیکن خالی معدے کے لیے وہ ہمیشہ موزوں انتخاب نہیں ہوتیں، جیسا کہ بھارتی اخبار "ٹائمز آف انڈیا" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے۔
بھارت میں معدے کے امراض کے ماہر ڈاکٹر شوبھم فاتسیا نے ان تین اہم غذاؤں پر روشنی ڈالی ہے جو صبح خالی پیٹ کھانے کی صورت میں آنتوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ تفصیل درج ذیل ہیں:
1- ترشاوہ پھل
ترشاوہ پھل وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ نارنجی، گریپ فروٹ اور لیموں جیسے پھل اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی مالا مال ہیں، جو قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتے، مضر فری ریڈیکلز کا خاتمہ اور جلد کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔ لیکن اگر ان پھلوں کو خالی پیٹ کھایا جائے تو یہ فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ترشاوہ پھلوں میں موجود تیزابیت معدے کی جھلی کو متاثر کرتی ہے اور اس کی قدرتی تیزابیت کو بڑھا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں سینے کی جلن، تیزاب کا اُلٹ آنا (ریفلکس) اور آنتوں کی جھلی پر منفی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ کیفیت خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہے جو معدے کی تیزابیت یا سوزش کے مرض میں مبتلا ہوں۔ترش پھلوں کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ وہ آنتوں کے قدرتی توازن کو بگاڑ دیتے ہیں، جس سے دوپہر کے وقت ہاضمہ سست یا متاثر ہو سکتا ہے۔
2- بلیک کافی
کافی دنیا بھر میں سب سے زیادہ پیے جانے والے صبح کے مشروبات میں سے ایک ہے اور بہت سے لوگوں کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ تقریباً ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ صبح کی کافی کے بغیر دن کا آغاز نہیں کر سکتا۔ لیکن جب بلیک کافی کو خالی پیٹ پیا جاتا ہے تو یہ جسم میں ایسے اثرات پیدا کرتی ہے جو نظامِ ہضم کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
کافی پینے سے معدہ ہائیڈرو کلورک ایسڈ خارج کرتا ہے، اور جب یہ تیزاب اس وقت خارج ہو جب معدے میں ہضم کرنے کے لیے کچھ موجود نہ ہو، تو یہ معدے کی جھلی کو متاثر کرتا ہے اور سینے میں جلن پیدا کرتا ہے۔اگر یہ عمل طویل عرصے تک جاری رہے تو اس سے تیزابیت، بدہضمی اور ریفلکس (تیزاب کا اُلٹ آنا) جیسی تکالیف پیدا ہو سکتی ہیں۔مزید یہ کہ کافی جسم میں کورٹیزول یعنی تناؤ پیدا کرنے والے ہارمون کی پیداوار کو بھی بڑھاتی ہے۔
صبح کے وقت کورٹیزول کی زیادہ مقدار جسم میں ہارمونی توازن بگاڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دوپہر کے وقت غنودگی اور بعض اوقات بے چینی یا گھبراہٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ سیاہ کافی میں ہلکا سا ملین (جلاب آور) اثر بھی پایا جاتا ہے، جو اگر خالی پیٹ پی جائے تو بعض افراد کے لیے پریشانی یا پیٹ میں بے آرامی کا باعث بن سکتا ہے۔
3- مرچ مصالحے والے کھانے
مرچ مصالحے والے کھانے اگرچہ توانائی بخش محسوس ہوتے ہیں، لیکن انہیں خالی پیٹ کھانا اچھا خیال نہیں ہے۔ کیپسیسین، جو مرچ کو تیز بناتی ہے، ہاضمے کے نظام کو بہت زیادہ متحرک کر دیتی ہے، جس سے پیٹ میں اینٹھن، بدہضمی یا کچھ لوگوں میں اسہال ہو سکتا ہے۔ اسی طرح، جاگنے کے فوراً بعد مصالحے دار کھانا کھانے سے تیزابیت بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جنہیں معدے میں جلن یا سینے کی تیزابیت کی شکایت رہتی ہے۔
4- شریانوں کی صفائی اور خونی گردش میں بہتری لانے والی غذائیں
حساس معدے والے افراد یا جنہیں معدے کی سوزش (گَیسٹرائٹس) ہوتی ہے، ان کے لیے مرچ مصالحے والا کھانا معدے کی جھلی کو مزید خراش دیتا ہے اور علامات کو بڑھا دیتا ہے۔ بہتر ہے کہ ایسے لوگ مصالحہ دار کھانے دن میں بعد کے وقت کھائیں، جب ہاضمہ نظام زیادہ فعال ہوتا ہے اور تیز غذاؤں کو بہتر طور پر ہضم کر سکتا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دن بھر آنتوں کو صحت مند اور آرام دہ رکھنے کے لیے معتدل اور قلیائی (الکلائن) غذائیں استعمال کی جائیں۔ بھگوئے ہوئے بادام، کیلا اور پپیتا بہترین انتخاب ہیں، کیونکہ یہ قدرتی طور پر جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور ہاضمے کے عمل کو بہتر بناتے ہیں۔
مزید یہ کہ ماہرین صبح کے آغاز میں نیم گرم پانی، ہربل چائے یا دلیہ (اوٹس) لینے کی سفارش کرتے ہیں، تاکہ نظامِ ہاضمہ بہتر طور پر کام کرنا شروع کرے۔