جسم میں کولیسٹرول بڑھنے کی پانچ علامات کون سی ہیں؟
کولیسٹرول کا بڑھ جانا خون میں اس کی مقدار کے معمول سے زیادہ ہو جانے کو کہتے ہیں۔اگرچہ یہ چکنائی جیسی مادّہ جسم کے لیے ضروری ہے،جیسے خلیوں کی جھلی بنانا اور ہارمونز تیار کرنالیکن اس کا زیادہ ہونا صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
جب کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے، تو شریانیں تنگ ہونے لگتی ہیں، جس سے دل کی بیماریوں، فالج (اسٹروک) اور کئی دوسری سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کولیسٹرول اکثر خاموشی سے بڑھتا رہتا ہے، اس لیے زیادہ تر لوگ ابتدا میں صرف تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ ان کا کولیسٹرول بڑھ رہا ہے۔ لیکن کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جو اس کے بڑھنے کی تنبیہ بن سکتی ہیں۔
کولیسٹرول کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجوہات کو سمجھنا اور اس کی علامات پہچاننا صحت کی حفاظت میں مدد دے سکتا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق تحقیق بتاتی ہے کہ طرزِ زندگی کی عادتیں، جینیاتی عوامل اور بعض دیگر طبی مسائل مل کر خون میں کولیسٹرول کی سطح کو متاثر کرتے ہیں۔
آنکھوں کے اردگرد چربی کے ذخیرے
کولیسٹرول بڑھنے کی ابتدائی علامات میں جلد پر چھوٹے اُبھار یا پیلے نشان بننا شامل ہے، جنہیں زانتہ وماس کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً آنکھوں، کہنیوں یا گھٹنوں کے پاس بنتے ہیں، کیونکہ یہاں جلد کے نیچے کولیسٹرول جمع ہونے لگتا ہے۔
بعض لوگوں میں آنکھ کی پتلی کے گرد ہلکی سفید گول لکیر بھی نظر آتی ہے جسے ''قوسِ شیخوخی'''کہا جاتا ہے، جو شریانوں میں کولیسٹرول بڑھنے کی علامت ہوسکتی ہے۔
اگرچہ بہت سے مریضوں میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، مگر ایسی جلدی تبدیلیاں واضح اشارہ ہیں کہ جسم میں کولیسٹرول زیادہ ہے اور ڈاکٹر سے ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔ یہ علامات خاص طور پر اُن لوگوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہیں جن کا کولیسٹرول وراثتی طور پر بڑھا ہوا ہوتا ہے۔
سینے کا درد
بعض صورتوں میں کولیسٹرول کی زیادتی شریانوں میں چربی کی تہیں جمع کر کے انہیں تنگ کر دیتی ہے، جس سے خون کا بہاؤ کم ہوجاتا ہے۔ جب دل کو خون پہنچانے والی نالیاں تنگ ہوتی ہیں، تو سینے میں جکڑن، دباؤ یا جلن جیسا درد محسوس ہوتا ہے، جسے ذبحہِ صدری کہا جاتا ہے۔
یہ درد زیادہ تر جسمانی محنت، چلنے پھرنے یا ذہنی دباؤ کی حالت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ایک خطرے کی علامت ہے کہ دل کو مناسب آکسیجن نہیں مل رہی۔ اگر اس علامت کو نظرانداز کیا جائے تو یہ دل کے دورے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ایسے درد کا فوری معائنہ بہت اہم ہے۔
ٹانگوں میں مسلسل درد
کولیسٹرول کی تہیں ٹانگوں تک خون پہنچانے والی شریانوں میں بھی رکاوٹ پیدا کر سکتی ہیں، جسے مرضِ شریانِ محیطی (PAD) کہا جاتا ہے۔ اس میں چلنے یا ورزش کرنے پر ٹانگوں میں درد، بھاری پن یا جلن محسوس ہوتی ہے جو کچھ دیر آرام کرنے سے کم ہوجاتی ہے۔ اگر خون کی روانی بہت متاثر ہو جائے تو درد آرام کی حالت میں بھی رہتا ہے۔ یہ حالت سنگین ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے زخم، انفیکشن یا انتہائی صورت میں ٹانگ کے حصے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ٹانگوں کے ایسے مسائل بتاتے ہیں کہ کولیسٹرول کا اثر پورے جسم کی رگوں پر پڑ رہا ہے، صرف دل پر نہیں۔
ہاتھ کی انگلیوں کا جھک جانا یا انگلیوں کی گرفت کمزور ہونا
کولیسٹرول کے عدم توازن کی ایک کم جانی جانے والی علامت انقباضِ دوبویٹرین ہے، جس میں ہاتھ کی ہتھیلی کے اندرونی ریشے سخت ہوکر آہستہ آہستہ چوتھی اور پانچویں انگلی کو اندر کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ یہ انگلیاں سیدھی کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور ہاتھ کی حرکت محدود ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق جن لوگوں کا کولیسٹرول زیادہ ہوتا ہے یا جنہیں چربی سے متعلق بیماریاں وراثت میں ملتی ہیں، ان میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ انگلیوں میں ایسی تبدیلیاں دیکھ کر ڈاکٹر کولیسٹرول کے ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں، جس سے بروقت علاج ہو جاتا ہے اور دل و شریانوں کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ یہ علامت بتاتی ہے کہ کولیسٹرول کا اثر صرف رگوں تک محدود نہیں بلکہ جسم کے دوسرے ٹشوز تک بھی پھیل سکتا ہے۔
مسلسل تھکاوٹ اور سانس پھولنا
کولیسٹرول بڑھنے سے شریانیں آہستہ آہستہ تنگ ہوتی جاتی ہیں، جس سے پٹھوں اور جسم کے اعضاء کو ملنے والا آکسیجن کم ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے دل کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور انسان کو ہلکی تھکاوٹ یا سانس پھولنے کی شکایت ہونے لگتی ہے، خاص طور پر چلتے ہوئے یا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے۔
ابتدا میں یہ تھکاوٹ معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر جیسے جیسے رکاوٹ بڑھتی ہے، تھکاوٹ اور سانس کا پھولنا واضح ہوتا جاتا ہے۔ اگر مسلسل تھکاوٹ یا سانس لینے میں دشواری ہو تو یہ کولیسٹرول اور دل کی صحت چیک کروانے کی اہم علامت ہے۔
کولیسٹرول بڑھنے کی وجوہات
ماہرین کے مطابق خون میں کولیسٹرول بڑھنے کی بنیادی وجہ غیر صحت مند طرزِ زندگی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ طبی اور وراثتی عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔
تفصیل درج ذیل ہے:
خراب غذا
کولیسٹرول بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ غلط غذا کا استعمال ہے۔ وہ کھانے جو زیادہ چکنائی (سچوریٹڈ اور ٹرانس فیٹس) پر مشتمل ہوں ، جیسے زیادہ چربی والا گوشت، مکمل چکنائی والی ڈیری، فرائیڈ فوڈ، میٹھی بیکری اشیاء اور پیک شدہ اسنیکس خون میں نقصان دہ کولیسٹرول LDL بڑھا دیتے ہیں۔ یہ LDL پھر شریانوں کی دیواروں پر جم کر دل کی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔
ورزش نہ کرنا
جسمانی سرگرمی کی کمی بھی کولیسٹرول بڑھانے کا اہم سبب ہے۔ ورزش کرنے سے مفید کولیسٹرول HDL بڑھتا ہے، جو خون سے خراب کولیسٹرول صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن جب انسان دیر تک بیٹھا رہے اور کم حرکت کرے تو HDL کم ہوجاتا ہے اور نقصان دہ کولیسٹرول بڑھنے لگتا ہے۔ باقاعدہ چلنا، تیراکی، سائیکلنگ یا حتیٰ کہ سیڑھیاں چڑھنے جیسی آسان سرگرمیاں بھی کولیسٹرول کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
وراثتی عوامل
کچھ لوگوں میں کولیسٹرول بڑھنا جینیاتی ہوتا ہے۔ فیملیئل ہائپرکولیسٹرولیمیا (FH) ایک ایسی حالت ہے جس میں جسم پیدائشی طور پر LDL کو مؤثر طریقے سے خارج نہیں کر پاتا، جس کے باعث اس کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ایسے افراد میں جلدی کولیسٹرول کی تہیں بنتی ہیں اور اگر علاج نہ ہو تو کم عمری میں دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاندان میں دل کے دورے یا فالج کی تاریخ ہونا ایک اہم انتباہ سمجھا جاتا ہے اور ایسے افراد کو جلد کولیسٹرول ٹیسٹ کروانا چاہیے۔
ذیابیطس اور تھائرائیڈ سمیت دیگر بیماریاں
کچھ طبی مسائل بھی کولیسٹرول بڑھانے کا سبب بنتے ہیں، جیسے:ذیابیطس تھائرائیڈ کا کمزور ہونا (Hypothyroidism)گردوں اور جگر کی دائمی بیماریاںآٹوامیون بیماریاں جیسے Lupusیہ بیماریاں جسم میں چربی کے میٹابولزم کو متاثر کرتی ہیں، جس سے LDL اور ٹرائی گلیسرائیڈز بڑھ جاتے ہیں۔ ان بیماریوں کا صحیح علاج اور باقاعدہ کولیسٹرول ٹیسٹ بہت اہم ہیں۔
سگریٹ نوشی
سگریٹ نوشی مفید کولیسٹرول HDL کو کم اور نقصان دہ کولیسٹرول کو بڑھا دیتی ہے۔ اس سے شریانوں میں چربی تیزی سے جمع ہوتی ہے، جو دل اور خون کی نالیوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ سگریٹ چھوڑنے سے کولیسٹرول بہتر ہوتا ہے، دل مضبوط ہوتا ہے اور فالج سمیت دل کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔ صحت مند غذا اور ورزش کے ساتھ سگریٹ سے نجات ایک اہم قدم ہے۔