ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر کو چربی کے خلیات کے انجیکشن سے ٹھیک کرنے کا جدید طریقہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جاپانی محققین کی ایک ٹیم نے ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر کے علاج کے لیے ایک نیا اور امید افزا طبی طریقہ دریافت کیا ہے، جو خاص طور پر آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کی کمزوری) کے مریضوں کے لیے مستقبل میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
اس طریقے میں جسم کی چربی سے حاصل کی گئی اسٹیم سیلز کو ہڈی بنانے والے خلیات میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو علاج کے عمل کو ایک ''نرم'''اور غیر جراحی طریقے سے تیز کرتی ہیں۔

یونیورسٹی آف اوساکا میٹروپولیٹن کے جاپانی محققین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق جس کے نتائج جریدہ Bone Joint Research میں شائع ہوئے، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چربی کے ٹشوز سے حاصل کی گئی اسٹیم سیلزجو بزرگوں سے بھی بڑی آسانی سے لی جا سکتی ہیں،اس میں لیبارٹری تجربات میں خاص طور پر چوہوں پر کی گئی آزمائشوں میں ہڈیوں کے فریکچر کو ٹھیک کرنے کی واضح صلاحیت دکھائی دیتی ہے۔

ڈاکٹر شینجی تاکا ہاشی جو آرتھوپیڈک سرجن ہیں اور اس تحقیق کی قیادت کرنے والوں میں شامل ہیں، انھوں نے بتایا کہ یہ تکنیک سادہ، مؤثر اور حتیٰ کہ مشکل ترین فریکچر کے کیسز میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

ریڑھ کی ہڈی
ریڑھ کی ہڈی

سائنس نیوز ویب سائٹ Medicalxpressکے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ یہ نیا طریقہ ایسے علاج کی راہ ہموار کر سکتا ہے جو مریضوں کو تکلیف دہ سرجریوں کے بغیر زیادہ عرصے تک معمول کی زندگی گزارنے میں مدد دے گا۔

نئی تکنیک کیسے کام کرتی ہے؟

اس جدید طریقے میں جسم کی چربی سے حاصل کی گئی اسٹیم سیلز کو نکالا جاتا ہے، پھر انہیں حیاتیاتی طور پر اس طرح ''متاثر'''کیا جاتا ہے کہ وہ چھوٹی تین بُعدی خلیاتی گولیاں (spheroids) بنائیں۔ یہ اسپھیروئیڈز(Spheroids) ایسی خلیاتی ساختیں ہوتی ہیں، جو اپنی شکل اور کام کے لحاظ سے مخصوص بافتوں ہڈیوں جیسی خصوصیات اختیار کر لیتی ہیں۔

اس کے بعد ان خلیاتی گولیوں کو ایک ایسے مادّے کے ساتھ ملایا جاتا ہے جو عام طور پر ہڈیوں کی تعمیرِ نو میں استعمال ہوتا ہے اور بیٹا-ٹری کیلشیم فاسفیٹ (β-TCP) کہلاتا ہے، پھر اس مرکب کو فریکچر والی جگہ پر انجیکشن کے ذریعے داخل کیا جاتا ہے۔

چوہوں پر ہونے والے تجربات میں اس طریقے نے ریڑھ کی ہڈی کی مضبوطی میں واضح بہتری زخم کے جلد بھرنے اور ان جینز کے فعال ہونے کو ظاہر کیا جو ہڈیوں کی تشکیل اور اُن کی تجدید کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

ریڑھ کی ہڈی
ریڑھ کی ہڈی

ٹیسٹ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ خلیات نہ صرف ہڈیوں کی مرمت کرتے ہیں بلکہ جسم کے اپنے قدرتی شفائی عمل کو بھی متحرک کرتے ہیں۔ اس سے مستقبل میں روایتی سرجری کے مقابلے میں زیادہ محفوظ علاج کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر یوٹا ساوادا نے کہا: چونکہ یہ خلیات جسم کی چربی سے حاصل کیے جاتے ہیں، اس لیے یہ طریقہ محفوظ ہے اور مریض کے جسم پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس وجہ سے یہ ٹیکنیک خاص طور پر بزرگ مریضوں کے لیے ایک مناسب علاج ہو سکتی ہے۔

اہمیتِ دریافت

امریکا میں ہی آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کی کمزوری) کے مریضوں کی تعداد 20 ملین سے زیادہ ہے، امریکی ایف ڈی اے (FDA) کے مطابق ان میں اکثریت خواتین کی ہے جو سنِ یاس کے بعد ہارمونز میں کمی سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔
ریڑھ کی ہڈی کے کمپریشن فریکچر اس بیماری کی سب سے عام اور خطرناک پیچیدگیوں میں شامل ہیں، کیونکہ یہ مستقل درد اور زندگی کے معیار میں نمایاں کمی کا باعث بنتے ہیں۔

اگرچہ موجودہ علاج زیادہ تر ہڈیوں کے نقصان کو روکنے یا درد کو کم کرنے پر توجہ دیتے ہیں، لیکن نئی تکنیک پہلی بار ایک ایسا طریقہ پیش کرتی ہے جو واقعی متاثرہ ہڈی کو دوبارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اور اگرچہ نتائج ابھی جانوروں پر کی جانے والی تحقیق کے مرحلے میں ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگلا قدم اس تکنیک کا انسانی کلینیکل ٹرائلز میں استعمال ہے، تاکہ آئندہ برسوں میں یہ آسٹیوپوروسس سے وابستہ ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر کے لیے ایک انقلابی علاج ثابت ہو سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size