گرم پانی سے غسل کے فوائد، بلڈ پریشر کم کرتا اور ڈپریشن سے لڑتا ہے
ہفتے میں پانچ بار یا اس سے زیادہ گرم پانی سے نہانا دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کر سکتا ہے
حالیہ ریسرچ نے گرم پانی سے نہانے کے حیرت انگیز فوائد کا انکشاف کیا ہے۔ جسم کو گرم پانی میں ڈبونے سے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ گرم پانی سے غسل ذہنی اور پٹھوں کے تناؤ کو کم کرتا ہے اور طویل مدت میں دل، پٹھوں اور دماغ کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہفتے میں پانچ بار یا اس سے زیادہ گرم پانی سے نہانا دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔ جاپان میں ایک مطالعے سے ظاہر ہوا کہ 41 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر باقاعدگی سے پانی میں ڈوبنا دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے اور شریانوں کے بند ہونے کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ گرم پانی خون کے بہاؤ کو دل کی طرف منتقل کرتا ہے اور زیادہ درجہ حرارت بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بریسٹل یونیورسٹی کے ایک مطالعے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ باقاعدگی سے گرم پانی میں ریلیکس کرنا فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
ورزش کے اثر سے مماثلت
برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کی جنرل فزیشن مسرت جیلانی نے وضاحت کی کہ گرم پانی سے نہانے سے دل کی دھڑکن کی شرح 20 سے 40 دھڑکن فی منٹ تک بڑھ جاتی ہے ۔ یہ خون کی نالیوں کو پھیلاتی ہے جو درمیانی شدت کی ورزش کے اثر سے مشابہت رکھتی ہے۔
پورٹس ماؤتھ یونیورسٹی کی ایک ریسرچ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گرم غسل بلڈ پریشر کو کم کرنے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔ ایک تجربے جس میں 14 شرکاء شامل تھے، میں انہیں دو ہفتوں کے دوران کئی بار ایک گھنٹے کے لیے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے پانی میں ڈبویا گیا جس کے نتیجے میں ان کی بلڈ شوگر کو منظم کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی اور ان کا بلڈ پریشر کم ہوا۔
محققین اس کی وجہ "حرارتی جھٹکے کے پروٹین" کے اخراج کو قرار دیتے ہیں۔ یہ جھٹکے جسم کو قدرتی طور پر بلڈ شوگر کو ایڈجسٹ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، نہانے کے دوران خون کے بہاؤ میں اضافہ طویل مدت میں نئی کیپلیریز (چھوٹی خون کی نالیوں) کی تشکیل میں معاون ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے۔
ڈپریشن میں کمی
ایک جرمن مطالعہ بتاتا ہے کہ گرم غسل درمیانی ورزش کے مقابلے میں ڈپریشن کو کم کرنے میں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔ دو ہفتوں کے دوران ہفتے میں دو بار حرارتی غسل کے سیشن کے بعد شرکاء نے ڈپریشن کے سکور میں ان لوگوں کے مقابلے میں نمایاں کمی دیکھی جنہوں نے ورزش کی تھی۔ ماہرین اس کی وجہ جسم کے نارمل حرارتی توازن کی بحالی کو قرار دیتے ہیں جو اکثر ڈپریشن کے مریضوں میں بگڑ جاتا ہے۔
ڈاکٹر مسرت جیلانی وضاحت کرتی ہیں کہ گرم پانی کا غسل کورٹیسول کی سطح کو کم کرتا ہے اور اینڈورفنز کی پیداوار کو متحرک کرتا ہے جو موڈ کو بہتر بناتا ہے اور نیند کے معیار کو بڑھاتا ہے۔ خاص طور پر اگر سونے سے ایک یا دو گھنٹے پہلے گرم پانی سے غسل کیا جائے تو یہ فوائد اور بہتر طریقے سے حاصل ہوتے ہیں۔
پٹھوں کے درد کو سکون
گرم پانی کا غسل اعضاء میں خون کے بہاؤ کو بڑھاتا ہے اور پٹھوں اور جوڑوں پر دباؤ کم کرتا ہے جو گٹھیا یا ورزش کے بعد پٹھوں کے تناؤ کا شکار لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بزرگ گرم غسل سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ خون کے بہاؤ میں اضافہ پٹھوں کو بحال ہونے اور درد کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر جیلانی خبردار کرتی ہیں کہ گرم غسل غیر مستحکم دل کے مریضوں کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے اور انہیں ماہر امراض قلب سے مشورہ کرنے کی تاکید کرتی ہیں۔