آٹھ عادات جو ریٹائرمنٹ کی زندگی کو خوشگوار اور سرگرمیوں سے بھرپور بناتی ہیں

نئے سال کے آغاز کے ساتھ ریٹائرمنٹ کے سالوں کو ایک سنہری دور میں بدلا جا سکتا ہے،ایسا وقت جو لطف اندوز ہونے اور طویل عرصے کی محنت کے ثمرات سمیٹنے کا موقع فراہم کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

بعض لوگوں کے لیے ریٹائرمنٹ وہ سنہری دور ہوتی ہے، جس میں وہ آخرکار برسوں کی سخت محنت کے ثمرات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اس لیے یہ مرحلہ اُن کے لیے نہایت خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کچھ افراد ریٹائرمنٹ کو ایک ایسی خلیج سمجھتے ہیں، جو خالی پن سے بھری ہوتی ہے، خصوصاً جب اس کی مناسب منصوبہ بندی نہ کی گئی ہو،خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو اپنا مقصد اور شناخت کام میں پاتے ہیں۔
گلوبل انگلش ایڈیٹنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق روزمرہ معمول سے کام کا عنصر نکل جانے سے زندگی بے رنگ اور غیر مطمئن ہوسکتی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ کچھ مخصوص عادات ریٹائرمنٹ کو خالی پن کے بجائے ایک پُرلطف اور تسلی بخش دور بنا سکتی ہیں، جیسا کہ درج ذیل ہے:

تعلقات قائم کرنا اور ان کا خیال رکھنا

ریٹائرمنٹ کی خوشگوار زندگی کا ایک پہلو جو اکثر نظرانداز رہ جاتا ہے، وہ رشتوں کو برقرار رکھنا اور اُن کی پرورش کرنا ہے۔ سماجی رابطے ضروری ہیں، لیکن یہ فعال عملی زندگی کی طرح خودبخود نہیں ہوتے۔ریٹائرمنٹ کے مرحلے میں دوستوں، خاندان، سابق ساتھیوں، پڑوسیوں، حتیٰ کہ نئے لوگوں کے ساتھ بھی تعلقات بنانے کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بات صرف تعداد کی نہیں بلکہ بامعنی اور معیاری تعلقات بھی اتنے ہی اہم ہیں، کیونکہ یہی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کو حقیقی معنوں میں مالا مال کرتے ہیں۔

نئی مشاغل کا فروغ

ریٹائرمنٹ کا مرحلہ وقت کی فراوانی فراہم کرتا ہے، کیونکہ اب فارغ وقت دستیاب ہوتا ہے ،جسے ایسے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے ،جو واقعی جذبے کو جگائیں۔ نئے مشاغل سیکھے جا سکتے ہیں ،جو چیلنجز سے بھرپور ہوں اور وقت کے ساتھ یہ جذبات، تخلیقات اور یہاں تک کہ جسمانی فٹنس کے لیے بھی ایک ذریعہ بن جائیں۔

باقاعدگی سے ورزش کرنا

حرکت زندگی کی بنیاد ہے ۔ یہ کہاوت ریٹائرمنٹ کے سنہری سالوں پر بھی ویسا ہی لاگو ہوتی ہے ،جیسا کہ کسی اور وقت پر۔ باقاعدہ ورزش کرنے سے نہ صرف اچھی صحت برقرار رہتی ہے، بلکہ مزاج بھی بہتر ہوتا ہے، توانائی میں اضافہ ہوتا ہے اور نیند بھی بہتر آتی ہے۔تیز چلنے، پارک میں واک کرنے، ہلکی یوگا کلاسز یا کم اثر والی آبی ایروبکس جیسی سرگرمیوں سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔
اس فہرست میں مزید بہت کچھ شامل ہے۔باقاعدہ ورزش دماغی افعال کو بھی برقرار رکھتی ہے، کیونکہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جسمانی سرگرمی دماغی بڑھاپے کے عمل کو نمایاں طور پر سست کر سکتی ہے، یہاں تک کہ دس سال تک۔

تنہائی کی قدر سیکھنا

اگرچہ تعلقات قائم کرنے اور سماجی زندگی کو برقرار رکھنے پر زور دیا جاتا ہے، لیکن اتنا ہی اہم ہے کہ تنہائی کا لطف لینا بھی سیکھا جائے۔ ریٹائرمنٹ عموماً زندگی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے اور کام کے شور و غل والے سالوں کے مقابلے میں زیادہ وقت اکیلے گزارنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔لیکن اس تنہائی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ تنہا یا اکیلا محسوس کریں۔ بلکہ یہ اپنے آپ کے ساتھ سکون پانے، خاموش لمحات سے لطف اندوز ہونے اور انہیں ذاتی ترقی اور خود شناسی کے لیے استعمال کرنے کا موقع ہے۔


کمیونٹی کی خدمت کرنا

ریٹائرمنٹ کمیونٹی کی خدمت کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے اور یہ عمل کامیابی اور مقصد کا احساس دیتا ہے،یہ دونوں خوشگوار ریٹائرمنٹ کی زندگی کے لیے بنیادی عناصر ہیں۔ کسی فرد کے لیے یہ فیصلہ کرنا کہ وہ اپنا وقت، وسائل یا مہارتیں کم خوش قسمت لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرے، انتہائی فائدہ مند اور تسکین بخش ثابت ہو سکتا ہے۔

ذہنی ہوش مندی کی مشق کرنا

یہ اصطلاح جدید دور میں عام لگ سکتی ہے، لیکن ذہنی ہوش مندی کی مشق ریٹائرمنٹ کے مرحلے میں صحت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ مشق موجودہ لمحے میں جینے اور حال کی قدر کرنے کی ترغیب دیتی ہے، بجائے اس کے کہ ماضی یا مستقبل پر زیادہ توجہ دی جائے۔ذہنی ہوش مندی کے لیے کوئی پیچیدہ یا طویل معمول ضروری نہیں، بلکہ یہ موجودہ لمحے کی قدر کرنے سے متعلق ہے۔ باقاعدگی سے اس کی مشق کرنے سے یہ عادت بن سکتی ہے، جو ریٹائرمنٹ کی زندگی کو سکون اور روزمرہ کے معجزات کی نئی قدر سے بھر دے گی۔

مسلسل سیکھنا

مسلسل سیکھنے کا حسن اس میں ہے کہ یہ دماغ کو متحرک رکھتا ہے، جس سے ریٹائرمنٹ کے سال بوریت سے دور رہتے ہیں۔ دنیا میں بے شمار چیزیں ہیں جو اکثر لوگ نہیں جانتے وہ صرف راز ہیں، جو کسی نے پہلے دریافت نہیں کیے اور مہارتیں ہیں جو ابھی ترقی نہیں پائیں۔لہٰذا ریٹائرمنٹ ایک ایسا موقع ہے ،جو وقت فراہم کرتا ہے کہ مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے، چاہے نئی زبان سیکھنا ہو، کسی موسیقی کے آلے پر عبور حاصل کرنا، دنیا کی تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا یا جدید ٹیکنالوجی کی تازہ ترین ترقیات سے آگاہ ہونا۔ اختیارات بے شمار ہیں اور یہ دماغ کو متحرک رکھنے، جذبہ جگانے اور فارغ وقت کو مفید طریقے سے بھرنے میں مؤثر ہیں۔

تبدیلی کو قبول کرنا اور لچکدار رہنا

ریٹائرمنٹ زندگی میں ایک نمایاں تبدیلی ہے اور جامد رویے میں پھنس جانا آسان ہے۔ لیکن تبدیلی کو قبول کرنا اور لچکدار رہنا ایک خوشگوار ریٹائرمنٹ کی زندگی کے لیے ضروری اوزار ہیں۔تھکا دینے والا معمول اور نئی چیزیں آزمانے کی ناپسندیدگی شخص کو ریٹائرمنٹ کے بعد دلچسپ مواقع اور تجربات سے محروم کر سکتی ہے۔ زندگی ریٹائرمنٹ میں بھی غیر متوقع موڑ پیش کرتی ہے، لیکن ان کے مطابق خود کو ڈھالنا قابلیت اور نرمی کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ریٹائرمنٹ کی خوبصورتی اس کی آزادی میں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ فرد نئے وقت پر جاگنے، نئی غذاؤں کا ذائقہ چکھنے، غیر مانوس جگہوں کا دورہ کرنے اور نئے خیالات سے لطف اندوز ہونے کے لیے کھلا دل رکھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size