بیٹیوں کی پیدائش باپ کو ڈیمنشیا سے بچاتی ، دماغی صحت کو برقرار رکھتی: حیران کن تحقیق

یہ بڑھاپے میں دماغ کی صحت اور یادداشت کو برقرار رکھتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اگر آپ بیٹیوں کے باپ ہیں تو آپ تصور سے کہیں زیادہ خوش قسمت ہو سکتے ہیں۔ نہ صرف جذباتی طور پر بلکہ صحت کے لحاظ سے بھی بیٹیوں کا باپ ہونا مفید ہے۔ ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق بیٹیوں کی پیدائش باپ کو ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے سے بچانے اور بڑھاپے میں دماغی صحت و یادداشت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

جرنل آف ویمن اینڈ ایجنگ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں پایا گیا کہ وہ عمر رسیدہ باپ جن کی بیٹیاں ہیں، وہ صرف بیٹوں والے باپوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط یادداشت اور بہتر ادراکی افعال کے حامل ہوتے ہیں۔ نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ جن والدین نے بیٹیوں کی پرورش کی۔ انہوں نے ادراکی صلاحیتوں اور دماغی صحت کے امتحانات میں زیادہ نمبر حاصل کیے۔

صرف بیٹیاں ہی کیوں؟

محققین کا خیال ہے کہ اس کا راز حیاتیاتی عنصر میں نہیں بلکہ اس جذباتی اور سماجی تعاون میں چھپا ہے جو بیٹیاں عام طور پر عمر کے آخری مراحل میں اپنے والدین کو فراہم کرتی ہیں۔ لڑکیاں اکثر والدین کی عمر کے حساس مراحل میں خاندان کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔ وہ زیادہ جذباتی سہارا، طبی نگہداشت، مستقل دیکھ بھال اور ایسا سماجی رابطہ فراہم کرتی ہیں جو والدین میں تنہائی کے احساس کو کم کرتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر دماغ کو متحرک رکھنے اور ذہنی تنزلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماؤں پر زیادہ اثر

تحقیق اشارہ کرتی ہے کہ بیٹیوں کی پیدائش کا دماغی صحت پر مثبت اثر باپوں کے مقابلے میں عمر رسیدہ ماؤں پر زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے کیونکہ ماں اس جذباتی لگاؤ اور سماجی نگہداشت سے بھرپور فائدہ اٹھاتی ہے جو بیٹیاں فراہم کرتی ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے؟

ڈیمنشیا دنیا بھر میں خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ یادداشت کے ضائع ہونے، سوچنے اور توجہ دینے کی صلاحیت میں کمی اور دوسروں سے رابطے میں دشواری کا باعث بنتی ہے۔ یہ رفتہ رفتہ انسان کی خود مختاری کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ آج تک کسی حتمی علاج کی عدم موجودگی میں سماجی تعاون، خاندانی لگاؤ، ذہنی سرگرمی اور تنہائی میں کمی جیسے سماجی عوامل کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ انسانی تعلق محض جذبات کا نام نہیں بلکہ یہ صحت کی حفاظت کا ایک حقیقی ذریعہ ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق والدین کی زندگی میں بیٹیوں کا ہونا انہیں نہ صرف شفقت دیتا ہے بلکہ ان کے ذہنوں کی حفاظت بھی کر سکتا ہے اور ڈیمنشیا کے خطرے کو مؤخر کر سکتا ہے۔ یوں بیٹیاں واقعی ایک ہی وقت میں جذباتی اور طبی نعمت ثابت ہوتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size