افریقی تہذیب کے رنگ: مراکش کی سڑکوں اور اسٹیڈیمز میں ملبوسات اور ترانوں کا دلکش سماں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

افریقی براعظم سے آنے والے مہمان اپنے ساتھ صرف موسیقی کی سمفنی، انسانی جذبات کی تصویریں اور زندگی سے بھرپور رنگین ملبوسات ہی نہیں لائے، بلکہ جیسے آسمان نے بھی سخاوت دکھائی اور برسوں کی خشکی کے بعد بارش برس کر مراکش کی گلیوں اور راستوں کو یورپی منظرنامے کی سی دلکشی بخش دی۔

خوبصورت الوداع کے لمحات میں جب پردہ گرنے کے قریب تھا، مراکش کے اسٹیڈیمز میں ایک زندہ دل افریقی داستان رقم ہوئی، جبکہ کیفے افریقی چھوٹی چھوٹی پارلیمانوں میں بدل گئے، جہاں براعظم کے مختلف لوگ ایک ہی ثقافتی چھت تلے جمع ہو گئے،ایسی چھت جو شناخت، موسیقی، زبان اور مشترکہ خوشی کی دھڑکن سے آباد تھی۔

تاریخ کی فصیلوں کے سائے میں'' اودایہ ''میں نسوانیت کی گیند پر حکمرانی

ماضی کی عظمت اور جدید خواہشات کے حسین امتزاج میں مراکشی خواتین نے ملک کے مشہور قلعوں اور قدیم شہروں کے سامنے گیند سے کھیلنے کا انتخاب کیا۔

رباط کے دل میں واقع ''اودایہ '' کے مقام پر جہاں نیلی دیواریں سمندر سے ہمکلام ہیں، مراکشی عورت نے اپنے جسم اور فٹبال کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا اعلان کیا۔یہاں فری اسٹائل محض کھیل نہیں رہا بلکہ نرم جسمانی ردھم میں ڈھل گیا، جو تاریخ کی شان دار فضا میں نسوانی حسن، جمال اور خوداعتمادی کی دلکش تصویر بن کر ابھرا۔

راہ گیرجو اہلِ دیار بن گئے: ایک کہانی

مراکش کی قدیم گلیوں اور عوامی کیفوں کے دل میں مہاجر اب محض راہ سے گزرنے والے نہیں رہے، بلکہ زمین اور وابستگی کے حقیقی شریک بن چکے ہیں۔ ان کے بچے روانی کے ساتھ دارجہ بولتے ہوئے پروان چڑھے اور یوں اس زبان کو شناخت اور مراکشی ''فنِ زیست '' میں گھلنے ملنے کا ذریعہ بنا دیا۔یہ مخلص ہم آہنگی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پھیل چکی ہے، جہاں وہ اپنی وابستگی کے لمحوں کو محفوظ کرتے ہیں اور دنیا کو دکھاتے ہیں کہ کس طرح مراکش ان کے خوابوں اور نغموں کے لیے ایک گرم جوش آغوش بن گیا ہے،ایسی آغوش جو افریقی براعظم کی روح کو مراکشی لہجے اور مشترکہ افریقی دھڑکن کے ساتھ یکجا کرتی ہے۔

گیند بطور ذریعۂ انضمام محض کھیل نہیں

افریقی فٹبال نے اجتماعی یادداشت اور احساس پر جو اثرات مرتب کیے ہیں، ان کے حوالے سے کھیلوں کی پالیسی کے محقق یوسف داعی کا کہنا ہے کہ مراکش میں افریقہ کپ کی میزبانی محض ٹائٹل کی دوڑ سے کہیں بڑھ کر ہے، یہ دراصل ایک غیر معمولی سماجی موڑ ہے۔

ان کے مطابق فٹبال ہمیشہ سے سماج کے باطن کی سب سے سچی عکاسی کرتا آیا ہے اور آج اسٹیڈیم ہمیں خاموش مگر گہری تبدیلیوں کو دیکھنے کا موقع دے رہے ہیں،ایسی تبدیلیاں جن کی وسعت کا ادراک ہمیں تب ہوا ،جب ان پر براعظمی روشنی پڑی۔

محقق نے ''العربیہ ڈاٹ نیٹ ''سے گفتگو میں کہا کہ سب سے متاثر کن منظر صرف اسٹیڈیمز کا معیار نہیں، بلکہ وہ نیا افریقی نوجوان طبقہ ہے جو مراکش میں مقیم ہے اور جس نے ہمیں ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔؎
ان کا کہنا تھا:ہم ایسے نوجوانوں کو دیکھ کر حیران ہوئے جو اب محض مہمان نہیں رہے، بلکہ مراکشی ثقافت پر عبور حاصل کر چکے ہیں،وہ روانی سے دارجہ اور امازیغی بولتے ہیں، ہماری ثقافتی علامتوں اور مقامی مزاح کو میدانوں اور تماشائی حصوں میں پورے اعتماد اور اپنائیت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔

اپنے تجزیے کے اختتام پر محقق اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ فطری ثقافتی انضمام مراکش کی قبولیت اور ہم آہنگی کی صلاحیت کا سب سے مضبوط ثبوت ہے۔

ان کے مطابق "کان" مراکش کو ایک جدید اور روشن خیال ملک کے طور پر پیش کرنے کا بہترین موقع ہے،ایک ایسا ملک جو تخلیقی بقائے باہمی کی عملی مثال ہے، جو دنیا کو یہ باور کراتا ہے کہ مراکش محض گزرگاہ نہیں بلکہ ایسا وطن ہے جہاں افریقی دھڑکن نے ٹھکانہ پایا اور مراکشی لہجے کے ساتھ ایک مشترکہ انسانی داستان میں ڈھل گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size