قومی ورثے کی تکریم کے طور پر الاحساء میں ’’روایتی بشت‘‘ کا احیاء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

قومی ورثہ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی مشرقی گورنری الاحساء میں ’’روایتی بشت‘‘ فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جو اس قدیم روایتی دستکاری کی تکریم میں منعقد ہو گا۔

یہ فن مشرقی صوبے کی ثقافتی شناخت کی نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ اقدام قومی ورثے کے تحفظ اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔

فیسٹیول کی سرگرمیوں کا آغاز آئندہ منگل کو ہو گا، جو گورنر مشرقی صوبہ شہزادہ سعود بن نائف بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقد کیا جائے گا اور یہ تقریبات 7 فروری 2026ء تک جاری رہیں گی۔

فیسٹیول کا انعقاد قصرِ ابراہیم تاریخی محل میں کیا جائے گا، جو الاحساء کے نمایاں تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ فیسٹیول ایک جامع ثقافتی اور ورثہ جاتی تجربہ پیش کرے گا، جس میں روایتی عربی چوغہ [بشت] کی جمالیات اور تاریخ کو اجاگر کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے ایک متحرک اور انٹر ایکٹیو پروگرام ترتیب دیا گیا ہے، جس میں ہاتھ سے بُنائی، زری کے کام اور بشت سازی سے متعلق خصوصی ورکشاپس شامل ہوں گی، جبکہ اس قدیم دستکاری کے باریک اور دقیق مراحل سے بھی زائرین کو روشناس کرایا جائے گا۔

بشت تیار کرنے والے کاریگر
بشت تیار کرنے والے کاریگر

فیسٹیول میں مقامی کاریگروں کو بااختیار بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس ضمن میں ان کے لیے مخصوص نمائش اور فروخت کے مقامات فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کر سکیں، اپنی پیداواری صلاحیتوں کو فروغ دیں اور روایتی دستکاریوں کے استحکام کو تقویت ملے، جسے مقامی ثقافتی معیشت کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

حقیقی اور غیر حقیقی ورثے کا امتزاج

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل قصرِ ابراہیم کا تقریب کے مقام کے طور پر انتخاب حقیقی اور غیر حقیقی ثقافتی ورثے کے باہمی امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔

اس تناظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ الاحساء خود عالمی سطح پر غیر حقیقی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل ہے، جو اس تقریب کو ایک اضافی ثقافتی اور تہذیبی اہمیت عطا کرتا ہے۔

یہ فیسٹیول قومی ورثہ اتھارٹی کے اُن پروگراموں کا حصہ ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون ہیں۔ ان کا مقصد قومی شناخت پر فخر کو فروغ دینا، مقامی ثقافتی ورثے کا احیا کرنا اور ثقافت کو معاشی و سماجی ترقی کے ایک مؤثر محرک کے طور پر مضبوط بنانا ہے، جبکہ روایتی دستکاریوں کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے اور ان کے پائیدار تسلسل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size