اکثر گھریلو دسترخوانوں پر موجود دالیں اور پھلیاںجیسے لوبیا، راجما، دال اور چنےسادہ سمجھی غذا سمجھی جاتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ غذائیں صحت کا ایک مکمل خزانہ ہیں۔ غذائیت سے بھرپور ہونے کے باوجود روزمرہ خوراک میں انہیں وہ توجہ نہیں مل پاتی جس کی یہ حق دار ہیں۔
حالیہ غذائی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ دالوں اور پھلیوں کا باقاعدہ استعمال دل کی صحت بہتر بنانے، بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے اور ہاضمہ درست کرنے میں مدد دیتا ہے، بلکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
دالوں اور پھلیوں میں غذائی ریشہ (فائبر) وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، خاص طور پر حل پذیر فائبر جو خون میں موجود مضر کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ فائبر کولیسٹرول کو جذب کر کے جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے، جس کے نتیجے میں دل اور شریانوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دالوں اور پھلیوں کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان میں قدرتی طور پر سوڈیئم کم اور پوٹاشیم زیادہ ہوتا ہے۔ پوٹاشیم ایک اہم عنصر ہے جو خون کی نالیوں کو پھیلانے میں مدد دیتا ہے اور جسم میں سوڈیئم کے اثرات کو کم کرتا ہے۔
یہی توازن بلڈ پریشر میں کمی کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً ان افراد میں جو ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوں یا اس کے خطرے سے دوچار ہوں۔
دالیں اور پھلیاں نباتاتی آئرن کا بھی اہم ذریعہ ہیں، جو دماغی افعال، خلیوں کی نشوونما اور ہارمونز کی تیاری کے لیے ضروری ہے۔ اگرچہ اس آئرن کا جذب حیوانی ذرائع کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، تاہم وٹامن سی سے بھرپور غذاؤں، جیسے شملہ مرچ یا ٹماٹر، کے ساتھ استعمال کرنے سے اس کا جذب بہتر ہو جاتا ہے۔
اسی طرح دالوں اور پھلیوں میں فولیٹ (وٹامن بی 9) وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، جو دورانِ حمل پیدائشی نقائص کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ ڈی این اے کی تیاری اور خلیوں کی تقسیم میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دالیں اور پھلیاں میگنیشیم سے بھی بھرپور ہوتی ہیں، جو جسم میں سینکڑوں حیاتیاتی عمل خصوصاً بلڈ شوگر کے نظم اور پٹھوں و اعصاب کے افعال سے جڑی ہوئی ہیں۔
غذائی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ میگنیشیم اور فائبر سے بھرپور غذائیں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے سے وابستہ ہیں۔اس کے علاوہ دالوں اور پھلیوں میں ایک خاص قسم کا فائبر پایا جاتا ہے جسے ریزسٹنٹ اسٹارچ کہا جاتا ہے، جو آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کی غذا بنتا ہے۔
اس سے آنتوں کے مائیکرو بایوم کا توازن بہتر ہوتا ہے، آنتوں کی حرکت میں بہتری آتی ہے اور قبض جیسے مسائل میں کمی واقع ہوتی ہے۔
تاہم ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دالوں اور پھلیوں کو خوراک میں بتدریج شامل کیا جائے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو فائبر کا زیادہ استعمال نہیں کرتے، تاکہ گیس یا پیٹ پھولنے جیسی شکایات سے بچا جا سکے۔
پیٹ بھرنے کا احساس اور وزن پر قابو پانے میں مدد
دالوں اور پھلیوں میں موجود فائبر اور پروٹین کا امتزاج ہاضمے کے عمل کو سست کرتا ہے اور دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس دیتا ہے، جس کے نتیجے میں دن بھر لی جانے والی کیلوریز میں کمی آ سکتی ہے اور وزن کم کرنے کی کوششوں کو سہارا ملتا ہے۔
اسی طرح جو افراد گوشت کم استعمال کرتے ہیں یا نباتاتی غذا اپناتے ہیں، ان کے لیے دالیں اور پھلیاں پروٹین کا ایک اہم ذریعہ ہیں، جو پٹھوں کی تعمیر، خلیوں کی تجدید اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔