سعودی عرب میں ثقافتی فنڈ کی سرپرستی میں 500 مرد و خواتین شیفس نے ’’کلنری آرٹس مینجمنٹ ڈپلومہ‘‘مکمل کرکے ملازمت حاصل کی۔ اس حوالے سے تقریب منعقد کی گئی۔ یہ منصوبہ ثقافتی فنڈ کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں سے ایک ہے اور ٹورازم اینڈ ہاسپیٹلٹی کے اعلیٰ انسٹی ٹیوٹ کے پروگراموں کا حصہ ہے۔ یہ تقریب ریاض کے کنگ فہد کلچرل سینٹر میں منعقد ہوئی جس میں شراکت داروں، کاروباری افراد اور فارغ التحصیل افراد کے اہل خانہ سمیت تقریباً 2000 مہمانوں نے شرکت کی۔
تقریب میں اس تربیتی پروگرام کے 500 تربیت یافتہ افراد کی گریجویشن کا جشن منایا گیا جس کا اختتام ملازمت پر ہوتا ہے۔ اڑھائی سال پر محیط یہ پروگرام سعودی عرب کے تین شہروں الباحہ، جازان اور ریاض میں منعقد کیا گیا جس کا مقصد کلنری آرٹس کے شعبے میں قومی کیڈرز کو تیار کرنا اور انہیں لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے ضروری علم اور عملی تجربہ فراہم کرنا تھا۔
پروگرام نے ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ فنڈ (هدف) سے منظور شدہ ڈپلومہ سرٹیفکیٹس کے ساتھ ساتھ مملکت کے ممتاز ہاسپیٹلٹی اداروں، بشمول ریڈیسن بلو اور میریٹ ہوٹل گروپس میں براہ راست ملازمت کے معاہدے بھی فراہم کیے۔ تقریب میں ثقافتی فنڈ کے چیف بزنس آفیسر باسل العلولا نے خطاب کرتے ہوئے ٹیلنٹ کی ترقی اور ثقافتی مہارتوں کے لیے فنڈ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس پروگرام کے معاشی اثرات سے آگاہ اور بتایا اس پروگرام نے تمام تربیت یافتہ افراد کی ملازمت میں مدد کی اور مجموعی مقامی پیداوار (جی ڈی پی) میں 76 ملین ریال کا اضافہ کیا۔
تقریب سے ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ فنڈ (هدف)، ہائر انسٹی ٹیوٹ فار ٹورازم اینڈ ہاسپیٹلٹی اور نیشنل سینٹر فار اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں نمایاں فارغ التحصیل طلبہ کو اعزازات سے نوازا گیا ۔ انسٹی ٹیوٹ نے ہاسپیٹلٹی ہاؤسز اور ہوٹل گروپس کے ساتھ متعدد معاہدوں پر دستخط کیے۔ تقریب کا اختتام ان شراکت داروں کی اعزازی تقریب پر ہوا جنہوں نے پروگرام کی کامیابی میں حصہ لیا۔
یہ پروگرام ثقافتی منصوبوں کے لیے ثقافتی فنڈ کے تعاون اور کاروباری افراد و تخلیق کاروں کو بااختیار بنانے کے سلسلے کی ایک کڑی ہےکیونکہ یہ فنڈ سعودی عرب میں ثقافتی شعبے کے لیے مالیاتی بااختیار بنانے اور مہارت کا مرکز ہے۔ یہ کوششیں جی ڈی پی اور معیارِ زندگی میں ثقافتی منصوبوں کے تعاون کو بڑھا کر ثقافتی شعبے کے معاشی اور سماجی اثرات کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے عین مطابق ہے۔