سردیوں میں جلد کو زیادہ خشک کرنے والی صبح کی عادات، آخری عادت نہایت عام ہے
سردیوں کے موسم میں جلد کو خاموش نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ درجۂ حرارت اور نمی میں کمی جلد کی حفاظتی تہہ کو کمزور کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں جلد زیادہ خشکی، حساسیت اور قبل از وقت بڑھاپے کا شکار ہو جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کچھ صبح کی عادات بھی ایسی ہوتی ہیں جو ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔ ذیل میں ان عادات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اکثر لوگ لاعلمی میں اپناتے ہیں، حالانکہ یہ جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔یہ تمام عادات صبح کے اسکن کیئر روٹین کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کا بار بار تکرار جلد کی خشکی بڑھانے اور اس کی تازگی ختم کرنے کا سبب بنتی ہے۔
گرم پانی سے چہرہ دھونا
سرد موسم میں گرم پانی سے چہرہ دھونا بظاہر خوشگوار لگتا ہے، لیکن گرم پانی جلد کی سطح سے قدرتی چکنائی اور ضروری سیرامائیڈز کو ختم کر دیتا ہے اور نمی کے تیزی سے ضائع ہونے کا باعث بنتا ہے، جس سے جلد خشک، کھردری اور باریک لکیروں کا شکار ہو جاتی ہے۔گرم پانی جلد کی قدرتی نمی کی حفاظتی تہہ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، سوزش کو بڑھاتا ہے اور کولیجن کے ضیاع کو تیز کرتا ہے۔ اسی لیے ماہرین نیم گرم پانی کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں، جو جلد کو مؤثر طریقے سے صاف کرتا ہے بغیر اس کی قدرتی نمی کا توازن بگاڑے۔
صبح موئسچرائزر کو نظر انداز کرنا
رات کے دوران جلد اپنی نمی کھو دیتی ہے، اس لیے صبح کے وقت اسے بھرپور نمی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ سردیوں میں ایسے موئسچرائزر کے استعمال کی سفارش کی جاتی ہے، جن میں سیرامائیڈز، نیاسینامائیڈ اور پیپٹائیڈز جیسے اجزا شامل ہوں ،جو جلد کی حفاظتی تہہ کو مضبوط بناتے ہیں۔چہرہ دھونے کے 60 سیکنڈ کے اندر موئسچرائزر لگانا بہتر ہوتا ہے تاکہ نمی برقرار رہے اور اجزا جلد کے اندر بہتر طور پر جذب ہو سکیں۔
اس موسم میں جیل کے بجائے کریم کی شکل میں موئسچرائزر زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر اگر آپ خشک ماحول میں رہتے ہوں یا ہیٹر والی جگہوں پر زیادہ وقت گزارتے ہوں۔
موئسچرائزر یا سن اسکرین کے بغیر وٹامن C کا استعمال
وٹامن C سے بھرپور جدید سیرمز پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہوتے ہیں، لیکن اگر انہیں چہرہ صاف کرنے کے فوراً بعد بغیر موئسچرائزر کے لگایا جائے تو یہ خشکی یا جلن کا باعث بن سکتے ہیں اور سن اسکرین کے بغیر استعمال کرنے پر جلد کی روشنی کے لیے حساسیت بڑھا سکتے ہیں۔اسی لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وٹامن C سے پہلے موئسچرائزنگ سیرم استعمال کیا جائے اور اس کے بعد کم از کم SPF 30 والا سن اسکرین لگایا جائے۔
جھاگ دار یا سخت کلینزر کا استعمال
جھاگ بنانے والے یا سلفیٹس پر مشتمل کلینزر استعمال کرنے سے بظاہر جلد بہت صاف محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ جلد کی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس سے جلد کی تازگی کم اور بڑھاپا تیز ہو جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ نرم اور
متوازن پی ایچ والا کلینزر استعمال کیا جائے جو جلد کو اس کی قدرتی چکنائی سے محروم کیے بغیر صاف کرے۔
سرد موسم میں سن اسکرین کا استعمال نہ کرنا
ابر آلود یا بارش والا موسم یہ نہیں بتاتا کہ الٹرا وائلٹ شعاعیں موجود نہیں ہوتیں۔ UVA شعاعیں سال بھر موجود رہتی ہیں اور ڈی این اے کو نقصان اور جلد کی عمر میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ اس لیے خاص طور پر آلودہ شہروں میں اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور سن اسکرین کا استعمال ضروری ہے۔
خشک جلد پر فعال اجزا لگانا
ماہرینِ جلد کے مطابق سردیوں میں ریٹینوئڈز، تیزاب اور ایکسفولی ایٹنگ سیرمز جلد کے لیے زیادہ سخت ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں خشک یا غیر مرطوب جلد پر لگایا جائے، جس سے جلن پیدا ہوتی ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان اجزا کو پہلے سے نم یا موئسچرائزڈ جلد پر لگایا جائے اور آغاز میں ہفتے میں دو سے تین بار استعمال کیا جائے تاکہ جلد آہستہ آہستہ عادی ہو سکے۔
سن اسکرین کے بجائے SPF والا میک اپ استعمال کرنا
کچھ موئسچرائزر یا فاؤنڈیشن میں سن پروٹیکشن شامل ہوتی ہے، لیکن یہ اکیلے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتیں اور روزانہ سن اسکرین کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ سردیوں میں جلد کی حفاظت اضافی مراحل شامل کرنے سے نہیں بلکہ درست مراحل کے درست استعمال سے ہوتی ہے۔ چند سادہ تبدیلیاں جلد کی لچک برقرار رکھنے اور قبل از وقت بڑھاپے سے بچانے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔
صبح پانی سے پہلے کافی پینا
صبح کے وقت کافی پینا ایک بہت عام عادت ہے، لیکن پانی سے پہلے کیفین کا استعمال جلد کی خشکی اور بے رونقی کا باعث بنتا ہے۔ اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ صبح کافی پینے سے پہلے کم از کم ایک گلاس پانی ضرور پیا جائے۔