پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی لڑائی کی شدت میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اضافہ ہو گیا، جبکہ دونوں جانب سے بھاری نقصانات کی خبریں دی گئی ہیں۔
اسی دوران پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دھمکی دی ہے کہ سرحدی جھڑپوں کے دوبارہ شروع ہونے کے تناظر میں ان کا ملک اپنے پڑوسی کے ساتھ "کھلی جنگ" میں ہے۔
اگرچہ افغان وزارت دفاع نے آج جمعہ کو اس فوجی آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیا تھا جو گذشتہ روز پاکستانی مسلح افواج کے حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔
لیکن سرحدی حملوں کی تجدید کے باوجود دونوں ملکوں کی فضاؤں پر چھائے ہوئے اس محتاط سکون نے دونوں ممالک کی فوجی صلاحیتوں کو خوردبین کے نیچے لا کھڑا کیا ہے۔
لندن کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ڈیٹا کے مطابق، درج ذیل ایک موازنہ پیش ہے جو فوجی طاقت اور اسلحہ خانے کے لحاظ سے افغانستان پر پاکستان کی برتری کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستانی مسلح افواج کو اپنے اہم دفاعی شراکت دار چین کے سازوسامان کی مدد کے ساتھ ساتھ بہتر بھرتی اور فوجیوں کو برقرار رکھنے کا فائدہ حاصل ہے۔
اسلام آباد اپنے فوجی ایٹمی پروگراموں میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنی بحریہ و فضائیہ کے بیڑے کو جدید بنانے پر بھی کام کر رہا ہے۔
اس کے مقابلے میں، افغان طالبان کی مسلح افواج کی صلاحیتوں اور ان غیر ملکی سازوسامان کو استعمال کرنے کی اہلیت میں کمی آئی ہے جن پر تحریک نے 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے پر قبضہ کیا تھا۔ اسی طرح طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ کیے جانے نے فوج کی صلاحیتوں کو جدید بنانے پر منفی اثر ڈالا ہے۔
تعداد اور اہل کار
تعداد کے لحاظ سے، پاکستانی دفاعی افواج کے فعال اہل کاروں کی تعداد 660,000 ہے، جن میں سے 560,000 فوج، 70,000 فضائیہ اور 30,000 بحریہ میں ہیں۔
جبکہ طالبان کے ماتحت افغان فوج کی تعداد کم ہے اور اس کے صرف 172,000 فعال اہل کار ہیں، تاہم تحریک نے اپنی مسلح افواج کو 200,000 تک بڑھانے کے منصوبوں کا اعلان کر رکھا ہے۔
جنگی گاڑیاں اور توپ خانہ
مزید برآں، پاکستان کے پاس چھ ہزار سے زائد بکتر بند جنگی گاڑیاں اور 4,600 سے زائد توپ خانے موجود ہے۔
دوسری طرف افغان افواج کے پاس بھی بکتر بند جنگی گاڑیاں ہیں، جن میں سوویت دور کے مین بیٹل ٹینک، بکتر بند اہل کار بردار گاڑیاں اور زیرِ آب خودکار گاڑیاں شامل ہیں، لیکن ان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے۔ اسی طرح ان کے پاس موجود توپ خانے کی درست تعداد بھی نامعلوم ہے، جس میں کم از کم 3 مختلف اقسام کے ہتھیار شامل ہیں۔
فضائیہ
پاکستان کے پاس 465 لڑاکا طیاروں اور 260 سے زائد ہیلی کاپٹروں کا بیڑا ہے، جن میں کثیر المقاصد، حملہ آور اور مال بردار ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
جبکہ افغانستان کے پاس نہ تو لڑاکا طیارے ہیں اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر حقیقی فضائی قوت موجود ہے۔ یہ معلوم ہے کہ ان کے پاس کم از کم چھ طیارے ہیں، جن میں سے کچھ سوویت دور کے ہیں، اور 23 ہیلی کاپٹر ہیں، لیکن ان میں سے پرواز کے قابل طیاروں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
ایٹمی اسلحہ خانہ
اسی طرح اسلام آباد ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ہے اور اس کے پاس 170 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں، جبکہ کابل کےپاس کوئی ایٹمی اسلحہ خانہ نہیں ہے۔
ان صلاحیتوں کے سامنے، دونوں ممالک کے درمیان کوئی بھی لڑائی یا مہم جوئی کسی بھی صورت میں کابل کے حق میں نکلتی نظر نہیں آتی۔