ساٹھ سال کے بعد زندگی میں خوشی دوبارہ بڑھتی ہے:نفسیاتی تحقیق
خوشی اور اطمینان کے نفسیاتی مطالعے بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگ ساٹھ سال کی عمر اور اس کے بعد زیادہ مطمئن اور خوشگوار محسوس کرتے ہیں، حالانکہ اس عمر میں صحت اور سماجی چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ترجیحات اور زندگی کے نقطہ نظر میں تبدیلی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
مزید تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عمر اور خوشی کے درمیان تعلق U شکل کا ہوتا ہے:نوجوانی میں خوشی کی سطح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔تیس اور چالیس کی دہائی میں خوشی کم ہو جاتی ہے اور تقریباً پچاس سال کے قریب سب سے کم سطح پر پہنچ جاتی ہے۔اس کے بعد زندگی کے اگلے مراحل میں خوشی دوبارہ بڑھنے لگتی ہے۔
بڑھاپے کی پہیلی
1973 سے 2017 کے دوران 145 سے زائد ممالک کے ڈیٹا کے مطابق بہت سے افراد نے ساٹھ کی دہائی کی شروعات میں زندگی سے اطمینان کی سطح رپورٹ کی جو ان کی بیس کی دہائی کے مقابلے میں برابر یا زیادہ تھی۔
امریکی مطالعہ MIDUS میں 25 سے 75 سال کی عمر کے بالغ افراد کا ایک دہائی تک جائزہ لیا گیا، جس سے یہ معلوم ہوا کہ زندگی سے اطمینان چالیس کی دہائی تک نسبتا مستحکم رہتا ہے اور پھر ساٹھ کی دہائی تک نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے، جسے اکثر افراد میں نفسیاتی خوشحالی کی چوٹی قرار دیا گیا۔
یہ نتیجہ اس لیے حیران کن تھا کیونکہ اس عمر میں صحت یا آمدنی میں کمی آتی ہے، لیکن محققین نے اسے ''بوڑھاپے کی پہیلی'' (Paradox of Aging) قرار دیا، یعنی زندگی کے تجربات بہتر ہوتے ہیں، باوجود کچھ موضوعی حالات کی کمی کے۔
ماہرین نفسیات کے مطابق اس کی وضاحت ''سوشیل ایموشنل سیلیکٹیو تھیوری'' (Socioemotional Selectivity Theory) سے کی جا سکتی ہے، جو اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ماہر نفسیات لورا کارسنسن نے پیش کی۔
اس نظریے کے مطابق وقت کے گزرنے کا شعور انسان کی ترجیحات پر اثر ڈال دیتا ہے، جس سے وہ زندگی کے مثبت پہلوؤں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔
مثبت اثر
نوجوانی کے مرحلے میں جب وقت وسیع لگتا ہے، اکثر لوگ علم حاصل کرنے نئے تجربات کرنے اور سوشل نیٹ ورک بڑھانے پر توجہ دیتے ہیں۔لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ جب وقت کو محدود سمجھا جانے لگتا ہے، ترجیحات بدل جاتی ہیں:لوگ زیادہ توجہ دیتے ہیں ،ایسی سرگرمیوں اور تعلقات پر جو جذباتی طور پر معنی خیز ہوں،وہ صرف وہی تعلقات اور تجربات منتخب کرتے ہیں ،جو حقیقی اطمینان اور خوشی دیں۔
تحقیقات نے Positivity Effectبھی دکھایا ہے، جس کے مطابق بزرگ افراد مثبت جذبات اور تجربات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جبکہ منفی جذبات کم دیکھتے ہیں۔
دماغی اسکینز سے معلوم ہوا کہ مثبت معلومات کے ساتھ جذباتی عمل سے متعلق علاقے زیادہ فعال ہوتے ہیں۔
مزید مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بزرگ افراد:کم اضطراب، غصہ اور افسردگی محسوس کرتے ہیںجذبات پر بہتر کنٹرول رکھتے ہیںزیادہ ہمدردی اور شکرگزاری محسوس کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی عمر کے ساتھ ترجیحات کی نئی ترتیب کی عکاسی کرتی ہے، جہاں توجہ زندگی میں معنی اور نفسیاتی سکون دینے والی چیزوں پر مرکوز ہوتی ہے۔