نفسیات کے مطابق سب سے زیادہ لچکدار شخص وہ ہوتا ہے جو خاموشی سے ٹوٹتا ہے
حالات جیسے بھی ہوں، جلد صحت یابی کی کوشش اور مثبت رہنے کی جدوجہد نفس کو تھکا دیتی ہے
لچک کے بارے میں ایک روایتی تصور پایا جاتا ہے جس میں شخص ایک ایسے انسان کے طور پر نظر آتا ہے جو ڈگمگاتا نہیں اور مشکل خبروں کو سکون اور دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ قبول کرتا ہے اور کٹھن دن میں حوصلہ افزا جملے پھیلاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مضبوط ترین لوگ وہ ہیں جو جلد سنبھل جاتے ہیں، اپنے حوصلے بلند رکھتے ہیں اور کسی کمزوری کا اظہار نہیں کرتے۔ لیکن ویب سائٹ ’’ سپیس ڈیلی ‘‘ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق نفسیات کا خیال ہے کہ یہ روایتی تصورات اور عام اقوال حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
تحقیقات اشارہ کرتی ہیں کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سب سے زیادہ لچکدار لوگ جذباتی طور پر ناقابل تسخیر نہیں ہوتے بلکہ وہ خود کو ہر چیز محسوس کرنے اور تنہائی میں اس پر قابو پانے کی اجازت دیتے ہیں اور پھر دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ کسی ایک شام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں لیکن اگلی صبح کسی دوسرے پر اپنے بوجھ کی منتقلی کا مطالبہ کیے بغیر مصیبت سے نکل کر دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ ایک الگ قسم کی طاقت ہے۔
مضبوط شخص کا افسانہ
لچکدار شخص کا روایتی تصور یہ ہے کہ وہ اپنی پریشانی کو اچھی طرح دباتا ہے، خود پر قابو رکھتا ہے اور متزلزل نہیں ہوتا۔ جریدے ’’ سائیکالوجی ٹوڈے ‘‘میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ لچک کا مطلب منفی جذبات کے خلاف مدافعت نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ان کے ظاہر ہونے پر ردعمل کے طریقے سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لچک کے راستے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات کے تجربے کے لیے زیادہ تیار ہو جائے۔
نفسیاتی مضبوطی
خود کو سنبھالے رکھنے کا خیال نفسیاتی مضبوطی کا سنہری معیار سمجھا جاتا ہے اور یہ روایتی تربیت کے طریقوں میں اس قدر رچ بس گیا ہے کہ بہت سے لوگ اس پر سوال نہیں اٹھاتے اور خود بخود یہ مان لیتے ہیں کہ جذبات سے ایک لمبی دوڑ میں آگے نکل جانا چاہیے اور ان کے آگے ہتھیار نہیں ڈالنے چاہئیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس بات کہ خود جذبات کو دبانا ہی مسئلہ ہے نہ کہ جذبات، کے ادراک کے لیے انسان کو کنارہ کشی، سست روی اور مائنڈ فلنس کی مشق میں مشغول ہونے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
جذبات دبانے کے مسائل
اس بات کی حمایت میں ٹھوس سائنسی شواہد موجود ہیں۔ جب ہم اپنے جذبات کو ان پر قابو پانے کے بجائے مستقل طور پر دباتے ہیں تو جسم اسے محسوس طریقوں سے ریکارڈ کرتا ہے۔ جریدے ’’ پی ایم سی ‘‘ میں شائع شدہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جذبات کو دبانا تناؤ سے پیدا ہونے والی جسمانی تحریک کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر ہیموڈینامک اور نیورو اینڈوکرائن ردعمل میں اضافے کے ذریعے۔ دوسرے لفظوں میں جذبات کا دباؤ جسم کو زیادہ تیزی سے تھکا اور نڈھال کر سکتا ہے۔ نفسیاتی بوجھ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ جذبات کی تنظیم سے متعلق مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ دبانے کی عادت کا تعلق منفی جذبات کی اعلیٰ سطحوں، مثبت جذبات کی نچلی سطحوں، سماجی مطابقت کی کمزوری اور نفسیاتی صحت کی گراوٹ سے ہے۔
برا محسوس کرنے کی اجازت
’’ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ‘‘ اور ’’ یونیورسٹی آف ٹورنٹو ‘‘ کے محققین نے ایک اہم مطالعہ کیا جو جریدے ’’ پرسنالٹی اینڈ سوشل سائیکالوجی ‘‘ میں شائع ہوا جس میں تین تجربات کے دوران 1300 سے زائد بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ منفی جذبات کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں ان میں ان لوگوں جو جذبات کو قبول کرلیتے ہیں کے مقابلے میں بعد میں نفسیاتی علامات پیدا ہونے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔
اسی طرح جن لوگوں نے اپنے منفی جذبات کے لیے زیادہ قبولیت کا مظاہرہ کیا، ان میں فلاح و بہبود اور نفسیاتی صحت کی اعلیٰ سطحیں دیکھی گئیں۔ مطالعہ کی سربراہ محقق ایریس ماؤس نے بتایا کہ جو لوگ اپنی منفی کیفیات کو عادت کے طور پر قبول کرتے ہیں، وہ کم منفی جذبات کا تجربہ کرتے ہیں، یہ ان کی نفسیاتی صحت کی بہتری میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ایک منظم راستہ
خاموشی سے ٹوٹنا نہ تو کمزوری ہے اور نہ ہی حالات سے سمجھوتہ کرنے میں ناکامی، بلکہ یہ ایک منظم اور نجی راستہ ہے جو دباؤ کو اس حد تک جمع ہونے سے روکتا ہے جہاں وہ بے قابو ہو جائے۔ مسئلہ ٹوٹنے میں نہیں ہے بلکہ خود کو ایک محفوظ جگہ یا دوسرے لفظوں میں ٹوٹنے کے لیے سب سے پہلے ایک نجی جگہ نہ دینے میں ہے۔
اسی طرح عنوان کا خاموشی والا حصہ اہم ہے کیونکہ اس کا تعلق درد کی نمائش سے نہیں ہے اور نہ ہی ستائش کی تلاش یا کسی مشکل شام کو کسی دوسرے شخص کے لیے ہنگامی مسئلہ بنانے سے ہے۔ بلکہ اس کا تعلق اندرونی تجربے کے ساتھ ایک سچا اور متوازن رشتہ قائم کرنے سے ہے۔
مایوسی کے بغیر دکھ پر قابو
واضح رہے مختصر وقت میں دوبارہ سامنے آنا ہی دکھ پر قابو پانے اور اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے درمیان فرق کرتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مطالعہ لچک کو ایک عمل کے طور پر دیکھتا ہے، نہ کہ ایک مستقل شخصیت کی صفت کے طور پر۔ جریدے ’’ پی ایم سی ‘‘ میں شائع ہونے والے ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ لچک رکھنے والے افراد مثبت اور منفی جذباتی معلومات سے کم لچک رکھنے والے افراد کی نسبت بہت تیزی سے چھٹکارا پا لیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ احساس سے چمٹے رہنے کے بجائے اس سے آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ اسے محسوس کرتے ہیں اور پھر چھوڑ دیتے ہیں۔
منفی باتوں سے چھٹکارے کا طریقہ کار
طریقہ کار یہ ہے کہ مثبت اور منفی معلومات کو مکمل طور پر محسوس کیا جائے اور پھر اگلی صبح اس سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے۔ اس کا تعلق یہ ظاہر کرنے سے نہیں ہے کہ گزشتہ رات جو ہوا وہ ہوا ہی نہیں، بلکہ اس واقعے کو اتنی جگہ دینے سے ہے کہ وہ بعد میں آنے والی ہر چیز پر اثر انداز نہ ہو۔ اسی طرح اس کا تعلق تنہائی یا ضرورت سے زیادہ خود انحصاری سے نہیں ہے بلکہ اتنی اندرونی صلاحیت پیدا کرنے سے ہے کہ اپنے جذبات کا بوجھ اپنے اردگرد کے تمام لوگوں پر ڈالے بغیر جذباتی وزن برداشت کیا جا سکے۔
صرف ان لوگوں سے رابطہ کیا جا سکتا ہے جن پر بھروسہ ہو، یہ بھی ملحوظ رہے کہ کسی مشکل معاملے پر حقیقی رابطے اور دوسروں پر مستقل طور پر اپنے جذبات کی تنظیم کا بوجھ ڈالنے کے درمیان فرق ہے۔