برطانیہ : خاتون نے تقریباً 8 لاکھ امریکی ڈالر بلیوں کی فلاحی تنظیم کو عطیہ کر دیے
ایک برطانوی خاتون نے 6 لاکھ پاؤنڈ (8 لاکھ امریکی ڈالر) کی خطیر رقم اپنے بچوں اور پوتوں پوتیوں کو دینے کے بجائے بلیوں کی پناہ گاہ کو عطیہ کر دی ہے۔ انھوں نے اس رقم کو اپنی وفات تک اپنے پاس رکھنے سے بھی گریز کیا جس سے ان کے ورثاء مستفید ہو سکتے تھے۔
برطانوی اخبار "میٹرو" کی رپورٹ کے مطابق لندن کے قریب سرے کاؤنٹی کی 44 سالہ پریا نے بتایا کہ ان کی ساس نے اپنی 6 لاکھ پاؤنڈ کی کل پونجی بلیوں کی فلاحی تنظیم کے نام کر دی ہے۔
پریا کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے چھ سالوں سے اپنی ساس کو اپنے گھر میں رکھے ہوئے ہیں اور اب وہ اس بات پر شدید غصے میں ہیں کہ یہ دولت خاندان کے بجائے بلیوں کی تنظیم کو جائے گی۔ پریا نے اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کے امکانات جاننے کے لیے کنزیومر رائٹس ایڈوکیٹ سارہ ڈیوڈسن سے مدد طلب کی ہے۔
پریا کے مطابق وہ اور ان کے شوہر کل وقتی ملازمت کرتے ہیں اور ان کی مشترکہ سالانہ آمدنی 2 لاکھ پاؤنڈ سے کچھ زائد ہے۔ ان کے دو بچے پرائیویٹ اسکول میں پڑھتے ہیں اور ان پر ایک بڑا رہائشی قرضہ بھی ہے، لیکن وہ ایک آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔
پریا نے بتایا کہ ان کی ساس نے جو مفت میں ان کے گھر کے ایک ملحقہ حصے میں رہتی ہیں، انہیں بتایا کہ وہ اپنی تمام دولت بلیوں کی پناہ گاہ کو دے دیں گی کیونکہ وہ نجی تعلیم کی حامی نہیں ہیں اور سمجھتی ہیں کہ ان کے بیٹے اور بہو اتنے امیر ہیں کہ انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔
پریا کا کہنا ہے کہ "مجھے شدید غصہ ہے، ہم نے چھ سال تک انہیں اپنے ساتھ رکھا، ان کے بلوں کی ادائیگی کی اور انہیں طبی معائنوں کے لیے لے کر گئے۔ کیا ان پر اخلاقی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے پوتے پوتیوں کے لیے کچھ چھوڑ کر جائیں؟ کیا اس معاملے کو چیلنج کرنے کا کوئی قانونی راستہ ہے؟"
برطانیہ میں کنزیومر رائٹس کی ماہر سارہ ڈیوڈسن کا کہنا ہے کہ "انگلش قانون کے تحت ہر شخص کو 'وصیت کی آزادی' حاصل ہے، جس کے تحت ذہنی طور پر صحت مند شخص اپنی جائیداد جس کے چاہے نام کر سکتا ہے۔ وہ اپنی دولت بلیوں کی پناہ گاہ، کسی سیاسی جماعت یا بس میں ملنے والے کسی اجنبی کو بھی دے سکتا ہے، وہ اپنے بچوں یا پوتوں پوتیوں کو ایک پیسا دینے کا بھی پابند نہیں ہے۔"
ڈیوڈسن نے نشاندہی کی کہ وصیت کو چیلنج کرنے کی ایک قانونی گنجائش موجود ہے، جہاں قانونِ میراث مخصوص افراد کو اس صورت میں وصیت کو چیلنج کرنے کی اجازت دیتا ہے اگر وہ انہیں "معقول مالی سہولت" فراہم نہ کرتی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ "شریک حیات، بچے اور وہ لوگ جو مالی طور پر متوفی پر انحصار کرتے تھے، اس حوالے سے مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔"
تاہم، ڈیوڈسن نے واضح کیا کہ عدالتیں اس قانون کا استعمال وصیت کو محض اس لیے تبدیل کرنے کے لیے نہیں کرتیں کہ وہ غیر منصفانہ لگتی ہے یا اس میں نا شکری کا پہلو نظر آتا ہے، بلکہ عدالتیں یہ اقدام صرف اس صورت میں کرتی ہیں جب کسی کو حقیقی مالی مشکلات یا تنگ دستی سے بچانا ہو۔