جِل یا کریم بہترین موئسچرائزر کے انتخاب کے لیے سائنسی رہنمائی
موئسچرائزر (مرطب) کا انتخاب بظاہر ایک معمولی سا کام لگ سکتا ہے ،جس پر زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن ماہرین امراضِ جلد کے مطابق جلد پر لگائی جانے والی مصنوعات کی ساخت اس بات میں حقیقی فرق پیدا کر سکتی ہے کہ جلد نمی کو برقرار رکھنے، خشکی اور جلن سے بچنے میں کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
ہلکے جل نما مرطبات اور گاڑھی کریموں کے درمیان انتخاب کا معاملہ یہ نہیں کہ کون سی چیز ہر حال میں بہتر ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جلد کو حقیقت میں کس چیز کی ضرورت ہے۔
حالیہ برسوں میں جلدی علوم پر ہونے والی تحقیق میں ترقی کے بعد اب موئسچرائزر کا انتخاب صرف اس احساس کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا جو وہ جلد پر چھوڑتا ہے، بلکہ اس بات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے کہ وہ جلد کی حفاظتی تہہ (Skin Barrier) کو مضبوط بنانے اور عمر بڑھنے یا روزمرہ ماحولیاتی اثرات کے باعث جلد سے کم ہونے والی نمی اور چکنائی کو بحال کرنے میں کتنا مددگار ہے۔
جل اور کریم میں فرق
جل کی ساخت والا موئسچرائزر ہلکے قوام کا ہوتا ہے اور اس میں بنیادی طور پر پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں عموماً نمی کو جذب کرنے والے اجزا شامل ہوتے ہیں، جیسے ہائیالورونک ایسڈ، گلیسرین اور ایلوویرا۔ یہ جلد میں تیزی سے جذب ہو جاتا ہے اور چکناہٹ کی تہہ چھوڑے بغیر تازگی کا احساس دیتا ہے۔
اسی لیے یہ خاص طور پر چکنی (آئلی) یا ملی جلی (کمبی نیشن) جلد کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر گرم اور مرطوب موسم میں۔
دوسری جانب کریم کی ساخت والا موئسچرائزر عموماً زیادہ مقدار میں تیل اور جلد کو نرم رکھنے والے اجزا (Emollients) پر مشتمل ہوتا ہے، جو جلد پر ایک حفاظتی تہہ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ تہہ جلد سے پانی کے ضیاع کو کم کرتی ہے، جس کی وجہ سے کریم زیادہ دیر تک نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔موئسچرائزر کی کارکردگی صرف اس کے قوام پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس کے اجزا بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
2024 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے جائزے کے مطابق وہ مصنوعات جن میں پانی جذب کرنے والے اجزا، جیسے ہائیالورونک ایسڈ، کے ساتھ ساتھ جلد کو نرم رکھنے والے اجزا اور حفاظتی چکنائیاں شامل ہوں، صرف ایک ہی جزو پر مشتمل مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور دیرپا نمی فراہم کرتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر قسم کے اجزا جلد کے توازن کو برقرار رکھنے میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں۔
چکنی جلد کے لیے جیل موئسچرائزر
چکنی جلد رکھنے والے بہت سے افراد یہ سوچ کر موئسچرائزر استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ اس سے جلد پر مزید چمک آئے گی یا دانے نکل سکتے ہیں۔
تاہم ماہرینِ امراضِ جلد کے مطابق جب جلد کو مناسب نمی نہ ملے تو وہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سیبم (قدرتی چکنائی) پیدا کر سکتی ہے، جس سے مسئلہ کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے زیادہ تر صورتوں میں جیل فارمولا والا موئسچرائزر ایک مناسب انتخاب سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ جلد کو مطلوبہ نمی فراہم کرتا ہے لیکن اسے بھاری محسوس نہیں ہونے دیتا اور نہ ہی مسام بند کرتا ہے۔خاص طور پر ایسا جیل موئسچرائزر بہتر رہتا ہے جو تیل سے پاک (Oil-free) ہو اور جس میں بھاری خوشبو والے اجزا شامل نہ ہوں۔
خشک جلد کے لیے کریم
جب جلد میں کھنچاؤ، چھلکے اترنے یا خشکی اور کھردرا پن کی شکایت ہو تو کریم والا موئسچرائزر زیادہ مؤثر انتخاب ثابت ہوتا ہے، کیونکہ یہ صرف جلد کو نمی فراہم نہیں کرتا بلکہ جلد کی حفاظتی تہہ کو مضبوط بنا کر اس نمی کو برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
اس کی تائید 2025 میں جرنل آف کاسمیٹک ڈرمیٹولوجی (Journal of Cosmetic Dermatology) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق سے بھی ہوتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسی کریمیں جن میں سیرامائڈز، کولیسٹرول اور فیٹی ایسڈز کا امتزاج شامل ہو، وہ جلد کی حفاظتی تہہ کے کام کو بہتر بناتی ہیں اور جلد سے پانی کے اخراج کو نمایاں طور پر کم کرتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے چند ہفتے استعمال کے بعد ان کریموں کے بہتر نتائج سامنے آئے، جبکہ صرف اوپری سطح پر نمی فراہم کرنے والے موئسچرائزر اس کے مقابلے میں کم مؤثر ثابت ہوئے۔
ملی جلی جلد (Combination Skin) کے لیے کیا بہتر ہے؟
ملی جلی جلد میں چہرے کے کچھ حصے چکنے جبکہ کچھ حصے نسبتاً خشک ہوتے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ ایک ہی پروڈکٹ چہرے کے تمام حصوں کے لیے کافی نہ ہو۔
بعض ماہرین دن کے وقت جیل موئسچرائزر استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ جلد کی اضافی چمک کم رہے، جبکہ رات کے وقت ہلکی کریم استعمال کی جا سکتی ہے یا صرف خشک حصوں پر لگائی جا سکتی ہے۔ اس طریقے سے جلد پر بوجھ ڈالے بغیر بہتر توازن حاصل کیا جا سکتا ہے۔
موسم جلد کی ضروریات بدل دیتا ہے
موئسچرائزر کا انتخاب صرف جلد کی قسم پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ موسم بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گرمیوں یا گرم اور مرطوب ماحول میں جلد میں جلد جذب ہونے والا جیل فارمولا تازگی کا احساس دیتا ہے، جبکہ سردیوں یا خشک موسم میں کریم زیادہ موزوں ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ایسے حالات میں جلد زیادہ مقدار میں پانی کھو دیتی ہے۔
حالیہ تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسلسل ایئر کنڈیشنر کے استعمال، آلودگی اور الٹرا وائلٹ شعاعوں کا سامنا جلد سے پانی کے اخراج کو بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے روزانہ نمی فراہم کرنا صرف خشک جلد والوں کے لیے نہیں بلکہ چکنی جلد رکھنے والوں کے لیے بھی ضروری ہے۔
عمر کے ساتھ جلد کی ضروریات بدل جاتی ہیں
جوانی کے سالوں میں ہلکا جیل موئسچرائزر بہترین ثابت ہو سکتا ہے، لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ جلد کی ضروریات آہستہ آہستہ تبدیل ہونے لگتی ہیں۔
تیسری دہائی (30 سال کے بعد) سے جلد میں سیرامائڈز اور قدرتی چکنائیوں کی پیداوار کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، جبکہ ہائیالورونک ایسڈ کی سطح بھی کم ہونے لگتی ہے، جس کے باعث جلد خشکی اور لچک میں کمی کا زیادہ شکار ہو سکتی ہے۔
اسی وجہ سے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ وقتاً فوقتاً اپنے موئسچرائزر کا جائزہ لیا جائے اور ایک ہی پروڈکٹ کو برسوں تک استعمال کرنے پر اصرار نہ کیا جائے۔ جو جلد پہلے ہلکے جیل سے مطمئن تھی، ممکن ہے بعد میں اسے ایسی بھرپور کریم کی ضرورت پڑے جو جلد کی حفاظتی تہہ کو مضبوط کرے اور خشکی کی علامات کو کم کرنے میں مدد دے۔
-
فضا میں خوفناک حادثہ، کھڑکی ٹوٹنے سے مسافر طیارے سے باہر اڑتے بال بال بچا
ایئرلائن رائن ایئر کی ایک پرواز کے دوران خوف و ہراس کے لمحات اس وقت دیکھنے میں ...
ایڈیٹر کی پسند -
شکیرا نے مباپے سے متعلق ایک راز افشا کر دیا
شکیرا نے انکشاف کیا کہ ان کے گانے ''دائی دائی'' کی میوزک ویڈیو میں شرکت پر سب سے ...
ایڈیٹر کی پسند -
علیحدگی کے بعد گلوکار نے بیوی کو اپنے 80 ملین ویوز والے گانے سے نکال دیا
مصر کے عمرو جابر نے ان تمام مناظر کو چھپا دیا جن میں مرح عطیہ نظر آتی ہیں
بين الاقوامى