خود اعتماد شخص اپنی بات منوانے کے لیے دوسروں کی بات نہیں کاٹتا: ماہرینِ نفسیات
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی میٹنگ کے دوران ایک شخص بار بار دوسروں کی بات کاٹتا ہے، ان کی اصلاح کرتا ہے اور یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ درست جواب صرف اسی کے پاس ہے۔
دوسری جانب ایک ایسا شخص بھی موجود ہوتا ہے، جو خاموشی سے توجہ کے ساتھ سب کی بات سنتا ہے، نوٹس لیتا ہے اور صرف اسی وقت گفتگو کرتا ہے، جب اس کے پاس واقعی کوئی مفید بات شامل کرنے کے لیے ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگ عموماً دوسرے شخص کو زیادہ پُراعتماد اور باصلاحیت سمجھتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ خود کو طاقتور ظاہر کرنے کی کوشش اور حقیقی سماجی اثر و رسوخ رکھنے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ یہ بات اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بھی سامنے آئی ہے۔
غلبے اور وقار کا نظریہ
ماہرینِ بشریات جوزف ہینرچ اور فرانسسکو گل وائٹ نے 2001 میں اپنی تحقیق ارتقائے وقار: ثقافتی منتقلی کے فوائد بڑھانے کے لیے رضاکارانہ طور پر دیا جانے والا احترام میں غلبے اور وقار (Dominance-Prestige Theory) کا نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق افراد دو مختلف طریقوں سے معاشرے میں مقام حاصل کرتے ہیں۔
پہلا طریقہ غلبہ (Dominance) ہے، جس میں لوگ دوسروں پر اپنا اثر قائم کرنے کے لیے طاقت، دباؤ، خوف یا مسلسل توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسرا طریقہ وقار یا مقام (Prestige) ہے، جس میں اثر و رسوخ علم، مہارت اور دوسروں کے احترام کی بنیاد پر حاصل ہوتا ہے۔
اس نظریے کے مطابق جو لوگ اپنی ساکھ اور قابلیت کی بدولت مقام حاصل کرتے ہیں، انہیں ہر وقت اپنی اہمیت جتانے یا ہر موقع پر گفتگو میں سبقت لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ان کی اعتبار اور مہارت ہی انہیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ مناسب وقت پر مؤثر انداز میں اپنی رائے پیش کریں، بغیر اس کے کہ ہر بات میں خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کریں۔
پختہ اعتماد رکھنے والے افراد
ماہرینِ نفسیات کے مطابق دوسروں کی بات کاٹنا ہمیشہ خود اعتمادی کی علامت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ رویہ اپنی سماجی حیثیت برقرار رکھنے یا اسے ثابت کرنے کی خواہش کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔
تحقیقات میں ایسے افراد کے درمیان فرق کیا گیا ہے، جن کی خود اعتمادی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے اور ان لوگوں کے درمیان جن کی خود اعتمادی زیادہ تر دوسروں کی تعریف، منظوری یا توثیق پر منحصر ہوتی ہے۔
ماہرِ نفسیات مارک کیرنس نے اپنی تحقیق بہترین خود اعتمادی کا تصورمیں مؤقف اختیار کیا کہ صحت مند خود اعتمادی مستحکم ہوتی ہے اور اسے ہر وقت دوسروں کی رائے یا تعریف کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ایسے افراد، جن کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے، اس وقت خود کو خطرے میں محسوس نہیں کرتے جب کوئی دوسرا شخص گفتگو کرے، ان سے اختلاف کرے یا توجہ کا مرکز بن جائے۔
روزمرہ زندگی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی خود اعتمادی رکھنے والا شخص اپنی معلومات یا صلاحیت ثابت کرنے کے لیے ساتھی کی بات نہیں کاٹتا، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کے خیالات اپنی جگہ خود ہی کافی اہمیت رکھتے ہیں۔
بات کرنے سے پہلے سننا
اچھے سامعین کو عموماً زیادہ قابلِ اعتماد اور بہتر سماجی مہارت رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کارل روجرز اور رچرڈ فارسن نے 1957 میں اپنی کتاب ''فعال سننا (Active Listening)'' میں مؤثر انداز سے سننے کا تصور پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسروں کو توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سننا انہیں بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے، تعلقات کو مضبوط بناتا ہے اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔فعال سننے میں پوری توجہ دینا، فوری طور پر فیصلہ یا رائے قائم کرنے سے گریز کرنا، اور دوسرے شخص کو جواب دینے سے پہلے اپنی بات مکمل طور پر بیان کرنے کا موقع دینا شامل ہے۔
خود پر اعتماد رکھنے والے افراد کے لیے سننا ایک فطری عمل ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کی توجہ اپنی شخصیت یا امیج کا دفاع کرنے کے بجائے دوسروں کو سمجھنے پر مرکوز ہوتی ہے۔
خود اعتمادی کے بارے میں سائنسی نقطۂ نظر
ماہرینِ نفسیات یہ نہیں کہتے کہ پُراعتماد لوگ کبھی دوسروں کی بات نہیں کاٹتے، یا زیادہ بولنا ہمیشہ منفی عمل ہوتا ہے۔ بعض حالات میں پہل کرنا اور فوری طور پر اپنی بات پیش کرنا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم اصل بات یہ ہے کہ اعتماد کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ کوئی شخص گفتگو میں کتنا حصہ لیتا ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مضبوط اور پائیدار خود اعتمادی اکثر صبر، تجسس اور دوسروں کو اپنی بات رکھنے کا موقع دینے کی صلاحیت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ توجہ سے سننے اور ہر وقت بولنے کی کوشش نہ کرنے کی عادت کم اعتمادی کی علامت نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک زیادہ مضبوط خوبی کی عکاسی کرتی ہے: یعنی انسان کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اس کی قدر و اہمیت ہر وقت خود کو ثابت کرنے کی محتاج نہیں۔