کیفین کا معتدل استعمال متعدد دائمی بیماریوں کے خطرے میں کمی لا سکتا

کیفین کا استعمال صحت مند طرز زندگی کا حصہ ہو سکتا، انرجی ڈرنکس سے خبردار رہنا ضروری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

"واشنگٹن پوسٹ" کی ایک رپورٹ کے مطابق تازہ ترین سائنسی تحقیقات نے انکشاف کیا ہے کہ کیفین کا اعتدال کے ساتھ استعمال جسم کو توانائی اور توجہ فراہم کرتا ہے اور یہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور پارکنسنز سمیت متعدد دائمی بیماریوں کے خطرے میں کمی سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔ تاہم سائنسدان اس کے حد سے زیادہ استعمال یا انرجی ڈرنکس پر انحصار کرنے سے خبردار کیا ہے۔

400 ملی گرام کا راز

لوگ اوسطاً روزانہ تقریباً 200 ملی گرام کیفین استعمال کرتے ہیں جو ایسپریسو کے تین چھوٹے کپ کے برابر ہے۔ یہ کفین مختلف ذرائع جیسے کافی، چائے، سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس اور چاکلیٹ سے حاصل کی جاتی ہے۔ تازہ ترین مطالعے کے مطابق روزانہ 400 ملی گرام تک کیفین کا استعمال، جو تقریباً 3 سے 5 کپ کافی کے برابر ہے، زیادہ تر صحت مند بڑے افراد کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

بڑے پیمانے پر کیے گئے مشاہداتی مطالعے اور چھوٹے طبی تجربات نے بتایا ہے کہ کیفین کا استعمال، خاص طور پر کافی اور چائے سے، دل کی بیماریوں، دل کے دورے، فالج، ہارٹ فیلیئر، ہائی بلڈ پریشر، ٹائپ 2 ذیابیطس اور دل کی دھڑکن کے مسائل کے خطرے میں کمی سے منسلک ہے۔ مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے کافی یا چائے پیتے ہیں ان میں دوسروں کے مقابلے میں پارکنسنز کی بیماری میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

کیفین کے فوائد صرف بیماریوں سے بچاؤ تک محدود نہیں ہیں کیونکہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بیداری اور توجہ کو بڑھانے، توجہ کو بہتر بنانے، ردعمل کی رفتار تیز کرنے اور ذہنی کارکردگی کا معیار بلند کرنے میں مدد دیتی ہے۔

انرجی ڈرنکس سے متعلق انتباہ

محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کیفین کوئی جادوئی علاج نہیں ہے اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو میں کارڈیالوجی کے پروفیسر گریگوری مارکوس نے کہا کہ کیفین کا حد سے زیادہ استعمال پریشانی، گھبراہٹ، کپکپاہٹ، متلی، معدے کی خرابی اور بے خوابی کا باعث بن سکتا ہے۔

مارکوس نے وضاحت کی کہ مطالعے میں دیکھے گئے زیادہ تر صحت کے فوائد صرف قدرتی کیفین تک محدود ہیں جو کافی، چائے اور چاکلیٹ میں پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں جو انرجی ڈرنکس یا مصنوعی کیفین پر مشتمل مصنوعات جیسے کچھ غذائی سپلیمنٹس کے صحت بخش فوائد کو ثابت کرتے ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انرجی ڈرنکس سے متعلق دستیاب ڈیٹا تشویشناک نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ یہ دل کی دھڑکن کی شدید خرابی اور ممکنہ طور پر ہارٹ فیلیئر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہیں۔ تازہ ترین سائنسی شواہد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اعتدال کے ساتھ کیفین کا استعمال، خاص طور پر اس کے قدرتی ذرائع سے، صحت مند طرز زندگی کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس کا حد سے زیادہ استعمال یا انرجی ڈرنکس پر انحصار ایک ایسا انتخاب ہے جس میں صحت کے خطرات شامل ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں