.

کرائسٹ چرچ حملے میں شہید کی بیوہ کو دلاسہ دینا ’جرم‘ بن گیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر برائے امور اسلامیہ، دعوت وارشاد شیخ عبداللطيف آل الشيخ کی پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ گذشتہ برس کرائسٹ چرچ میں مسجد پر حملے میں جان بحق ہونے والے ایک شخص کی بیوہ کو دلاسہ دیتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وزیر امور اسلامیہ نیوزی لینڈ سے آنے والے ان حاجیوں کو خوش آمدید کہنے ہوائی اڈے پر گئے جہاں ان کی گفتگو سن کر ایک خاتون فرط جذبات سے رو پڑیں۔

ویڈیو میں عبداللطيف آل الشيخ صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ان کی توجہ آنسوؤں سے رو دینے والی ایک خاتون کی جانب مبذول کرائی گئی تو وزیر صاحب نے خاتون کو دلاسہ دینے کے انداز میں انہیں ماتھے پر بوسہ دیا۔

ایک صارف فضیلہ الجفال نے اس منظر پر مبنی ویڈیو ٹویٹر پر پوسٹ کر دی جس کے بعد اسے دیکھنے والوں کی بڑی تعداد نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ متعدد ٹویٹر صارفین نے وزیر موصوف کے ردعمل کو ’اسلامی احکامات کی روشنی میں نامناسب‘ قرار دیا، تاہم اتنی ہی بڑی تعداد میں صارفین نے عبداللطيف آل الشيخ کے ردعمل کو انسانیت اور رحمدلی کا مظہر قرار دیا ہے۔

الجفال نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’’بہت سے لوگ اسے انسانی لمس گردانیں گے، تاہم یہ اقدام سعودی عرب میں اسلامی اعتدال کے نئے دور کا غماز ہے۔‘‘

الجفال کی پوسٹ کردہ ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے عبیطال الآیہ نے کہا کہ ’’عبداللطيف آل الشيخ پر تنقید کرنے والے مملکت میں ہونے والی اصلاحات کے دشمن ہیں۔‘‘

ایک صارف @importanto_man نے @FadilaAlJaffal کو جواب دیتے ہوئے کہا ’’اسلام اپنی بیوی، بہن وغیرہ کے علاوہ خواتین کو چھونے سے روکتا ہے۔ اس لیے جھوٹ بولنا بند کریں!! انھوں نے جو کیا، غلط کیا۔‘‘

ایک صارف ابو حمدان الحبابی نے متعدل رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’عبداللطيف آل الشيخ نے ایک غلط کام کیا، تاہم ان کے دل کا حال نہیں جان سکتے، ہمیں اپنے خیالات کو بہتر بنانا چاہئے۔‘‘

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی فرمانروا کی دعوت پر کرائسٹ چرچ حملوں میں شہید ہونے والوں کے 200 لواحقین اس سال شاہی مہمان کے طور پر حج کر رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ سے ان عازمین حج کا قافلہ اتوار کے روز مکہ مکرمہ پہنچا۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے عبداللطيف آل الشيخ نے کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے زخموں پر مرہم رکھنا دراصل مملکت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس پر عمل پیرا ہو کر دنیا بھر سے دہشت گردی کے خاتمے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے اقدامات سے متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی ہوتی ہے کہ جن کے پیارے ایسے قابل نفرت عمل کا شکار ہوئے جس کی کسی مذہب، انسانی اصولوں اور اقدار میں حمایت دیکھنے کو نہیں ملتی۔‘‘