.
حج وعمرہ

الشیخ بلیلہ کا خطبہ حج، مسجد نمرہ سے43 سال میں کس کس نے خطبہ حج دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالم اسلام ہر سال خطبہ حج کا منتظررہتا ہے کیوں کہ اس میں مسلمانوں کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق باہمی،مودت، شفقت، یکجہتی اور خاندان رشتوں کے تقدس پرہدایات ربانی کی ذریعے روشنی ڈالی جاتی ہے۔ خطبہ حج میں اسلام کی عظیم الشان قدروں کو اختیار کرنے، روزانہ کے معاملات میں حسن سلوک کا برتاؤ کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کی تلقین کی جاتی ہے۔

آج خطبہ حج مسجد حرام کے خطیب اور کبار علما کونسل کے رکن الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ نے پیش کیا۔

خطبہ کے مبلغین

پچھلے 43 برسوں کے دوران آٹھ شیوخ اور علماء نے مسجد نمرہ سے خطبہ حج دیا۔1399ھ میں الشیخ صالح بن محمد اللحیدان نے خطبہ حج پیش کیا۔1402ھ سے 1436تک الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل الشیخ اور الشیخ عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس نے خطبہ حج پیش کیے۔1437ء سے 1438ھ کے دوران الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل الشیخ اور الشیخ عبدالرحمان بن عبدالعزیزالسدیس،1438ھ میں الشیخ سعد بن ناصر الشثری اور 1439ھ کو الشیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ اور الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ، 1440ھ اور گذشتہ برس 1441ھ کو کبار علما کونسل کے رکن اور شاہی دیوان کے مشیر الشیخ عبداللہ بن سلیمان المنیع نے خطبہ حج پیش کیا۔

خطبہ عرفہ کا ترجمہ کیا جارہا ہے۔
خطبہ عرفہ کا ترجمہ کیا جارہا ہے۔

چونکہ عرفہ کا خطبہ دنیا کے لیے ایک اسلامی پیغام ہے۔ اس لیے اس کا براہ راست عربی سے دس عالمی زبانوں انگریزی، فرانسیسی، انڈونیشی، اردو ، فارسی ، چینی، ترکی، بنگالی، ہائوسا اور مالائی میں ترجمہ کیا جاتا ہے۔