حج کا اجتماع، سعودی موسمیاتی مرکز نے گرد کے طوفان اور شدید گرمی کا انتباہ جاری کردیا

مکہ اور مدینہ میں درجہ حرارت بالترتیب 47 اور 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے قومی مرکز برائے موسمیات نے جمعہ کو کئی خطوں میں گرد آلود ہواؤں اور دن کے وقت شدید گرمی سے خبردار کیا ہے جبکہ اس دوران حج سے قبل لاکھوں عازمین کی آمد جاری ہے۔

مرکز نے کہا کہ مٹی اور ریت سے آلودہ سطحی ہواؤں سے نجران، ریاض، مشرقی صوبے، شمالی سرحدی علاقے، الجوف اور تبوک کے بعض حصوں کے متأثر ہونے کی توقع ہے۔

این سی ایم نے جازان، عسیر، الباحہ اور مکہ کے پہاڑی علاقوں کے بعض حصوں میں ممکنہ گرج چمک اور بارش سے بھی خبردار کیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے مدینہ، مکہ اور مقدس مقامات کو ملانے والی سڑکوں پر دن کے وقت موسم کے مستحکم لیکن گرم سے انتہائی گرم رہنے کی پیش گوئی کی ہے جہاں 25 مئی سے شروع ہونے والی مناسکِ حج سے قبل عازمین کی بڑی نقل و حرکت جاری ہے۔

مکہ مکرمہ میں درجہ حرارت 47 اور مدینہ منورہ میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے اور نمی کا تناسب 40 فیصد تک اور کھلے علاقوں میں گرد آلود ہوائیں چلیں گی۔

سعودی پریس ایجنسی نے پہلے اطلاع دی تھی کہ مرکز نے حجاج اور مسافروں پر زور دیا کہ وہ روانہ ہونے سے پہلے اپنی گاڑیاں تیار کریں، حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور پانی کی کمی سے بچنے کے لیے کافی مقدار میں مشروبات لیں۔

اس سال حج کے لیے مکہ مکرمہ میں کم از کم 1.6 ملین عازمین کے مجتمع ہونے کی توقع ہے جو دنیا کے ایک عظیم ترین سالانہ مذہبی اجتماع کے دوران موسم اور حفاظتی حالات پر گہری توجہ دلاتا ہے۔

اگرچہ مناسکِ حج مکہ مکرمہ اور اس کے اردگرد کے مقدس مقامات پر مرکوز ہیں لیکن زائرین کی ایک بڑی تعداد حج مکمل کرنے سے پہلے یا بعد میں مدینہ سے بھی سفر کرتی ہے جو اسلام کا دوسرا مقدس ترین شہر ہے۔

اگرچہ مدینہ منورہ کا سفر حج کا لازمی حصہ نہیں ہے لیکن یہ شہر مسلمانوں کے لیے گہری روحانی اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور زیادہ تر حجاج اپنے سفر کے دوران وہاں کئی دن گذارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں