.

ایرانی ایٹمی پلانٹ میں کام کرنے والی روسی خواتین کے لئے حجاب الاؤنس

'الاؤنس کے باوجود خواتین عملہ حجاب نہیں پہنتا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایرانی مجلس شوری کے ایک رکن نے الزام عاید کیا ہے کہ بوشھر نیوکلئیر پاور پلانٹ سے وابستہ خواتین پر مشتمل روسی عملہ لباس کے معاملے میں ملکی قواعد و ضوابط کا خیال نہیں کر رہیں حالانکہ انہیں اسلامی سکارف 'حجاب' پہننے کا اسپیشل الاؤنس دیا جاتا ہے۔

بوشھر کے جنوبی صوبے کی 'دشتسان' حلقے سے تعلق رکھنے والے رکن ایرانی مجلس شوری مھدی موسوی نجاد نے 'سپاس' خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر پلانٹ میں خدمات سرانجام دینے والی روسی خواتین ٹیکنیشنز حجاب الاؤنس تو باقاعدگی سے لے رہی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ معاہدے کے مطابق پردہ نہیں کر رہی ہیں۔

مھدی موسوی نجاد نے بتایا کہ بوشھر پلانٹ میں روسیوں کے لئے کام کا مخصوص شعبہ ہے لیکن وہاں کام کرنے والی روسی خواتین بازار اور پبلک مقامات پر بغیر حجاب گھومتی پھرتی دیکھی گئیں ہیں۔ انہوں نے روسی خواتین پر زور دیا کہ ملازمت کے معاہدے میں درج شرائط پر عمل کریں۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر نجاد نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ ایرانی حکومت روسی خواتین کو کتنا معاوضہ دیتی ہے۔ یاد رہے کہ سن 1990ء میں روس نے بوشھر کے مرکزی پلانٹ کا انتظام سنبھالا تھا، تاہم ابھی تک اسے توانائی کے حصول کی خاطر چالو نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی کا ایک واٹ نیشنل گرڈ میں شامل ہو سکا ہے۔