.

ٹویٹر پر امیر کویت کی توہین کے مرتکب نوجوان کو دو سال قید کی سزا

امریکا کو کویت میں آزادیٔ اظہار رائے پر قدغنوں پر تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
کویت کی ایک ماتحت عدالت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح کی توہین کے الزام میں ایک نوجوان کو دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔

کویت کی سوسائٹی برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر محمد الحمیدی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایاد الحربی کو مجرم قرار دے کر دوسال جیل کی سزاسنانے کی اطلاع دی ہے۔انھوں نے بتایا کہ عدالت کے حکم کے تحت ایاد الحربی کی قید کی سزا پر فوری طور پر عمل درآمد شروع ہو گا اور اس ضمن میں اعلیٰ عدالتوں میں مجرم کو اپنی اپیلوں پر فیصلے کے انتظارکا موقع نہیں دیا جائے گا۔

گذشتہ اتوار کو اسی عدالت نے اسی طرح کے ایک اور مقدمے میں راشدالعنزی نامی ایک اور نوجوان کو دوسال قید کی سزا سنائی تھی۔عنزی کو عدالت سے ہی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ سوموار کو ایک اور مقدمے میں عدالت نے حزب اختلاف کے ایک سابق رکن پارلیمان اسامہ المنور کو امیر کویت کی توہین کے مقدمے میں بری کر دیا تھا۔

اسامہ المنور پر 13 اکتوبر 2012ء کو ایک ریلی میں امیر کویت کے خلاف تندوتیز تقریر کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔ انھیں کچھ وقت کے لیے گرفتار کرکے ان سے پوچھ گچھ بھی کی گئی تھی۔

امریکا نے کویت میں حکمرانوں پر تنقید کی پاداش میں شہریوں کی گرفتاریوں اور انھیں عدالتوں سے سزائیں سنائے جانے پراپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم کویت کی حکومت پر زوردیتے ہیں کہ وہ اجتماع ،تنظیم اور اظہار رائے کی آزادی کا احترام کرے''۔

واضح رہے کہ امیر کویت پر تنقید کو ریاستی سلامتی کے خلاف جرم سمجھا جاتا ہے اور قانون کے تحت اس جرم کے مرتکب افراد کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک قید کی سزاسنائی جاسکتی ہے۔ٹویٹر کویت میں بہت مقبول ہے اور بہت سی عوامی شخصیات اور سرکاری عہدے دار حالات حاضرہ پر مباحث، گپ شپ، لطائف اور خبروں کے تبادلے کے لیے اس ویب سائٹ کو استعمال کرتے ہیں لیکن عوامی پیغام رسانی اور سماجی روابط کی اس ویب سائٹ کی وجہ سے بہت سے صارفین اور کویتی حکام آپس میں محاذ آراء بھی ہیں۔

کویت میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کارکنان اور حکومتی مخالفین کی گرفتاریوں کا سلسلہ عام ہے اور ہفتے کے روز حزب اختلاف کے حکومت کے خلاف مظاہرے میں شریک سترافراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان میں سے پچیس کو ٹویٹر پر حکومت پر تنقید کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

چند ماہ قبل شاہی خاندان کے ایک فرد شیخ مشعل کو بھی اپنے سیاسی افکاروخیالات کے اظہار اور ملکی آئین میں ترامیم کے مطالبے کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔انھوں نے اپنی تحریروں میں یہ شکایت کی تھی کہ کویتی آئین میں الصباح خاندان کی صرف ایک ہی شاخ کو اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔یہ تمام شیخ مبارک الکبیر کی آل اولاد ہیں جو سن 1896ء سے 1915ء تک کویت کے حکمران رہے تھے۔ شیخ مشعل مبارک الکبیر کی اولاد سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے آئین میں ترامیم اور سیاسی اصلاحات متعارف کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک کویتی عدالت نے گذشتہ سال مئی میں ایک چھبیس سالہ شہری حماد النقی کو سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اہانت کے جرم میں قصور وار قرار دے کر دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

حمادالنقی پر خلیجی ریاستوں سعودی عرب اور بحرین کے حکمرانوں کی توہین اور بیرون ملک غلط خبریں پھیلانے کے الزام میں بھی فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق ان خبروں کی وجہ سے بیرون ملک کویت کا امیج داغدار ہوا تھا۔

اہل تشیع سے رکھنے والے حماد النقی کو ٹویٹر پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔مجرم کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو ہیک کرلیا گیا تھا لیکن عدالت نے ان کی اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا۔

یادرہے کہ کویت کی پارلیمان نے گذشتہ سال ایک بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت اللہ تعالیٰ، قرآن مجید، تمام انبیاء علیہم السلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم کی توہین کے مرتکب کسی بھی مسلمان کو سزائے موت دی جائے گی۔اس قانون کے تحت جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والے مسلمان کو بھی پھانسی کی سزا دی جائے گی لیکن اگر کوئی غیر مسلم اس دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اسے دس سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔