.

اسامہ بن لادن کا داماد ترکی سے اردن بے دخلی کے بعد گرفتار

سی آئی اے کے ایجنٹ اردن سے امریکا لے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایجنٹوں نے اسامہ بن لادن کے داماد سلیمان ابوغیث کو چند روز قبل ترکی سے بے دخلی کے بعد اردن سے گرفتار کر لیا ہے اور وہ انھیں امریکا لے گئے ہیں۔

سلیمان ابوغیث القاعدہ نیٹ ورک کے سابق ترجمان رہے ہیں۔انھیں سی آئی اے کی خفیہ اطلاع کے بعد انقرہ کے ایک لگژری ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا اورانھیں ترک پولیس نے زیرحراست رکھا تھا جبکہ امریکا نے ترکی سے سلیمان کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ترک روزنامے حریت میں جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ترک حکام نے یکم مارچ کو سلیمان ابوغیث کو بے دخل کرکے اردن کے حوالے کیا تھا۔انھیں کویت واپس بھیجا جانا تھا لیکن سی آئی اے کے ایجنٹوں نے انھیں اردن سے امریکا منتقل کردیا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ مقتول اسامہ بن لادن کے داماد کی گرفتاری اور ملک بدری امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے انقرہ کے دورے کے موقع پر ہوئی تھی۔ترک وزارت خارجہ نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ انقرہ میں امریکی سفارت خانے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ''ہم ان اطلاعات سے آگاہ ہیں''۔

ترکی ابوغیث کو ایک بے ریاست باشندہ خیال کرتا تھا کیونکہ کویت نے 11ستمبر 2001ء کو امریکا پر حملوں کے بعد ان کی شہریت منسوخ کردی تھی۔انھوں نے ویڈیوز میں امریکا پر ان حملوں کا دفاع کیا تھا اور مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔

امریکا ترکی سے سلیمان ابوغیث کو گیارہ ستمبر کے حملوں سے تعلق کے الزام میں حوالے کرنے کا مطالبہ کررہا تھا۔وہ ان حملوں کے بعد القاعدہ کی ایک ویڈیو میں اپنے خسر اسامہ بن لادن کے ساتھ نمودار ہوئے تھے۔

سلیمان کو ایران سے غیرقانونی طور پر ترکی میں داخلے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن انقرہ کی ایک عدالت نے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ انھوں نے ترکی کی سرزمین پر کوئی جرم نہیں کیا تھا۔مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ترکی انھیں امریکا کے حوالے کرنے میں تردد کا شکار تھا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ وہ اس کے ردعمل میں القاعدہ کے حملوں کا ہدف بن سکتا ہے۔