پوپ فرانسیس کی شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے دعا

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ کی طوالت پر تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے اتوار کو ایسٹر کے موقع پر شام کے ''سیاسی حل'' کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ بہت طول پکڑ گیا ہے۔

پوپ فرانسیس نے ویٹی کن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے قریباً ڈھائی لاکھ مسیحیوں سے ان کے مذہبی تیوہار کے موقع پر خطاب کیا ہے۔انھوں نے ''پیارے شام'' میں جاری تنازعے سے متاثر ہونے والے عوام اور مہاجرین کے لیے دعا کی۔انھوں نے کہا کہ ''شام میں کتنا ہی خون بہہ چکا ہے اور بحران کے سیاسی حل کے لیے لوگوں کو اور کتنے مصائب کا شکار ہونا پڑے گا''۔

انھوں نے بے عقیدہ لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ''وہ خدا کی جانب قدم بڑھائیں،وہ ان کا کھلے ہاتھوں کے ساتھ استقبال کرے گا''۔انھوں نے رومن کتھولک چرچ پر بھی زوردیا کہ وہ عام لوگوں اور ضرورت مندوں کے قریب جانے کی کوشش کرے۔

بیونس آئرس سے تعلق رکھنے والے پوپ فرانسیس نے کہا کہ خدا کا پیغام ہر گھر اور ہر خاندان میں پہنچے گا۔خاص طور پر اسپتالوں اور جیلوں میں جہاں لوگ زیادہ مصائب کا شکار ہیں،خدا کا پیغام پہنچایا جائے گا۔

جمعرات کو پوپ نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں نوجوان کی ایک جیل کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں بارہ قیدیوں کے پاؤں دھوئے۔ ان میں دو لڑکیاں اور دو مسلمان قیدی بھی شامل تھے۔ ماضی میں پوپ صرف پادریوں اور کیتھولک سے تعلق رکھنے والے عام آدمیوں ہی کے پاؤں دھوتے رہے تھے۔

جمعہ کو انھوں نے روم میں کولوسیوم میں شمعیں روشن کرنے کی تقریب میں شرکت کی تھی۔اس جگہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں عیسائیوں کو شہید کیا گیا تھا۔وہاں انھوں نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے دعا کی اور ''اپنے مسلمان بھائیوں'' کے ساتھ ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیا۔

رومن کیتھولک کے نئے پاپائے روم نے اپنے منصب پر فائز ہونے کے بعد سے متعدد اصلاحات کی ہیں اورانھوں نے اپنے پیش رو روحانی پیشواؤں کی بعض رسوم کو بھی خیرباد کہہ دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''ہم غریب لوگوں کے لیے غریب چرچ''چاہتے ہیں۔ وہ قبل ازیں اپنے آبائی وطن ارجنٹینا میں ایک اعتدال پسند طرز زندگی پر عمل پیرا تھے۔وہ عام لوگوں میں گھل مل جاتے تھے اور ضرورت مندوں کی احتیاجات پوری کرتے رہتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں