350 برس قدیم ایرانی قالین کی امریکا میں 33 ملین ڈالرز کی کامیاب بولی
قالین امریکی شہری نے1925 میں آرٹ گیلری کو عطیہ کیا تھا
امریکا کے ایک نیلام گھر میں ایران کے صفوی دور میں بنایا گیا 350 برس پرانا 'مونا لیزا کارپٹ' تین کروڑ اڑتیس لاکھ ڈالر کی ریکارڈ قیمت پر فروخت ہوا ہے. اس فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو امریکا کے حالیہ سیلاب متاثرین کی امداد کی جائے گی.
نیویارک کے نیلام گھر سوتھبیز میں اس سترہویں صدی میں تیار کردہ اس قالین کو ایک نامعلوم گاہک نے خریدا ہے۔ اس قالین کی قیمت اس سے پہلے فروخت ہونے والے کسی بھی ایرانی قالین سے تین گنا زیادہ ہے۔
یہ قالین امریکی صعنت کار اور سینیٹر ولیم کلارک کی ملکیت تھا جنہوں نے وصیت کے ذیعے 1925 میں قالین سمیت دیگر نایاب اشیا کو کو کرین آرٹ گیلری کو عطیہ کر دیا تھا۔
اس سے پہلے سال دو ہزار دس میں لندن کے کرسٹی نیلام گھر میں ایک فارسی قالین چھیانوے لاکھ ڈالر کی ریکارڈ قیمت پر فروخت ہوا تھا۔
سوتھبیز نیلام گھر نے اندازہ لگایا تھا کہ یہ قالین تقریباً نوے لاکھ ڈالر تک فروخت ہو گا تاہم نیلامی میں بولی دینے والے چار افراد نے دس بار اس قالین کی قیمت لگائی اور آخر میں ٹیلی فون کے ذریعے سب سے زیادہ قیمت لگائی گئی۔
کوکرین آرٹ گیلری کے ڈائریکٹر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق نیلامی کے نتائج شاندار ہیں۔ آرٹ گیلری نے اس قالین اور دیگر نادر اشیاء کو گودام میں رکھا ہوا تھا۔
یہ قالین سترہویں صدی میں تیار کیا گیا تھا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اسے جنوب مشرقی ایران کے علاقے کرمان میں تیار کیا گیا۔ اسے قدیم ایرانی دستکاری کا شاہکار سمجھا جاتا ہے. قالین کی خوبصورتی اور دلکش فنی باریکیوں کے سبب گیلری نے اسے 'مونا لیزا کارپٹ' کا نام دیا ہے. اس قالین کو آخری بار سال دو ہزار آٹھ میں کوکرین آرٹ گیلری نے نمائش کے لیے پیش کیا تھا۔