.

حکومت مخالف مظاہروں سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے: ایردوآن

احتجاجی مظاہرے ترکی کا عالمی تشخص داغدار کرنے کی سازش کا حصہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ استنبول کے وسطی علاقے گیزی پارک کو خالی کردیں۔انھوں نے اپنی حکومت کے خلاف مظاہروں کو ترکی کے عالمی تشخص کو مجروح کرنے اور معیشت کو نقصان پہنچانے کی سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔

انھوں نے منگل کو اپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) کے پارلیمانی گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''میں انھیں وزیراعظم کے طور پر کہہ رہا ہوں کہ وہ پارک کو خالی کردیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ان واقعات کے ذریعے ترکی کی معیشت کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ترکی کے امیج کو داغدار کیا جارہا ہے''۔

انھوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں کہا کہ ''ان کی حکومت کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں گذشتہ قریباً دوہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک پولیس افسراور تین مظاہرین جان کی بازی ہار گئے ہیں''۔

تاہم ترکی کی ڈاکٹروں کی یونین نے مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد تین بتائی ہے اور پرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

استبول میں ایک پارک اور خلافت عثمانیہ دور کی فوجی بیرکوں کی تعمیر کے متنازعہ منصوبے کے خلاف ترکی کے مختلف شہروں میں اکتیس مئی سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔احتجاجی مظاہرین حکومت سے اس منصوبے کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن وزیراعظم رجب طیب ایردوآن ان کے اس مطالبے کو مسترد کرچکے ہیں۔

استنبول کا تقسیم اسکوائر حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔آج صبح ترک پولیس کے سیکڑوں اہلکاروں نے تقسیم اسکوائر پر دھاوا بول دیا اور وہاں جمع مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے اور پانی پھینکا۔پولیس نے تقسیم چوک اور اس کے آس پاس لگے مظاہرین کے بینرز بھی اتار دیے ہیں۔