.

افغان طالبان کا قطر میں رابطہ دفتر کھل گیا، امریکا کا خیرمقدم

امریکا کی جانب سے طالبان سے جلد براہ راست بات چیت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اپنا سیاسی دفتر کھول لیا ہے جبکہ امریکا نے توقع ظاہر کی ہے کہ آیندہ چند روز میں اس کی طالبان سے براہ راست بات چیت شروع ہوجائے گی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی اطلاع کے مطابق طالبان کے نمائندوں اور قطری حکام نے منگل کو دوحہ میں ''امارت اسلامی افغانستان کے نام سے سیاسی دفتر کھولا ہے''۔اس موقع پر طالبان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی غیر ملک کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اس دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''افغان مسئلے کے پرامن حل کے لیے عالمی برادری اور افغان گروپوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے''۔

امریکا نے طالبان کی جانب سے رابطہ دفتر کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ایک سنئیر امریکی عہدے دار نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ ''امریکا کی کئی سال کے بعد آنے والے دنوں میں طالبان سے پہلی ملاقات ہوگی۔امریکا اس دفتر کو طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ ابلاغ کے لیے استعمال کرے گا''۔اس عہدے دار کے بہ قول یہ ایک مشکل شاہراہ کا نقطہ آغاز ہے۔

کابل میں ایک افغان عہدے دار نے اس بات کی تصدیق کی ہے دوحہ میں امریکا کے دباؤ کے تحت دفتر کھولا گیا ہے۔ قطر کے معاون وزیر خارجہ علی بن فہد الحجری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''دفتر کے قیام سے امن عمل کو آگے بڑھانے اور افغانستان کے اندر یا باہر فوجی سرگرمی یا تشدد کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی''۔

طالبان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''امارت اسلامی افغانستان کسی گروپ کو دوسرے ممالک کو کسی خطرے سے دوچار کرنے یا کسی دوسرے ملک کو ڈرانے دھمکانے کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم افغان مسئلے کے ایسے سیاسی اور پُرامن حل کی حمایت کرتے ہیں جس سے افغانستان پر قبضے کا خاتمہ ہو اور اس کی سلامتی اور اسلامی نظام کے نفاذ کی ضمانت ملے''۔

بیان کے مطابق دوحہ دفتر سے طالبان کو دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں مدد ملے گی،وہ وہاں دوسرے افغانوں سے ملاقات کریں گے اوراس سے اقوام متحدہ ،دوسرے عالمی اداروں اور میڈیا کے ساتھ روابطہ استوار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ اکتوبر2001ء میں امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کی افغانستان پر چڑھائی اوراس کے نتیجے میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ طالبان کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے گا۔افغان طالبان ماضی میں امریکا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت سے قبل افغانستان سے تمام غیرملکی فوجوں کے انخلاء کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

امریکا نے افغانستان میں گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ چند ماہ قبل بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اس کی دونوں جانب سے باقاعدہ تصدیق کی جاچکی ہے۔ امریکا کے پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی مارک گراسمین نے جنوری کے آخر میں قطر میں طالبان کی قیادت سے بات چیت کی تھی۔

افغان صدر حامد کرزئی ملک میں قیام امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے امریکی منصوبے کی حمایت کر چکے ہیں لیکن وہ اپنی اس تشویش کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے عمل میں انھیں سائیڈلائن کیا جاسکتا ہے۔تاہم امریکا نے حامدکرزئی کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر طالبان سے بات چیت آگے بڑھتی ہے تو انھیں ہی اس عمل میں قائدانہ کردار سونپا جائے گا لیکن اس کے باوجود افغان حکومت کا موقف ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں افغانستان کو ابھی سے قائدانہ کردار سونپا جانا چاہیے۔