.

برازیل میں فٹبال عالمی کپ کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہرے

عالمی مقابلوں کی ميزبانی کے ليے عوام پر بھاری ٹيکس عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی امريکا کے ملک برازيل ميں گزشتہ روز بھی کرپشن، بھاری ٹيکسوں اور معاشی ناانصافيوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ریو ڈی جنیرو کی سڑکوں پر جمعرات کی رات قريب تين لاکھ مظاہرين جمع تھے۔

يہ مظاہرے برازيل کے کم از کم 80 شہروں ميں جاری ہيں۔ فرانسیسی نيوز ايجنسی 'اے ايف پی' کے مطابق ملک بھر سے قريب آٹھ لاکھ افراد ان مظاہروں ميں شرکت کر رہے ہيں۔ گزشتہ رات گئے ریو ڈی جنیرو کی سڑکوں پر قريب تين لاکھ مظاہرين جمع تھے۔ ابتداء ميں يہ مظاہرہ پرامن رہا تاہم بعد میں چند ايک مقامات پر پرتشدد واقعات کی رپورٹيں موصول ہوئيں اور پوليس کو عوام کو منتشر کرنے کے ليے آنسو گيس اور ديگر 'حربے' استعمال کرنے پڑے۔ جواب ميں مظاہرين نے پوليس پر پتھراؤ کيا اور وہ شہر کے ميئر کے دفتر کی جانب گامزن رہے۔

ریو ڈی جنیرو کے علاوہ سلواڈور اور برازیلیہ سے بھی مظاہرين اور پوليس کے درميان کشيدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہيں۔ ہنگامہ آرائی ميں ايک شخص کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے ملکی صدر دلما روسیف نے مظاہرین کی تعریف کی اور کہا کہ اس سے ملک میں جمہوریت کو تقویت ملی ہے۔ حالات کے پيش نظر انہوں نے اپنا اگلے ہفتے کے دوران طے شدہ جاپان کا دورہ بھی ملتوی کر ديا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے کابينہ کا ايک ہنگامی اجلاس بھی طلب کر ليا ہے۔

'اے ايف پی' کے مطابق مظاہرين ملکی ميڈيا اور بالخصوص کافی اثر و رسوخ کے حامل ’گلوبو نيٹ ورک‘ سے بھی کافی ناخوش ہيں۔ مظاہرين کا ماننا ہے کہ اس نيٹ ورک نے لوگوں کی اس احتجاجی تحريک کو کم کر کے پيش کيا ہے۔

اس سے پہلے بدھ کو رات گئے ملکی انتظاميہ نے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرايوں ميں زيادتی کے فيصلے کو واپس لے ليا تھا۔ اس حکومتی اقدام کا مقصد عوام کے درميان پائی جانے والے برہمی کو کم کرنا تھا۔ تاہم اس کا کوئی زيادہ اثر نہيں ہوا۔ واضح رہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرايوں ميں اضافے کے اسی حکومتی فيصلے کے سبب گزشتہ ہفتے ساؤ پاؤلو سے ان احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

برازيل اس وقت فٹ بال کنفيڈريشن کپ کی بھی ميزبانی کر رہا ہے۔ يہ ملک اگلے سال وہاں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ اور سن 2016 ميں ہونے والے اولمپکس کی تياريوں ميں مصروف ہے اور برازيل کی عوام کا ماننا ہے کہ ان بڑے ٹورنامنٹس کی ميزبانی کے ليے جاری تياريوں کی وجہ سے عوام کو بھاری ٹيکسوں کی شرح کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مظاہروں ميں شامل نوجوانوں کی ايک بہت بڑی تعداد کا موقف ہے کہ معاشرتی بہتری کے منصوبوں کی بجائے حکومت تمام تر سرمايہ کاری ان ٹورنامنٹس کی تياری پر کر رہی ہے۔