برطانیہ میں رمضان کے دوران سعودی کھجور کی طلب میں غیرمعولی اضافہ

اسرائیل کھجور بائیکاٹ کی مہم مؤثر ثابت ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ماہ صیام کے دوران برطانیہ میں اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ کی مہم بڑے پیمانے پرمؤثرثابت ہوئی ہے۔ دوسری جانب سعودی کھجوروں کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں مقیم مسلمانوں اورعرب تارکین وطن کی جانب سے رمضان المبارک سے قبل ہی اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی گئی تھی جو مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ لندن میں متعین سعودی سفیر اور کھجوروں کے تاجروں نے بھی مملکت کی کجھوروں کی بڑی مقدارمیں طلب اور برآمدات میں اضافے کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی کی نسبت امسال ماہ صیام کے دوران برطانیہ میں سعودی عرب سے لائی گئی کھجوریں مارکیٹ میں چھائی ہوئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں روایتی طورپر تیونس، ایران، سعودی عرب اور اسرائیل کی کھجوریں زیادہ مقبول سمجھی جاتی ہیں اور ماہ صیام میں ان ہی ممالک کی چاندی ہوتی ہے۔ امسال اسرائیلی کھجوروں کی بائیکاٹ مہم نے اپنا خوب رنگ دکھایا ہے، جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی مختلف اقسام کی کھجوریں سب سے زیادہ مقبول رہی ہیں۔ ایران اور تیونس کی برآمد شدہ کھجوریں بھی دوسرے اور تیسرے نمبروں پر رہیں۔

لندن میں ڈرائی فروٹ کمپنی "ویرائٹی فوڈ" کے ڈائریکٹر جنرل ڈبین میٹا نے نے بتایا کہ ملک کے مختلف اسٹوروں پر رواں ماہ صیام میں جتنی زیادہ پذیرائی سعودی کھجوروں کو ملی ہے، اتنی کسی دوسرے ملک کی کھجوروں کو حاصل نہیں ہوسکی۔ گاہک سعودی عرب کے نام کے ساتھ کھجوریں تلاش کرتے دکھائی دیے ہیں۔

ایک سوال پر مسٹر میٹا کا کہنا تھا کہ سعودی کھجوروں کی طلب صرف ماہ صیام میں مسلمان اور عرب شہریوں تک محدود نہیں بلکہ سال کے دیگرایام میں غیرمسلم شہری بھی سعودی کھجوروں کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔

برطانیہ میں متعین سعودی سفیر عزت مآب شہزادہ محمد بن نواف نے ماہ صیام کے آغاز ہی میں بتایا تھا کہ بابرکت مہینے میں سعودی عرب سے بڑی مقدار میں کھجوریں برآمد کی جا رہی ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ ابتدائی طورپر سعودی عرب کی مہنگی ترین کھجور"عجوہ" تیرہ سو ٹن لائی جا رہی ہے۔ ماہ رمضان میں مزید کھجوریں بھی منگوائی جاسکتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانیہ میں فلسطینیوں کے حامی اور اسرائیل مخالف مسلمانوں اور عرب شہریوں کی ایک بڑی تعداد فلسطینیوں کی حمایت میں سرگرم رہتی ہے۔ یہ لوگ اسرائیل کی فلسطینیوں کےخلاف ریاستی دہشت گردی کے ردعمل میں صہیونی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہمات چلاتے رہتے ہیں۔ امسال رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مسلمان شہریوں نے اسرائیلی کھجور کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔ بائیکاٹ کی یہ مہم برطانیہ کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں کی گلی کوچوں میں چلائی گئی جو نہایت موثرثابت ہوئی ہے۔

لندن میں انسانی حقوق کی ایک کارکن سارہ ابس نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ اسرائیلی کھجوروں کی بائیکاٹ کی ان کی مہم کامیاب رہی ہے۔ ان کا مقصد ماہ مقدس میں اسرائیل سے آنے والی کھجوروں کی خریدو فروخت کو کم ترین سطح پرلانا تھا۔ الحمد اللہ ہم اس مقصد میں کامیاب رہے ہیں۔ اس وقت اسرائیلی کھجوروں پر صرف مکھیاں بیٹھتی ہیں انہیں خریدنے والا کوئی نہیں ملتا"۔

اسرائیلی بائیکاٹ کے طریقہ کارسے متعلق ایک سوال کے جواب میں"یکجہتی کونسل برائے فلسطین" کی عہدیدار مسز سارہ کا کہنا تھا کہ مہم کو کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ہم نے مساجد میں اعلانات کرائے، مساجد اور مسلمانوں کے مذہبی مراکز، ہوٹلوں اور پبلک مقامات پر بائیکاٹ مہم کے پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔ ہمیں بالعموم غیرمسلم اور بالخصوص مسلمانوں کی جانب سے نہایت مثبت جواب ملا جس کے نتیجے میں برطانوی مارکیٹ میں اسرائیلی کھجوروں کے تاجروں کی امیدوں پراوس پڑ گئی۔ ساہ آبس کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کئی دیگرسماجی تنظیموں کے تعاون سے سال نو کی تقریبات اور دیگر اہم مواقع پربھی اسرائیل کی دیگر مصنوعات کے بائیکاٹ کی بھی مہمات چلائے گی۔

ادھر برطانیہ میں فلسطین کلب کے ترجمان زاھر بیراوی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ کی مہم کسی ایک تنظیم کی مساعی کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی تنظٰیموں نے مل کریہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مہم کو کامیاب بنانے میں برطانوی مسلمانوں اور فلسطینیوں سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں نے ناقابل فراموش تعاون کیا ہے۔ زاہر بیراوی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں یورپی یونین کی جانب سےمقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے اعلان نے بھی ہماری مہم پرمثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں