.

عراق میں دہشت گردی کرنے والے ’اسلام کے دشمن‘ ہیں: امریکا

سنی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاٶن کے بعد تشدد کے واقعات میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراق میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’اسلام دشمن‘ قرار دیا ہے۔ اس غیرمعمولی بیان میں کہا گیا ہے کہ بم دھماکوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنانا ایک ’بزدلانہ‘ عمل ہے۔

یاد رہے عراق میں ہفتے کے روز متعدد مقامات پر ہونے والے کار بم دھماکوں میں کم از کم 69 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ عید کے موقع پر شیعہ اور سنی دونوں مسالک سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت والے علاقوں میں ہونے والے ان حملوں میں کیفے، ریستورانوں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا۔

امریکی نیوز ایجنسی 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ہفتے کے روز بغداد سمیت عراق بھر میں پیش آنے والے واقعات میں اتنی زیادہ ہلاکتوں کے بعد یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ عراق تشدد کے ایک لامتناہی سلسلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اپریل میں حکومت کی جانب سے سنی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے عراق بھر میں پرتشدد واقعات میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہ رمضان میں بھی عراق میں متعدد مقامات پر پرتشدد کارروائیوں میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے۔

ان واقعات کے بعد کہا جا رہا ہے کہ عراق تیزی سے فرقہ وارنہ تشدد کے اسی سلسلے کی جانب بڑھ رہا ہے، جو سن 2006 اور 2007 میں دیکھنے میں آیا تھا۔ سن 2007ء کے بعد رواں برس رمضان سب سے زیادہ خونریز رہا، جب مختلف واقعات میں تقریبا 671 افراد ہلاک ہوئے۔

عید الفطر کے موقع پر عراقی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ عوام کی جان اور املاک کی حفاظت کے لیے کڑے انتظامات کر رہی ہیں تاکہ اس تہوار کے موقع پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہفتے کے روز زیادہ تر بم دھماکے ایک گھنٹے کے اندر ہوئے، جس سے ان حملوں میں باہمی ربط کا پتا چلتا ہے۔

فی الحال کسی گروپ یا تنظیم کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے، تاہم ماضی میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں القاعدہ ملوث رہی ہے۔