پاکستان: صوبہ خیبر کی حکمران اور سابق حکمران جماعت ایک کشتی کی سوار

پی ٹی آئی کے وزیر اور اے این پی کے سابق وزیر اعلی کے والد کی سینیٹر شپ کو خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف کی قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں سے جبکہ سابق حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو سینیٹ کی ایک نشست سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔ تحریک انصاف جسے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں ہی ضمنی انتخابات میں سیاسی سطح پر دھچکے اور پارٹی کے اندر سخت مایوسی کے شکار کارکنوں کا سامنا ہے صوبے کے ہزارہ ڈویژن میں قومی و صوبائی نشستوں کے حوالے سے مبینہ جعلی ڈگریوں اور انتخابی دھاندلیوں کے باعث مشکلات میں گھر سکتی ہے۔

لیکن عوامی نیشنل پارٹی کو سینیٹ میں نشست کی کمی کا سامنا کسی اور کی وجہ سے نہیں سابق وزیرا علی کے پی کے امیر حیدر ہوتی کے والد اور بیک وقت کئی بیویوں کے شوہراعظم ہوتی کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ اعظ٘م ہوتی جو پاکستان میں بابا ایزی لوڈ کے نام سے معروف ہی ں،شادیوں کے حوالے سے بھی ایزی لوڈ شہرت رکھتے ہیں۔ وہ ان دنوں اپنی سابق بنک آفیسر اہلیہ کے خلاف بعض مبینہ انکوائریوں کے شروع ہو جانے پر اسے ساتھ لے کر لندن چلے گئے ہیں۔

لا محالہ اعظم ہوتی کی نشست خالی ہونے کا فائدہ تحریک انصاف کو ہو گا، جس کی سینیٹ میں نمائندگی کی کھڑکی کھل جائے گی، تاہم تحریک انصاف کی سینیٹ کی لاٹری نکلنے سے پہلے اسے اپنی تین نشستوں کے ساتھ ساتھ ساکھ کے حوالے سے بھی مزید احساس محرومی کا سامنا کرنا ہو گا۔

تحریک انصاف کے لیے ان تین نشستوں میں سے ایک نشست قومی اسمبلی کے حلقہ 19 جیتنے والے ہزارہ ڈویژن کے راجہ عامر زمان کی نشست ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ نواز گروپ کے امیدوار اور سابق فوجی امر ایوب خان کے پوتے عمر ایوب خان کو شکست دینے کے لیے انتخابی عملے کے ساتھ ساز باز کی اور 1400 ووٹوں سے کامیاب ہو گئے۔ الیکشن کمیشن نے بھی اس حوالے سے عمر ایوب کی شکایت کو در خور اعتنا نہ سمجھا اور ووٹوں کی گنتی دوبارہ کرانے کا حکم نہ دیا، تاہم اب یہ معاملہ الیکشن ٹریبیونل کے سامنے ہے۔ الیکشن ٹریبیونل نے صرف تین روز قبل اس حلقے میں کسی دھاندلی کا جائزہ لینے کے لیے ووٹوں کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ہزارہ ڈویژن میں ہی جس دوسری نشست کے چھننے کا تحریک انصاف کو خطرہ ہے وہ صوبائی اسمبلی حلقہ 50 سے متعلق ہے۔ اس نشست پر عمر ایوب کے کزن یوسف ایوب نے تحریک انصاف کے امیدوار کے طور پر مسلم لیگ نواز کے اسد یوسف کو 2000 ووٹوں سے شکست دی۔ لیکن اسد یوسف نے پی ٹی آئی کے امیدوار کی بی آے کی ڈگری کی اصلیت چیلنج کر دی۔ اس جعلی ڈگری کیس کی سماعت کے سلسلے میں ٹریبیونل نے یوسف ایوب کو جو آجکل صوبائی وزیر ہے 27 اگست کو اصا لتا طلب کر لیا ہے۔

پِی ٹی آئی کی تیسری نشست جو خطرے میں ہو سکتی ہے۔ وہ جہازوں والے فیصل زمان کی پی کے 52 والی نشست ہے۔ فیصل زمان نے یہ نشست سابق وزیر اعلی پیر صابر شاہ سے جیتی ہے، لیکن فیصل زمان کی ڈگری بھی مبینہ طور پر جعلی ہے ۔ فیصل زمان نے یہ ڈگری نائیجیریا سے حاصل کر رکھی ہے۔ اس ڈگری کے بارے میں الیکشن ٹریبیونل نے بھی زیادہ اطیمینان ظاہر نہیں کیا، تاہم اب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہری پور اس ڈگری کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس کیس کے آگے بڑھنے میں کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ لیکن فیصلوں کی ایک تلوار ہے کہ تحریک انصاف پر لٹک رہی ہے، جس کے سربراہ عمران خان خود بھی توہین عدالت کے کیس میں عدالت کے سامنے ہیں۔

دوسری جانب سینیٹر اعظم ہوتی ہیں۔ ان پر الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ دونوں کو دھوکہ دینے کا الزام ہے، کہ موصوف نیب سےدو الگ الگ مقدمات میں سزا یافتہ ہونے کے بعد نہ صرف مفرور ہیں بلکہ پارٹی سربراہ اسفندیار ولی اور امیر حیدر ہوتی کی مدد سے مدد سے سینیٹ کے رکن بھی بن چکے ہیں۔ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں قومی اداروں کو دھوکہ دینے کے مقدمے کے علاوہ آئندہ اسی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی کو مبینہ طور پر دھوکہ دینے اور توہین عدالت کے الزام کا بھی سامنا ہو گا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق اس مبینہ دھوکہ دہی میں سہیل نامی عدالتی اہلکار نے بھی اعظم ہوتی کے وکلاء کی از بس مدد کی ہے ۔

بظاہر صوبہ کے پی کے میں حکمران جماعت اور سابق حکمران جماعت دونوں کی ساکھ اوربعض نشستوں کے لیے ایک ہی طرح کے چیلنج ہیں ۔ لیکن سابق وزیر اعلی امیر حیدر ہوتی کے والد اعظم ہوتی کا معاملہ زیادہ دلچسپ ہے کہ وہ اپنی اہلیہ شمیم کیانی کو گیارہ سال سے حق مہر سے اور تقریبا ایک سال سے نان ونفقہ سے بھی محروم رکھ کر عدالت میں کیس بھگت رہے ہیں ۔ ان کے ہاتھوں رواں سال کے آغاز میں زخمی ہونے والے ان کے مضروب وکیل کوثر علی شاہ اور سید نایاب گردیزی انہیں قانونی معاونت دے رہے ہیں ۔ البتہ توہین عدالت کے کیس میں ان کا وکیل کون بنتا اس کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں