.

شام پر حملے سے متعلق کانگریس رائے شماری ملتوی کر دے: اوباما

"کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کی سفارتی کوششیں کو وقت دینا چاہتا ہوں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ شام کے خلاف ممکنہ عسکری کارروائی کے معاملے پر کانگريس ميں ہونے والی رائے شماری کو ملتوی کرنے کا فيصلہ کر چکے ہيں تاکہ کيميائی ہتھياروں کو تلف کرنے سے متعلق سفارتی کوششوں کو وقت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا دنيا کی پوليس نہيں ہے ليکن شام کے معاملے پر امريکی نظريات، معيارات اور امريکا کی قومی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

شام کے خلاف ممکنہ عسکری کارروائی کے تناظر ميں سامنے آنے والے سوالات کا جواب دينے کے ليے امريکی صدر باراک اوباما نے دارالحکومت واشنگٹن ميں منگل کی شب اپنے عوام سے خطاب کيا، جسے ٹيلی وژن پر براہ راست نشر کيا گيا۔ سولہ منٹ طويل اس تقرير ميں ويسے تو امريکی صدر نے کوئی نئی بات نہيں کی ليکن انہوں نے اپنے موقف کی واضح الفاظ ميں وضاحت کی۔

صدر اوباما نے اس تقرير ميں امريکی عوام پر زور ديا کہ وہ شام ميں ان کی ممکنہ محدود عسکری کارروائی کے ارادے کی حمايت کريں کيونکہ يہ بات ابھی واضح نہيں کہ روس کے تجويز کردہ منصوبے پر عمل درآمد ہو سکے گا يا نہيں۔ اسی سلسلے ميں امريکی وزير خارجہ جان کيری بھی جمعرات کو اپنے روسی ہم منصب سيرگئی لاوروف سے ملاقات کريں گے۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر اپنے روسی ہم منصب ولادی مير پوٹن کے ساتھ رابطے ميں رہيں گے۔ امريکی صدر کے بقول اس بارے ميں کوئی شک نہيں ہے کہ شام ميں کيميائی ہتھيار بالخصوص زيريلی گيس استعمال کی گئی اور اس کے پيچھے اسد انتظاميہ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’حقائق کو جھٹلايا نہيں جا سکتا، تاہم تقرير کے دوران اوباما نے يہ يقين دہانی بھی کرائی کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ آنے تک کوئی کارروائی نہيں کی جائے گی۔

امريکی صدر نے کہا کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہيں کہ ان کے عوام جنگ سے تھک چکے ہيں۔ انہوں نے يقين دہانی کرائی کہ امريکا شام ميں زمينی کارروائی کرنے کا ارادہ نہيں رکھتا اور اگر دمشق حکومت کے خلاف کوئی کارروائی کی بھی گئی، تو وہ فضائی حملوں کی صورت ميں انتہائی محدود ہو گی۔ صدر اوباما نے واضح کيا کہ اس ممکنہ اقدام کا مقصد شامی صدر بشار الاسد کی فورسز کی جانب سے مستقبل ميں کوئی ممکنہ کيميائی حملہ کرنے کی صلاحيت ميں کمی پيدا کرنا اور انہيں سخت پيغام دينا ہے۔