سلامتی کونسل میں شام کے خلاف فرانس کی قرارداد پیش

یو این رپورٹ سے شام میں کیمیاوی حملے کی تصدیق ہو جائے گی: مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے کیمیاوی ہتھیاروں سے متعلق قرارداد پیش کردی ہے جس میں خانہ جنگی کا شکار ملک کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے تمام عناصر کے خاتمے اور تباہی کی نگرانی کے لیے عالمی ادارے کے معائنہ کار تعینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

فرانس کی مجوزہ قرارداد کے العربیہ کو ملنے والے مسودے میں شام سے کہا گیا ہے کہ وہ عالمی معائنہ کاروں کو ان کے انتخاب کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کی جگہوں کے اچانک اور بلا روک ٹوک دوروں کی اجازت دے۔

مسودے کے مطابق اس عمل سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی اور کوئی پیدوار نہیں ہورہی ہے اور نہ انھیں استعمال یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جارہا ہے۔

مجوزہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اگر شام ان اقدامات پر عمل درآمد نہیں کرتا تو پھر اس کے خلاف سلامتی کونسل باب سات کے تحت مزید اقدامات کرے۔باب سات کے تحت سلامتی کونسل کو فوجی طاقت کے استعمال کا بھی حق حاصل ہے۔ماضی قریب میں لیبیا کے خلاف ایسی ہی قرارداد کے تحت فوجی کارروائی کی گئی تھی۔

تاہم امریکا کے ایک سنئیر عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس قرارداد میں روس کی مخالفت کی وجہ سے شام کے خلاف ممکنہ فوجی طاقت کے استعمال کی شق شامل نہیں کی جائے گی۔

اس عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بریفنگ میں بتایا کہ امریکا اس کے بجائے اس بات پر زوردے گا کہ شام اگر کیمیاوی ہتھیاروں سے دستبردار ہونے سے پس وپیش سے کام لیتا ہے تو پھر اس کو وسیع تر مضمرات کا سامنا کرنا ہوگا۔ایک عہدے دار کے مطابق ان مضمرات میں پابندیاں شامل ہو سکتی ہیں۔

امریکا اقوام متحدہ سے ماورا بھی شام کے خلاف 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکا ہے اور امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما اب بھی یہ آپشن استعمال کرسکتے ہیں۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے کی رپورٹ سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ شام میں کیمیاوی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔تاہم انھوں نے یہ نہیں کہا کہ آیا دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ میں یہ ہتھیار شامی رجیم نے استعمال کیے تھے یا باغی جنگجوؤں نے؟

بین کی مون نے مزید کہا کہ ''شامی صدر بشارالاسد نے انسانیت کے خلاف بہت سے جرائم کا ارتکاب کیا ہے''۔سویڈن سے تعلق رکھنے والے ماہر آکے سیل اسٹارم کی قیادت میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی ٹیم شام سے نمونے اکٹھے کرنے کے بعد اب اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے رہی ہے اور یہ آیندہ ہفتے جاری کردی جائے گی۔تاہم اس رپورٹ میں واضح طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ غوطہ میں کیمیائی حملے کا خانہ جنگی کا کونسا فریق ذمے دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں