شام: مسلح جنگ کے ساتھ باغیوں اور اسدی فوج کا ''جنسی جہاد''

سرکاری ٹی وی کا باغیوں پر دو شیزاؤں سے جہاد النکاح کے نام پر جنسی تلذذ کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

شام میں جاری خانہ جنگی کے ساتھ اب حالیہ ہفتوں میں وقتی جنسی تلذذ کے لیے جہاد کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے اور اس کو ''جہاد النکاح'' کا نام دیا گیا ہے۔شامی اور عالمی میڈیا پر اس نام نہاد ''جہاد النکاح'' کا خوب چرچا کیا جارہا ہے اور صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذآراء باغی جنگجوؤں پر اس بدکرداری میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹی وی نے ایسی دوشیزاؤں اور عورتوں کے آن کیمرا بیانات پر مبنی ایک رپورٹ نشر کی ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ باغیوں نے کس طرح ان کی آبروریزی کی تھی یا پھر وہ القاعدہ سے وابستہ گروپوں کے جنگجوؤں کی جنسی جہاد کے نام تسکین کا ساماں کرتی رہی ہیں۔

سرکاری ٹی وی نے تو باغیوں پر ان عورتوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا ہے لیکن ان کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ انھیں باغیوں نے نہیں بلکہ شامی سکیورٹی فورسز نے اغوا کیا تھا جبکہ بعض لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انھیں ان کے اپنے ہی والد یا دوسرے خاندان والوں نے باغیوں کے حوالے کیا تھا۔

روان قداح نامی ایسی ہی ایک اٹھارہ سالہ دوشیزہ نے آن کیمرا اپنی آپ بیتی یوں بیان کی:''میرے والد نے مجھ سے کہا کہ جاؤ اور غسل کر لو۔جب میں غسل کررہی تھی تواس دوران پچاس سال کی عمر کا ایک شخص آن دھمکا،اس نے اس وقت صرف زیرجامہ پہن رکھا تھا۔اس نے مجھے بالوں سے پکڑا اور کمرے میں لے گیا۔میں چیخ چلا رہی تھی اور میرا والد یہ سب کچھ سن رہا تھا لیکن اس نے کچھ نہیں کیا''۔اس کا کہنا تھا کہ اس کے والد نے اس کی عزت باغیوں کے ہاتھ فروخت کردی تھی۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کی ان ویڈیوز کے قطع وبرید سے پاک ورژن سے ظاہر ہورہا ہے کہ پس منظر میں دوسرے افراد ہدایت کاری کررہے ہیں اور ان لڑکیوں کو بتا رہے کہ انھوں نے کس طرح یہ بیانات پڑھنے ہیں۔روان قداح کا سرکاری ٹی وی سے تو مذکورہ ریکارڈ بیان نشر کیا گیا ہے لیکن اس کے خاندان نے ایک مختلف کہانی بیان کی ہے۔

اس شامی خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو گذشتہ سال نومبر میں ان کے آبائِی شہر درعا سے اسکول سے واپسی کے وقت اغوا کیا گیا تھا۔اس کے اچانک لاپتا ہونے کے بعد ایک ویب سائٹ ''آواز'' پر مہم چلائی گئی تھی۔

شام کے مشرقی شہر دیرالزور سے تعلق رکھنے والی لڑکی سارہ خالد العلاوو کا بھی سرکاری ٹی وی سے بیان نشر کیا گیا ہے۔اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ سے تعلق رکھتی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ وہ ''جہاد النکاح'' کے نام پر باغیوں کی جنسی ضروریات کو پورا کرتی رہی ہے۔اس کیس میں بھی اس لڑکی کے خاندان نے سرکاری ٹی وی کے برعکس کہانی بیان کی ہے۔علاوو خاندان کا کہنا ہے کہ''ان کی بیٹی کو جامعہ دمشق کے کیمپس سے صدربشارالاسد کے خلاف بغاوت کی حمایت میں رائے کے اظہار کے بعد اغوا کر لیا گیا تھا۔

العربیہ کو ملنے والی ایک اور ویڈیو میں ایک شامی لڑکی کیمرے کے پیچھے کھڑے لوگوں سے کہہ رہی ہے کہ وہ مہینے کی 18 تاریخ کی تصدیق کریں۔یہ وہ تاریخ تھی جب باغیوں نے مبینہ طور پر اس کی آبروریزی کی تھی۔

شامی لڑکیوں سے پہلے تیونسی دوشیزاؤں کے جہاد النکاح میں ملوث ہونے کی رپورٹس منظرعام آچکی ہیں۔تیونس کی خواتین کی وزارت نے حال ہی میں کہا ہے کہ ''وہ تیونسی دوشیزاؤں کوشام میں باغی جنگجوؤں کی جنسی تسکین کے لیے جانے سے روکنے کے لیے منصوبہ بنا رہی ہے''۔

تیونس کے وزیرداخلہ لطفی بن جدو نے چند روز قبل شام میں جہاد النکاح یا جنسی جہاد کی سب سے پہلے واضح الفاظ میں اطلاع دی تھی۔انھوں نے 19 ستمبر کو دستور ساز اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں ''جنسی جہاد'' کے لیے جانے والی تیونسی لڑکیاں حاملہ ہو کر وہاں سے واپس آرہی ہیں۔ وہاں تیونسی لڑکیوں کا بیس، تیس اور ایک سو تک باغیوں سے جنسی رابطہ ہوا تھا اور وہ حمل کی صورت میں اس کا پھل لے کر وطن لوٹ آئی ہیں ،مگراب ہم خاموش ہیں اور کچھ بھی نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ بعض سخت گیر سلفی وقتی جنسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وقتی شادی یا ''جہاد النکاح'' کی اجازت دینے کے حق میں ہیں ورنہ شریعت میں ایسی کسی شادی کا کوئی تصور نہیں ہے اور اس طرح کے جنسی تعلقات زنا اور قحبہ گری کے زمرے میں آتے ہیں۔

تیونس کے سابق مفتی اعظم شیخ عثمان بطخ نے اپریل میں ایک بیان میں بتایا تھا کہ تیرہ تیونسی لڑکیوں کو بے وقوف بناکر شام لے جایا گیا ہے تا کہ وہ وہاں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی جنسی تسکین کرسکیں۔انھوں نے اس نام نہاد جنسی جہاد کو قحبہ گری کی ایک شکل قراردیا تھا۔انھیں اس بیان کے کچھ عرصے کے بعد ہی فارغ کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں